اگر امریکہ مفاہمتی یادداشت پر عمل کرے تو ہم بھی اس کی پابندی کریں گے:ایرانی صدر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے پیر کے روز کہا ہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان باہمی مفاہمت کا انحصار اس بات پر ہے کہ دونوں ممالک مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) پر مکمل عمل کریں۔

انہوں نے زور دیا کہ اگر امریکہ معاہدے کی پاسداری کرے گا، تو ایران بھی اپنی تمام ذمہ داریاں پوری کرے گا۔

صدر پزشکیان نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ ایران غیر ضروری دھمکیوں اور بلاجواز طاقت کے مظاہرے کا جواب عقل، تدبر اور انسانی وقار کو ملحوظ رکھتے ہوئے دیتا ہے، تاہم جب عملی اقدام کا وقت آئے گا، تو اپنے مفادات کے دفاع میں پوری ثابت قدمی اور بے خوفی سے کام لے گا۔

اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ ایرانی حکام نے ملاقات کی درخواست کی ہے، جو منگل کو دوحہ میں ہوگی۔

دوسری جانب تہران نے اعلان کیا ہے کہ ایک تکنیکی وفد اس ہفتے قطر کا دورہ کرے گا تاکہ امریکہ کے ساتھ مفاہمتی یادداشت پر عمل درآمد کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیا جا سکے۔

ٹرمپ کا یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے، جب ایران اور عمان کے درمیان جنگ کے بعد آبنائے ہرمز کے انتظام سے متعلق پہلی دوطرفہ بات چیت ہوئی، جبکہ واشنگٹن اور تہران نے گزشتہ ہفتے کے اختتام پر دوبارہ شروع ہونے والے باہمی حملوں کو روکنے پر بھی اتفاق کیا ہے۔



وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولائن لیویٹ نے کہا ہے کہ امریکی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر اس ہفتے اعلیٰ سطحی ملاقاتوں میں شرکت کے لیے دوحہ جائیں گے۔

مذاکرات سے باخبر ایک سفارتکار نے فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کو بتایا کہ آئندہ چند روز میں دونوں ممالک کی تکنیکی ٹیموں کے درمیان ملاقاتیں ہوں گی۔ ان کا کہنا تھا کہ مسائل پر قابو پانے کے لیے رابطوں کے ذرائع اب بھی فعال ہیں۔

ایک امریکی عہدیدار نے بھی اے ایف پی کو بتایا کہ مفاہمتی یادداشت کے تمام شعبوں سے متعلق تکنیکی مذاکرات جاری رکھنے کا منصوبہ ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ فی الحال دونوں فریق اپنے حملے روکیں گے، جبکہ آبنائے ہرمز اور اس کے اطراف میں جہاز آزادانہ طور پر آمدورفت کر سکیں گے۔



ایران کی تردید

دوسری جانب ایران نے امریکی حکام کے ساتھ تکنیکی ٹیموں کی سطح پر مذاکرات کے کسی منصوبے کی تردید کر دی۔

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ ایران کا ایک خصوصی اور ماہر وفد اس ہفتے کے آخر میں دوحہ روانہ ہوگا۔

انہوں نے واضح کیا کہ اس دورے کا مقصد امریکہ کے ساتھ طے پانے والی مفاہمتی یادداشت پر عمل درآمد کا جائزہ لینا ہے۔

بقائی کے مطابق وفد بالخصوص مفاہمتی یادداشت کی شق نمبر 11 پر پیش رفت کا جائزہ لے گا، جس کا تعلق ایران کے منجمد مالی اثاثوں کی رہائی سے ہے۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ فی الحال امریکی فریق کے ساتھ تکنیکی سطح کے مذاکرات کی کوئی منصوبہ بندی نہیں کی گئی۔

آبنائے ہرمز پر اختلافات برقرار، امریکی۔ایرانی مفاہمتی یادداشت مزید نازک

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے ایک بار پھر واضح کیا کہ آئندہ چند روز کے دوران امریکہ کے ساتھ کسی بھی سطح پر مذاکراتی اجلاس منعقد نہیں ہوں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ تہران سے دوحہ جانے والے وفد کا مقصد صرف امریکہ کے ساتھ طے شدہ مفاہمتی یادداشت پر عمل درآمد کا جائزہ لینا ہے، خصوصاً شق نمبر 11 جس کا تعلق ایران کے منجمد مالی اثاثوں کی رہائی سے ہے۔

ادھر آبنائے ہرمز کی بندش کا معاملہ بدستور امریکہ اور ایران کے درمیان ایک اہم اختلافی نکتہ بنا ہوا ہے۔ اس کے ساتھ ہی ایران اور سلطنتِ عمان آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں پر خدمات کے عوض فیس عائد کرنے کی تجویز پر غور کر رہے ہیں۔

یہ تجویز اقوام متحدہ کے سمندری قانون (UNCLOS) سے متصادم سمجھی جا رہی ہے، جو بین الاقوامی آبناؤں میں جہازوں کی بلا رکاوٹ آزادانہ آمدورفت کی ضمانت دیتا ہے۔

تاہم ایران نے اس معاہدے کی توثیق نہیں کی، جس کے باعث اس معاملے پر دونوں ممالک کے درمیان اختلافات مزید گہرے ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں

  • مطالعہ موڈ چلائیں
    100% Font Size