لبنان اور اسرائیل کے درمیان واشنگٹن میں ہونے والے مذاکرات کے پانچویں دور کے بعد تین اسرائیلی حکام نے انکشاف کیا ہے کہ دونوں ممالک ایک امریکی حمایت یافتہ آزمائشی منصوبے پر غور کر رہے ہیں، جس کے تحت اسرائیلی فوج جنوبی لبنان کے بعض علاقوں کا کنٹرول لبنانی مسلح افواج کے حوالے کرے گی۔
بدھ کے روز حکام نے بتایا کہ اس منصوبے میں شامل لبنانی فوجی دستوں کو امریکی نگرانی میں تربیت دی جائے گی اور ان کی سکیورٹی جانچ بھی کی جائے گی۔ یہ معلومات خبر رساں ادارے رائٹرز نے نقل کی ہیں۔
دوسری جانب لبنان کے صدر جوزف عون نے کہا ہے کہ جن علاقوں کو اس منصوبے کے تحت ''نمونہ جاتی علاقے'' قرار دیا جانا ہے، ان کا تعین ابھی زیرِ غور ہے اور اس سلسلے میں اسرائیل کی منظوری کا انتظار کیا جا رہا ہے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے ،جب ایک امریکی ذریعے نے گزشتہ روز العربیہ/الحدث کو بتایا تھا کہ اسرائیل اپنے کسی بھی انخلا کو لبنان کی جانب سے عملی زمینی اقدامات سے مشروط کر رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق مذاکرات میں بنیادی اختلاف جنوبی لبنان سے اسرائیلی فوج کے انخلا کے طریقۂ کار اور اس کے آغاز کے حوالے سے رہا۔
مذاکرات کا نیا دور
لبنان نے منگل کے روز واشنگٹن میں اسرائیل کے ساتھ مذاکرات کا ایک نیا دور شروع کیا، جبکہ بیروت نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ براہِ راست مذاکرات کے عمل کو آگے بڑھاتا رہے گا۔
تاہم ایران کی جانب سے لبنانی معاملے کو امریکہ کے ساتھ اپنے مذاکرات میں شامل کرنے کے فیصلے نے اس دورِ مذاکرات پر بھی اثر ڈالا ہے۔
لبنانی حکام کا مؤقف ہے کہ اسرائیل کے ساتھ براہِ راست بات چیت ہی اس جنگ کے خاتمے کا واحد راستہ ہے، جو 2 مارچ سے جاری ہے۔
اس روز حزب اللہ نے ایران کی حمایت میں شمالی اسرائیل پر راکٹ اور ڈرون حملے کیے تھے، جس کے بعد اسرائیل نے لبنان میں شدید فضائی اور زمینی کارروائیاں شروع کر دیں۔ ان جھڑپوں کے نتیجے میں لبنان میں چار ہزار سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
تاہم اپریل سے اب تک لبنان اور اسرائیل کے درمیان ہونے والے مذاکرات کے چار ادوار کسی مستقل جنگ بندی تک پہنچنے میں کامیاب نہیں ہو سکے۔
اس کے برعکس رواں ہفتے لڑائی میں نسبتاً طویل خاموشی دیکھنے میں آئی، جب ایران اور امریکہ کے درمیان ایک مفاہمتی یادداشت پر اتفاق ہوا، جس میں لبنان سمیت مختلف محاذوں پر لڑائی روکنے کی شق شامل تھی۔
تاہم خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق اس معاہدے نے ایران نواز جماعت حزب اللہ کی پوزیشن کو تقویت دی ہے، جبکہ لبنانی ریاست کے مؤقف کو نقصان پہنچایا ہے۔
لبنانی صدر جوزف عون سمیت ملک کی قیادت متعدد بار اس بات پر زور دے چکی ہے کہ ایران لبنان کی طرف سے مذاکرات نہیں کر سکتا اور نہ ہی اسے لبنان کے فیصلوں کی نمائندگی کا اختیار حاصل ہے۔
یاد رہے کہ لبنان بارہا یہ واضح کر چکا ہے کہ مذاکرات میں اس کا ایک بنیادی ہدف جنوبی لبنان سے اسرائیلی فوج کا مکمل انخلا ہے۔
تاہم اسرائیلی اعلیٰ حکام کا کہنا ہے کہ اسرائیلی افواج جنوبی لبنان میں غیر معینہ مدت تک موجود رہیں گی، جس کے باعث دونوں فریقوں کے درمیان اختلافات بدستور برقرار ہیں