عراقی صدر آمیدی کا ہتھیاروں پر صرف ریاست کے تصرف کا عزم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹہ

عراقی صدر نزار آمیدی نے ہفتے کے روز العربیہ کو انٹرویو دیتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ ریاستی اہلکاروں کے علاوہ کسی اور کے ہتھیار اٹھانے کا خاتمہ کرنے کے لیے مہم جاری رکھیں گے۔

آمیدی نے کہا، تمام ہتھیاروں کو خصوصی طور پر ریاستی کنٹرول میں رکھنے کا فیصلہ تبدیل نہیں کیا جائے گا اور اس بات پر زور دیا کہ "تمام ہتھیاروں کو ریاست کے اختیار میں لانا حکومت کے لیے اہم ترین مسئلہ ہے۔"

انہوں نے مزید کہا، عراق مسلح گروہوں کا مسئلہ "دانش مندی سے" حل کرے گا اور یہ کہ بغداد نے ایران کو سرحدوں، خودمختاری اور مسلح دھڑوں کے بارے میں مذاکرات کی ضرورت پر ایک خط بھیجا۔

آمیدی نے اس بات پر زور دیا ہے کہ عراق میں سکیورٹی کمزور ہے اور ہمسایہ ممالک کو نقصان پہنچانے کے لیے اپنی سرزمین کے استعمال کو مسترد کر دیا۔

صدر نے کہا، "خلیج کی سلامتی عراق کی سلامتی ہے اور (عراق کی) سلامتی خطے کی سلامتی ہے۔"

خارجہ تعلقات

آمیدی نے واضح کیا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان تنازع میں عراق فریق نہیں بنے گا۔

انہوں نے کہا، "عراق واشنگٹن کے خلاف ایران کا اور ایران کے خلاف واشنگٹن کا ساتھ نہیں دے گا۔

علاوہ ازیں انہوں نے مزید کہا، عراق سعودی عرب سے "بہترین تزویری تعلقات" کا خواہاں ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں