واشنگٹن محتاط رہے، ہماری افواج جواب دینے کے لیے تیار ہیں: قالیباف، ٹرمپ کو جواب

ٹرمپ نے ایران کو تباہ کرنے کی دھمکی دی اور ہرمز پر کنٹرول حاصل کرنے کا عندیہ دیا تھا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے دوبارہ بمباری کرنے کی حالیہ دھمکیوں کے جواب میں ایرانی مجلس شوریٰ کے سپیکر اور چیف مذاکرات کار باقر قاليباف نے اصرار کیا کہ امریکہ کو اپنے بیانات میں محتاط رہنا چاہیے کیونکہ ایرانی مسلح افواج جواب دینے کے لیے تیار ہیں۔

قاليباف نے واشنگٹن کو اپنے بیانات کے بارے میں محتاط رہنے کا مشورہ بھی دیا۔ یہ بیان دونوں فریقوں کے مابین سوئٹزرلینڈ میں نئے مذاکرات کے آغاز کے ساتھ سامنے آیا ہے۔

باقر قاليباف نے ’’ ایکس‘‘پر لکھا کہ کیا وہ یہ نہیں دیکھ رہے کہ اگر ان کی دھمکیوں کا کوئی اثر ہوتا، تو کیا وہ اب مایوسی کی حالت کو پہنچتے؟ ہم امریکی دھمکیوں کو خاطر میں نہیں لاتے۔ ان کے لیے بہتر ہے کہ وہ جو بیان دے رہے ہیں اس پر غور کریں، ہماری مسلح افواج ان کو مختلف انداز میں جواب دینے کے لیے تیار ہیں، وہ جو بھی کہیں، ہم ہی اقدام کا آغاز کرتے ہیں۔

اس سے قبل ایرانی نیوز ایجنسی "تسنیم" نے اتوار کو رپورٹ کیا تھا کہ سوئٹزرلینڈ میں جاری مذاکرات میں شریک ایرانی وفد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے دیے گئے حالیہ بیانات اور دھمکیوں کا جواب دینے کے اختیارات کا جائزہ لے رہا ہے۔ ایرانی وفد کے ارکان دونوں فریقوں کے مابین مذاکرات کے تسلسل کے ساتھ ساتھ کشیدہ ماحول کے سائے میں پیش کیے گئے موقف اور امریکی دباؤ سے نمٹنے کے طریقہ کار کا جائزہ لینے میں مصروف ہیں۔

کچھ ہی دیر قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ضرورت پڑنے پر امریکہ کی طرف سے آبنائے ہرمز پر کنٹرول حاصل کرنے کے امکان کا اشارہ دیا اور سوئٹزرلینڈ میں دونوں فریقوں کے درمیان جاری مذاکرات کی ناکامی کی صورت میں ایران کو تباہ کرنے کی دھمکی دی ہے۔

ٹرمپ نے "فوکس نیوز" کو بتایا کہ اگر وہ کسی معاہدے پر نہ پہنچے تو میں ایران کو تباہ کر دوں گا اور اگر ضرورت پڑی تو ہم آبنائے ہرمز پر کنٹرول حاصل کر سکتے ہیں۔ "فوکس نیوز" کے مطابق ٹرمپ نے ایرانیوں سے کہا کہ ہرمز کو بند کرنے کا مطلب یہ ہے کہ مذاکراتی وفد واپس نہیں جا سکے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ امریکی صدر نے کل ایرانیوں کو آبنائے ہرمز بند کرنے کے بارے میں خبردار کیا تھا۔

ٹرمپ کے یہ بیانات ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب واشنگٹن اور تہران کے مابین مذاکرات علاقائی ثالثی کے ساتھ شدید سفارتی کوششوں سے بھی ہم آہنگ ہیں۔ مذاکرات کے نتائج اور خطے کی سلامتی اور عالمی منڈیوں پر ان کے اثرات کا انتظار کیا جا رہا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں