دوسری بار بحرین میں خطرے کے سائرن بجا دیے گئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

بحرین کی وزارتِ داخلہ نے چند گھنٹوں کے اندر مسلسل دوسری بار خطرے کے سائرن بجانے کا اعلان کیا ہے۔وزارت نے آج اتوار کے روز جاری بیان میں شہریوں اور مقیم غیر ملکیوں سے اپیل کی کہ وہ پرسکون رہیں، قریبی محفوظ مقام پر منتقل ہو جائیں اور سرکاری ذرائع سے جاری ہونے والی خبروں پر نظر رکھیں۔

اس سے قبل بھی آج بحرین نے اعلان کیا تھا کہ اس کے فضائی دفاعی نظام نے ایرانی فضائی حملوں کو ناکام بناتے ہوئے انہیں تباہ کر دیا۔ یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا، جب گزشتہ روز بھی منامہ کو مسلسل دوسرے دن نشانہ بنانے کی اطلاعات سامنے آئی تھیں۔

ایران کے میزائل اور ڈرون حملے

ایک امریکی اہلکار نے رائٹرز کو بتایا ہے کہ ایران نے ہفتے کی رات دیر گئے متعدد میزائل اور ڈرونز قریبی ممالک کی جانب داغے جن میں بحرین اور کویت بھی شامل ہیں۔ یہ اقدام مشرق وسطیٰ میں کشیدگی میں تازہ اضافہ قرار دیا جا رہا ہے۔

اہلکار کے مطابق جس نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط رکھی، صورتحال ابھی واضح نہیں ہے، تاہم ابتدائی اطلاعات کے مطابق امریکی شہریوں میں کسی جانی نقصان یا امریکی تنصیبات کو کسی بڑے نقصان کی کوئی اطلاع سامنے نہیں آئی۔

یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی جب تہران نے دعویٰ کیا کہ واشنگٹن نے اس کے ساحلی علاقوں میں پانچ مقامات کو اس الزام کے تحت نشانہ بنایا کہ ایک جہاز نے ایران کی خودمختاری کی خلاف ورزی کی ہے۔



اسی دوران ایران کے پاسدارانِ انقلاب نے سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ جاری تمام مذاکرات روکنے پر غور کر رہے ہیں، امریکہ پر الزام لگایا ہے کہ اس نے 18 جون کو ہونے والے ایران،امریکہ مفاہمتی معاہدے کے تحت طے شدہ جنگ بندی کی خلاف ورزی کی ہے۔

اس سے قبل امریکی فوج نے بھی اعلان کیا تھا کہ اس نے ایران پر ایک نیا حملہ کیا ہے، یہ کارروائی اس واقعے کے چند گھنٹے بعد ہوئی جب آبنائے ہرمز میں ایک تیل بردار جہاز کو نشانہ بنایا گیا تھا۔

آبنائے ہرمز دنیا کا اہم ترین توانائی گزرگاہی راستہ ہے اور کشیدگی کے آغاز کے بعد سے اکثر اوقات ایران نے اس راستے کو جزوی طور پر بند کرنے کی دھمکی دی ہے۔

دوسری جانب سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جنگ میں واپسی کی دھمکی دیتے ہوئے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ''ٹروتھ سوشل'' پر لکھا کہ اگر صورتحال قابو سے باہر ہوئی تو امریکہ دوبارہ عسکری کارروائی پر مجبور ہوگا اور اگر ایسا ہوا تو ایران کا موجودہ نظام باقی نہیں رہے گا۔

یاد رہے کہ یہ تمام پیش رفت ایسے وقت میں ہو رہی ہے ،جب امریکہ اور ایران کے درمیان 14 نکاتی عارضی معاہدے کے تحت کشیدگی کم کرنے، جنگ روکنے اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ بحری آمد و رفت کے لیے کھولنے کی کوشش کی جا رہی تھی، تاکہ بعد میں جوہری پروگرام جیسے حساس معاملات پر مزید مذاکرات شروع کیے جا سکیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں