عمان اور ایران نے منگل کے روز آبنائے ہرمز میں نقل و حمل کے آئندہ انتظامات بشمول آبی گذرگاہ میں بحری خدمات اور ان سے منسلک اخراجات کے بارے میں گفتگو پر زور دینے پر اتفاق کیا۔
مسقط سے جاری کردہ ایک مشترکہ بیان میں دونوں ممالک نے کہا ہے کہ مذاکرات جاری رکھنے کے لیے ان کی وزارتِ خارجہ پر مشتمل ایک مشترکہ ورکنگ گروپ تشکیل دیا جائے گا اور وہ دیگر ساحلی ریاستوں اور متعلقہ فریقوں سے مشاورت کریں گے۔
ایسا لگتا ہے کہ یہ اقدام گذشتہ ہفتے دستخط کردہ مفاہمتی یادداشت کی ایک شق پر عمل درآمد کے تحت ہوا ہے جس میں ایران سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ عمان اور دیگر خلیجی ساحلی ریاستوں کے ساتھ آبنائے میں نقل و حمل اور بحری خدمات کے آئندہ انتظام پر بات کرے۔
ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر قالیباف اور وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے عمان کے سلطان ہیثم بن طارق سے ملاقات اور عمانی وزیرِ خارجہ بدر البوسعیدی سے گفتگو کی جس کے بعد اس معاہدے کا اعلان ہوا۔
بیان میں عمان اور ایران نے اپنے علاقائی پانیوں پر خودمختاری کو نمایاں کرتے ہوئے بین الاقوامی قانون کے مطابق آبی گذرگاہ کے ذریعے محفوظ راہداری یقینی بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔
دونوں ممالک نے سمندری حفاظت، نقل و حمل کی آزادی اور علاقائی استحکام کو فروغ دینے کا عزم بھی ظاہر کیا۔
-
جاری کردہ اثاثہ جات کے استعمال کا تعین کرنے والا واحد ملک ایران ہو گا: سفیر
ایک ایرانی سفیر نے منگل کو امریکی دعووں کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ تہران تنہا ...
مشرق وسطی -
لبنان کے حوالے سے ایران کے ساتھ ہمارے رابطوں کا مقصد حزب اللہ پر دباؤ ڈالنا ہے : وینس
لبنان کی ایک مسیحی سیاسی جماعت 'لبنانی فورسز' پارٹی کے سربراہ سمیر جعجع کی جانب سے ...
بين الاقوامى -
امریکہ اورایران کے مابین معاہدہ،ایران کا امریکی اشیا کی خریداری کےلیےپابندی کا دعویٰ مسترد
ایران کے ایک سے زائد حکام نے اعادہ کیا ہے کہ امریکہ کے ساتھ معاہدے کے تحت جو ...
مشرق وسطی