'آئی ایم ایف' نے اسرائیل کی حالیہ جنگوں کی روشنی میں اس کے بڑھے ہوئے فوجی اخراجات کی وجہ سے اسرائیل کے معاشی پیداوار کے تخمینے کو پہلے سے اعلان کردہ تخمینے کے مقابلے میں کم کر دیا ہے۔
'آئی ایم ایف' کے اعلان کے بعد جنگوں کی وجہ سے اسرائیلی معاشی پیداوار کی سطح 4.8 فیصد کی بجائے 3.5 فیصد رہے گی۔ 'آئی ایم ایف' کا یہ اعلان بدھ کے روز سامنے آیا ہے۔
ایک رپورٹ میں 'آئی ایم ایف' نے آئندہ دنوں اسرائیل میں افراط زر کے بڑھنے کی بھی نشاندہی کی ہے اور اس کی وجہ توانائی سے متعلق اخراجات اور تیل کی قیمتوں میں اضافہ بتایا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق جنگوں کی وجہ سے اسرائیلی معیشت کو اگرچہ کوئی بہت زیادہ دھچکہ نہیں لگا لیکن اس کے باوجود معاشی پیداواری سطح کم ہونے کا اندازہ ہے۔
خیال رہے پچھلے تین عشروں کے دوران اسرائیلی کرنسی شیکل ڈالر کے مقابلے میں مضبوط رہی ہے۔ تاہم 'آئی ایم ایف' کا کہنا ہے کہ جنگ کے معاشی اثرات کسی حد تک اسرائیل کو ضرور برداشت کرنے ہوں گے۔
پچھلے سال 2025 میں ایران کے ساتھ جنگ کے باعث اسرائیلی معاشی پیداواری سطح 2.9 فیصد ہوگئی تھی۔ تاہم بعد ازاں بنک آف اسرائیل نے 3.8 فیصد تک معاشی پیداواری سطح کا تخمینہ دیا تھا۔ جبکہ وزارت خزانہ کا کہنا تھا کہ اس سال یہ سطح 4 فیصد تک چلی جائے گی۔ لیکن سال کی پہلی سہ ماہی میں اسرائیلی معیشت سکڑ کر 3.8 فیصد تک رہ گئی۔ البتہ 'آئی ایم ایف' نے 2027 میں اسرائیلی معیشت کا اندازہ 4.4 فیصد معاشی پیدوار کے حوالے سے لگایا ہے۔