اسرائیلی فوج کے سربراہ لیفٹینٹ جنرل ایال زامیر نے جنوبی لبنان میں قابض اسرائیلی فوجیوں سے ملاقات کے لیے زیر قبضہ 'بیو فورٹ کیسل' کا دورہ کیا ہے اور کہا ہے کہ اسرائیلی فوج حزب اللہ کو پیچھے دھکیلنے کے لیے فیصلہ کن کارروائیاں جاری رکھیں گے۔ انہوں نے یہ فیصلہ کن کارروائیاں جنوبی لبنان میں جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔
انہوں نے کہا اسرائیلی فوج لبنانی سرزمین سے درپیش خطرے سے نمٹنے کے لیے فیصلہ کن کارروائیاں جاری رکھے گی نیز جنگ بندی کی خلاف ورزی کی صورت میں بھی تیزی سے جارحانہ حملے کرنے کے لیے بھی خود کو تیار رکھے گی۔
اسرائیلی فوج نے صلیبی جنگوں کے زمانے کے اس قلعے 'بیو فورٹ' کو آس پاس کے علاقے سمیت حالیہ دنوں میں ہی قبضے میں لیا ہے۔ اس پر قبضے کے نتیجے میں اسرائیلی فوج کو لبنان میں سٹریٹجک اہمیت کی محفوظ پوزیشن ہاتھ آگئی ہے۔
اسرائیل کا دعویٰ ہے کہ اس نے اس قلعے کے نیچے ایک سرنگ تلاش کی ہے جو حزب اللہ کے جنگجوؤں کے استعمال میں تھی۔ اس سرنگ کی مدد سے شمالی اسرائیلی علاقےمیں کارروائیاں کی جاتی تھیں۔ یہ سرنگ شمالی اسرائیل کی سرحد سے چند کلو میٹر کے فاصلے پر ہے۔
اسرائیل نے اس سے قبل 1982 میں یہ قلعہ قبضے میں لیا تھا۔ تب سے سنہ 2000 تک یہ اسرائیلی قبضے میں رہا تھا۔ اب پھر اسرائیلی فوج نے قبضہ کر لیا ہے۔ اسرائیلی بمباری سے اس تاریخی قلعے کو کافی نقصان پہنچا ہے۔
ایال زامیر نے کہا ہے کہ ہماری فوج کی اس قلعے سے متعلق سرگرمیاں لبنان کے ساتھ حالیہ معاہداتی فریم ورک کے مطابق ہیں۔ وہ قلعے پر قبضے کے حوالے سے حالیہ معاہدے کا ذکر کر رہے تھے۔ زامیر نے کہا اگر ہمارے فوجیوں کے لیے کوئی خطرہ ہوا تو اس کا فوری خاتمہ کیا جائے گا۔
اسرائیلی فوجی سربراہ نے کہا لبنانی فوج کو چاہیے کہ وہ اس تاریخی اہمیت کے معاہداتی فریم ورک پر پوری طرح عمل کرائے اور علاقے سے حزب اللہ کے دہشت گردانہ نیٹ ورک کا خاتمہ کرے۔