اسرائیلی وزیر دفاع یسرائيل کاٹز نے کہا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے لبنانی محاذ کے حوالے سے اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو پر جو دباؤ ڈالا، اس کی وجہ سے فوجی کارروائیوں کا رخ بدل گیا، اس نے جنوبی لبنان میں حزب اللہ کی موجودگی کو مضبوط کرنے میں کردار ادا کیا اور اسے ٹوٹنے سے بچا لیا۔
کاٹز نے عسکری امور کے صحافیوں کو بریفنگ کے دوران یہ بھی واضح کیا کہ واشنگٹن کی جانب سے لبنانی اور ایرانی معاملات کو آپس میں جوڑنا ایک امریکی مفاد تھا۔ انہوں نے اشارہ کیا کہ اسرائیل اس تبدیلی کے بعد اپنے فوجی منصوبوں میں ترمیم کرنے پر مجبور ہوگیا۔
یسرائیل کاٹز نے مزید کہا کہ اسرائیلی فوج لبنان میں وسیع کارروائیاں کر رہی تھی لیکن اس نے بیروت میں عمارتوں کو نشانہ بنانا اس وقت بند کر دیا جب ٹرمپ انتظامیہ نے ایران کے ساتھ مذاکرات کے راستے اور لبنانی محاذ کی صورتحال کو آپس میں جوڑ دیا۔
متبادل منصوبہ
اسرائیلی وزیر دفاعع نے اصرار کیا کہ اگر دونوں میدانوں کو آپس میں نہ جوڑا جاتا تو حزب اللہ گر جاتی۔ انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیل متبادل منصوبے کی طرف منتقل ہو گیا ہے جو وسیع کارروائیوں کو جاری رکھنے کے بجائے جنوبی لبنان میں امن زون کو وسعت دینے پر مبنی ہے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ امریکی موقف میں تبدیلی ٹرمپ اور نیتن یاہو کے درمیان ہونے والی ایک ٹیلی فونک گفتگو کے بعد آئی جس میں انہوں نے خود شرکت نہیں کی تھی۔
انہوں نے کہا کہ امریکی صدر نے اس کال کے دوران اسرائیلی وزیر اعظم پر دباؤ ڈالا تھا جس کی وجہ سے لبنان کے حوالے سے ایک نئی پالیسی اپنائی گئی۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ اس تبدیلی نے شہریوں کو جنوبی لبنان واپس آنے کی اجازت دے دی اور حزب اللہ کو خطے میں اپنی تعیناتی کو مضبوط کرنے کا موقع بھی فراہم کردیا۔
ہم طویل عرصہ رہیں گے
جہاں تک لبنان اور اسرائیل کے درمیان دستخط شدہ فریم ورک معاہدے پر عملدرآمد کا تعلق ہے تو اسرائیلی وزیر دفاع نے کہا کہ اسرائیلی فوج جنوبی لبنان میں طویل عرصے تک اپنی موجودگی برقرار رکھے گی اور حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے سے پہلے پیچھے نہیں ہٹے گی۔
انہوں نے کہا کہ اسرائیل کے لبنان میں کوئی علاقائی عزائم نہیں ہیں لیکن اسرائیل سمجھتا ہے کہ اس کی شمالی سرحدوں کی سکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے کسی بھی فوجی انخلا سے پہلے حزب اللہ کو اس کے ہتھیاروں سے محروم کرنا ضروری ہے۔
یسرائیل کاٹز نے اس کام کو انجام دینے کے لیے لبنانی فوج کی صلاحیت پر بھی شک کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ لبنانی فوج اچانک ایسے شیروں میں تبدیل نہیں ہو جائے گی جو حزب اللہ پر حملہ کر دیں۔ ان کے اس بیان سے تل ابیب کے ان شکوک و شبہات کا تسلسل ظاہر ہوتا ہے جو وہ جنوب پر مکمل کنٹرول نافذ کرنے کی لبنانی ریاست کی صلاحیت کے بارے میں رکھتا ہے۔
کاٹز کے یہ بیانات ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب امریکہ کی سرپرستی میں لبنان اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات جاری ہیں جو واشنگٹن میں ایک فریم ورک معاہدے پر دستخط کے بعد شروع ہوئے جس کا مقصد مستقل سکیورٹی انتظامات تک پہنچنا ہے۔ ان انتظامات میں لبنانی فوج کی تعیناتی اور متفقہ سکیورٹی اقدامات کے نفاذ کے ساتھ ساتھ بتدریج اسرائیلی انخلا شامل ہے۔
انخلا کے وقت کے شیڈول اور حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے کے طریقہ کار کے بارے میں اختلافات اب بھی برقرار ہیں۔ یہ بیانات ایران کے ساتھ معاہدے اور لبنانی محاذ پر اس کے اثرات کے پس منظر میں امریکی اسرائیلی تعلقات میں تناؤ کے ماحول کے درمیان بھی سامنے آئے ہیں۔