عراقی صدر نزار آمیدی نے ہفتے کے روز العربیہ کو انٹرویو دیتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ ریاستی اہلکاروں کے علاوہ کسی اور کے ہتھیار اٹھانے کا خاتمہ کرنے کے لیے مہم جاری رکھیں گے۔
آمیدی نے کہا، تمام ہتھیاروں کو خصوصی طور پر ریاستی کنٹرول میں رکھنے کا فیصلہ تبدیل نہیں کیا جائے گا اور اس بات پر زور دیا کہ "تمام ہتھیاروں کو ریاست کے اختیار میں لانا حکومت کے لیے اہم ترین مسئلہ ہے۔"
انہوں نے مزید کہا، عراق مسلح گروہوں کا مسئلہ "دانش مندی سے" حل کرے گا اور یہ کہ بغداد نے ایران کو سرحدوں، خودمختاری اور مسلح دھڑوں کے بارے میں مذاکرات کی ضرورت پر ایک خط بھیجا۔
آمیدی نے اس بات پر زور دیا ہے کہ عراق میں سکیورٹی کمزور ہے اور ہمسایہ ممالک کو نقصان پہنچانے کے لیے اپنی سرزمین کے استعمال کو مسترد کر دیا۔
صدر نے کہا، "خلیج کی سلامتی عراق کی سلامتی ہے اور (عراق کی) سلامتی خطے کی سلامتی ہے۔"
خارجہ تعلقات
آمیدی نے واضح کیا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان تنازع میں عراق فریق نہیں بنے گا۔
انہوں نے کہا، "عراق واشنگٹن کے خلاف ایران کا اور ایران کے خلاف واشنگٹن کا ساتھ نہیں دے گا۔
علاوہ ازیں انہوں نے مزید کہا، عراق سعودی عرب سے "بہترین تزویری تعلقات" کا خواہاں ہے۔
-
امریکہ کو خدشہ تھا کہ مذاکرات کے دوران اسرائیل عراقچی، قالیباف کو نشانہ بنا سکتا تھا
نیویارک ٹائمز نے جمعرات کو امریکی حکام کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ جب واشنگٹن اس ...
بين الاقوامى -
اسرائیل نے عراقچی اور قاليباف کو قتل کرنے کے منصوبے سے متعلق رپورٹ کی تردید کر دی
اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کے دفتر نے جمعہ کے روز نیویارک ٹائمز کی شائع کردہ اس ...
مشرق وسطی -
قاليباف خامنہ ای کی آخری رسومات میں آبدیدہ، عراقچی کے تاثرات پر بحث
سوشل میڈیا پر ایک وائرل ویڈیو نے وسیع بحث چھیڑ دی ہے، جس میں ایرانی پارلیمنٹ کے ...
مشرق وسطی