آبنائے ہرمز میں تیل بردار جہازپر حملہ کیا گیا:برطانوی بحری سلامتی ادارہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 5 منٹ

برطانوی بحری سلامتی ادارے نے ہفتے کے روز انکشاف کیا ہے کہ آبنائے ہرمز میں ایک تیل بردار جہاز نامعلوم مقذوف کے حملے کا نشانہ بنا ہے۔

ادارے کے مطابق اسے اس واقعے کی اطلاع موصول ہوئی، تاہم حملے کے نتیجے میں کسی قسم کے ماحولیاتی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔

ادارے نے مزید بتایا کہ جہاز کو نقصان پہنچا ہے، تاہم عملے کے تمام افراد محفوظ ہیں اور کسی کے زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ملی۔

گزشتہ چند گھنٹوں کے دوران ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی میں اضافہ دیکھنے میں آیا، جو سوئٹزرلینڈ میں دونوں ممالک کے درمیان مفاہمتی یادداشت (Memorandum of Understanding) پر دستخط کے بعد پہلا بڑا تصادم قرار دیا جا رہا ہے۔

واشنگٹن نے تہران پر آبنائے ہرمز میں اپنے ایک تجارتی جہاز پر حملے کا الزام عائد کیا، جس کے جواب میں امریکہ نے کئی اہداف پر فضائی حملے کیے۔

اس کے بعد ایران نے بھی جوابی کارروائی کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ اس نے امریکی ٹھکانوں کو نشانہ بنایا ہے، جیسا کہ ایرانی سرکاری میڈیا نے ہفتے کے روز رپورٹ کیا۔

ایران نے ہفتے کے روز کہا کہ جمعہ کو اس کی سرزمین پر امریکہ کی جانب سے کیے گئے حملے دونوں ممالک کے درمیان مشرقِ وسطیٰ کی جنگ کے خاتمے کے لیے طے پانے والی مفاہمتی یادداشت کی "کھلی خلاف ورزی" ہیں۔

ایرانی وزارت خارجہ نے اپنے بیان میں کہا کہ یہ حملے اقوام متحدہ کے منشور کے آرٹیکل 2 کی شق 4 اور جون کے وسط میں امریکہ کے ساتھ طے پانے والی مفاہمتی یادداشت کی پہلی شق کی صریح خلاف ورزی ہیں۔

یہ فائرنگ کا تبادلہ 17 جون کو واشنگٹن اور تہران کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط کے بعد اپنی نوعیت کا پہلا معلوم واقعہ ہے۔

اس پیش رفت نے اس بات پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں کہ امریکہ اور ایران کے درمیان 28 فروری کو امریکی اور اسرائیلی حملوں سے شروع ہونے والی جنگ کے مستقل تصفیے کے لیے جاری مذاکرات کے دوران اس اہم آبی گزرگاہ کو کھلا رکھنے کی کوششیں کس حد تک مؤثر رہیں گی۔

امریکی سینٹرل کمان (CENTCOM) نے کہا کہ ایران کے میزائل اور ڈرون ذخیرہ گاہوں اور ساحلی ریڈار تنصیبات کو نشانہ بنانے والے حالیہ امریکی حملے ایرانی افواج کی جانب سے تجارتی جہاز رانی کے خلاف بلااشتعال جارحیت، جو واضح طور پر جنگ بندی کی خلاف ورزی تھی۔اس کے جواب میں کیے گئے۔

ایرانی سرکاری ٹیلی ویژن نے جنوبی ساحلی شہر سیریک میں اپنے نامہ نگار کے حوالے سے بتایا کہ جمعہ کی رات دیر گئے طہراوی گھاٹ پر زور دار دھماکے کی آواز سنی گئی۔

ایک باخبر فوجی ذرائع کے مطابق یہ دھماکا علاقے میں ایک نامعلوم مقذوف گرنے کے باعث ہوا۔دھماکے کے بعد مہر نیوز ایجنسی نے رپورٹ کیا کہ سیریک بندرگاہ معمول کے مطابق کام کر رہی ہے اور اس کے آلات یا تنصیبات کو کسی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔

امریکی سینٹرل کمان نے اس کارروائی کوگزشتہ روز آبنائے ہرمز سے گزرنے والے ایک تجارتی جہاز پر حملے کے جواب میں دیا گیا مضبوط ردعمل قرار دیا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس سے قبل ایک ایرانی ڈرون کی جانب سے مذکورہ تجارتی جہاز پر کیے گئے مبینہ حملے کی مذمت کرتے ہوئے اسے دونوں ممالک کے درمیان طے پانے والے معاہدے کی بھونڈی خلاف ورزی قرار دیا تھا۔

امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے بھی سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ایکس پر ایک پیغام میں ایران کو براہ راست خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اگر ایران نے مزید حملے کیے تو تشدد کا جواب تشدد سے دیا جائے گا۔

ایرانی سرکاری ٹیلی ویژن نے ہفتے کی صبح بتایا کہ پاسدارانِ انقلاب نے امریکی حملوں کے جواب میں امریکی مقامات کو نشانہ بنانے کا اعلان کیا ہے۔

سرکاری ٹیلی ویژن کے ٹیلی گرام چینل پر جاری بیان کے مطابق پاسدارانِ انقلاب نے کہا: اگر جارحیت دہرائی گئی تو ہمارا جواب اس سے کہیں زیادہ وسیع ہوگا۔

ادھر ایران نے جہازوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ اس کی اجازت کے بغیر آبنائے ہرمز کے راستے خلیج میں داخل نہ ہوں اور نہ ہی وہاں سے نکلیں، تاہم اس کے باوجود کئی بحری جہاز اپنی سفر جاری رکھے ہوئے ہیں، جن میں سے بعض ایسے راستوں سے گزرے جنہیں تہران نے منظور نہیں کیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں