عمان اور ایران آبنائے ہرمز میں نقل و حمل کے انتظام پر بات کریں گے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹہ

عمان اور ایران نے منگل کے روز آبنائے ہرمز میں نقل و حمل کے آئندہ انتظامات بشمول آبی گذرگاہ میں بحری خدمات اور ان سے منسلک اخراجات کے بارے میں گفتگو پر زور دینے پر اتفاق کیا۔

مسقط سے جاری کردہ ایک مشترکہ بیان میں دونوں ممالک نے کہا ہے کہ مذاکرات جاری رکھنے کے لیے ان کی وزارتِ خارجہ پر مشتمل ایک مشترکہ ورکنگ گروپ تشکیل دیا جائے گا اور وہ دیگر ساحلی ریاستوں اور متعلقہ فریقوں سے مشاورت کریں گے۔

ایسا لگتا ہے کہ یہ اقدام گذشتہ ہفتے دستخط کردہ مفاہمتی یادداشت کی ایک شق پر عمل درآمد کے تحت ہوا ہے جس میں ایران سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ عمان اور دیگر خلیجی ساحلی ریاستوں کے ساتھ آبنائے میں نقل و حمل اور بحری خدمات کے آئندہ انتظام پر بات کرے۔

ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر قالیباف اور وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے عمان کے سلطان ہیثم بن طارق سے ملاقات اور عمانی وزیرِ خارجہ بدر البوسعیدی سے گفتگو کی جس کے بعد اس معاہدے کا اعلان ہوا۔

بیان میں عمان اور ایران نے اپنے علاقائی پانیوں پر خودمختاری کو نمایاں کرتے ہوئے بین الاقوامی قانون کے مطابق آبی گذرگاہ کے ذریعے محفوظ راہداری یقینی بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔

دونوں ممالک نے سمندری حفاظت، نقل و حمل کی آزادی اور علاقائی استحکام کو فروغ دینے کا عزم بھی ظاہر کیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں