سعودی غذائی مصنوعات نے ’’ گلوبل آرک آف ٹیسٹ ‘‘ اقدام میں موجودگی درج کرا دی
سعودی مصنوعات کی شرکت قومی غذائی ورثے کی دستاویز کاری کو مضبوط بناتی ہے
کھانوں کی دستاویز کاری کے ایک عالمی اقدام کے فریم ورک کے تحت سعودی غذائی مصنوعات نمایاں ہوئی ہیں۔ یہ کامیابی سعودی کلینری آرٹس کمیشن کی جانب سے 13 انتظامی علاقوں کی نمائندگی کرنے والی 180 سعودی مصنوعات کو ’’ گلوبل آرک آف ٹیسٹ ‘‘ اقدام میں رجسٹر کرنے کے بعد حاصل ہوئی۔ رجسٹرڈ سعودی مصنوعات 16 زمروں کے تحت پیش کی گئیں جن میں جانوروں کی نسلیں، بیکری کی اشیاء، کشید کیے گئے مشروبات، پنیر اور دودھ کی مصنوعات، مقامی کافی، پروسیس شدہ اور محفوظ شدہ گوشت، پھل، گری دار میوے اور خشک میوہ جات، اناج اور آٹا، شہد اور شہد کی مکھیوں کی مصنوعات، پھلیاں، جنگلی مشروم، تیل اور چکنائی، نمک، مسالے، سیزننگ اور جنگلی جڑی بوٹیاں، سبزیاں اور محفوظ شدہ سبزیاں، اور روایتی سرکہ شامل ہیں۔
ضمن جهود #هيئة_فنون_الطهي وبقيادة خبراء متخصصون في تراث الطهي السعودي، سجلت المملكة 120 منتجاً سعودياً تمثل المناطق الثلاثة عشر في الفترة ما بين 2022 - 2024 ضمن مبادرة سفينة التذوق العالمية، فيما أضافت لها 60 منتجاً جديداً هذا العام، وذلك بهدف تعزيز حضور الموروث الغذائي السعودي. pic.twitter.com/BFTdmjomo8
— هيئة فنون الطهي (@MOCCulinary) June 25, 2026
’’ گلوبل آرک آف ٹیسٹ ‘‘ کے نام سے عالمی اقدام میں سعودی مصنوعات کی موجودگی سعودی فن کے ورثے کے ماہرین کی قیادت میں قومی غذائی ورثے کی دستاویز کاری کو مضبوط بناتی ہے۔ کلینری آرٹس کمیشن غذائی تحفظ کے تصورات کو فروغ دینے کے ساتھ ساتھ غذائی مصنوعات کے معیار کو یقینی بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔ اسی کے ساتھ ’’ گلوبل آرک آف ٹیسٹ ‘‘ یا "سفینہ ذائقہ" منصوبہ ان سب سے ممتاز عالمی اقدامات میں سے ایک ہے جو ناپید ہونے کے خطرے سے دوچار کھانوں اور غذائی مصنوعات کی دستاویز کاری سے متعلق ہیں کیونکہ یہ معاشروں میں فن کے ورثے کا ایک حصہ ہیں۔ اس کا مقصد مقامی غذائی تنوع کو اجاگر کرنا، روایتی پروڈیوسروں کی مدد کرنا، نسل در نسل منتقل ہونے والے علم کی حفاظت کرنا اور پائیدار پیداواری طریقوں کی حوصلہ افزائی کرنا ہے۔
یہ اقدام چار بنیادی اہداف پر مبنی ہے۔ وراثتی مصنوعات کا تحفظ، مقامی پروڈیوسروں کی مدد، حیاتیاتی تنوع کے بارے میں بیداری پیدا کرنا اور مقامی غذائی ورثے کو فروغ دینا اس اقدام کے اہداف ہیں۔ یہ سب کچھ ان اصل کھانوں کی دستاویز کاری کے ذریعے کیا جاتا ہے جو صنعتی تبدیلیوں اور صارفین کے بدلتے ہوئے رجحانات کی وجہ سے ناپید ہونے کے خطرے سے دوچار ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ زرعی برادریوں، مچھیروں اور روایتی کاریگروں کو مروجہ طریقوں کے مطابق پیداوار جاری رکھنے کے قابل بنانا اور غذائی وسائل کی پائیداری کے بارے میں بیداری کو بڑھانا بھی بھی اس اقدام کے مقاصد میں شامل ہے۔
اس منصوبے میں مملکت کی شرکت اپنے غذائی تنوع کے تحفظ اور آنے والی نسلوں کے لیے اس کی پائیداری کو فروغ دینے کے عزم کے تحت سامنے آئی ہے جو اس کے مختلف علاقوں کی نمائندگی کرنے والی مصنوعات کی دستاویز کاری اور رجسٹریشن کے ذریعے کی جا رہی ہے۔ مملکت نے 2022 سے 2024 کے دوران اس فن کے ورثے میں مہارت رکھنے والے مقامی ماہرین کی طرف سے نامزدگی اور دستاویز کاری کے بعد تقریباً 120 مصنوعات رجسٹر کی تھیں جس کے بعد اس سال 60 نئے عناصر کا اضافہ کیا گیا جس سے رجسٹرڈ سعودی مصنوعات کی کل تعداد 180 ہو گئی۔ کمیشن مملکت کے غذائی اور ثقافتی عناصر کی دستاویز کاری اور رجسٹریشن کی کوششوں کی حمایت جاری رکھے ہوئے ہے تاکہ قومی ورثے کی پائیداری کو فروغ دیا جا سکے اور سعودی پاک فنون کا تحفظ کیا جا سکے۔