دمشق میں میکرون کی رہائش گاہ کے قریب دھماکے، احمد الشرع سے ملاقات سے قبل سکیورٹی سخت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 5 منٹ

شام کے دارالحکومت دمشق میں منگل کے روز فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون کی رہائش گاہ کے قریب دو دھماکے ہوئے۔ ایک سکیورٹی ذریعے کے مطابق یہ دھماکے بارودی مواد سے کیے گئے اور یہ میکرون کے شام کے غیر معمولی سرکاری دورے کے دوسرے روز پیش آئے۔

العربیہ کے نمائندے کے مطابق دونوں دھماکے اس ہوٹل کے قریب ہوئے جہاں فرانسیسی صدر قیام پذیر تھے۔ میکرون کا قافلہ دھماکوں سے کچھ ہی دیر پہلے شامی صدر احمد الشرع سے ملاقات کے لیے صدارتی محل روانہ ہو چکا تھا۔

بعد ازاں ایک شامی سکیورٹی ذریعے نے بتایا کہ ایک دھماکا کوڑے دان میں نصب بارودی مواد جبکہ دوسرا ایک گاڑی میں رکھے گئے دھماکا خیز مواد کے باعث ہوا۔ شامی وزارت داخلہ نے واضح کیا کہ دونوں دھماکے فرانسیسی صدر کی رہائش گاہ کے لیے قائم سکیورٹی حصار سے باہر ہوئے، اس لیے میکرون یا ان کے وفد کو کوئی براہِ راست خطرہ لاحق نہیں ہوا۔

وزارت داخلہ کے مطابق دھماکوں میں 18 افراد زخمی ہوئے، جن میں 4 پولیس اہلکاربھی شامل ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ حملے میں ملوث افراد کی شناخت اور گرفتاری کے لیے تحقیقات جاری ہیں۔

دوسری جانب فرانسیسی ایوانِ صدر نے میکرون کی خیریت کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ دمشق میں دھماکوں کے باوجود ان کا دورہ معمول کے مطابق جاری رہے گا۔

فرانسیسی صدر منگل کو شامی صدر احمد الشرع سے باضابطہ مذاکرات کر رہے ہیں۔ یہ دسمبر 2024 میں بشار الاسد کی حکومت کے خاتمے کے بعد کسی بڑے مغربی ملک کے سربراہ کا شام کا پہلا سرکاری دورہ ہے۔ العربیہ کی نمائندہ کے مطابق اب تک میکرون کے دورے کے شیڈول میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی۔

صدارتی سطح کے مذاکرات

فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے اپنے دورے کے دوسرے روز کا آغاز سول سوسائٹی کے نمائندوں سے ملاقات سے کیا، جس کے بعد وہ شامی صدر احمد الشرع سے مذاکرات کے لیے صدارتی محل روانہ ہوئے۔ ان ملاقاتوں کے بعد شام کی تعمیرِ نو اور اسٹریٹجک راہداریوں پر ایک اقتصادی فورم بھی منعقد ہوگا۔

دورے کے ایجنڈے میں شام کی تعمیرِ نو فرانسیسی سرمایہ کاری اور دمشق و یورپی یونین کے مستقبل کے تعلقات سرفہرست ہیں۔ یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب شام، جنگ کے دوران عائد یورپی اور امریکی پابندیاں اٹھائے جانے کے بعد غیر ملکی کمپنیوں کو سرمایہ کاری کی دعوت دے رہا ہے۔

صدر میکرون کے ہمراہ فرانس کی بڑی کمپنیوں کے سربراہان پر مشتمل ایک وفد بھی موجود ہے، جس میں سی ایم اے،سی جی ایم (CMA CGM) اور ٹوٹل انرجیز (TotalEnergies)شامل ہیں۔ اس موقع پر دونوں ممالک کے درمیان متعدد اقتصادی معاہدوں پر دستخط کیے جانے کی توقع ہے۔

سرمایہ کاری کا موقع

شامی صدر احمد الشرع نے فرانسیسی ٹی وی چینل ایف ایم ٹی وی (BFM TV) کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا کہ شام سرمایہ کاری کے لیے ایک بڑا موقع فراہم کرتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ فرانس سیاحت، زراعت اور صنعت سمیت مختلف شعبوں میں شام کی تعمیرِ نو کے منصوبوں میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔

احمد الشرع نے یہ بھی انکشاف کیا کہ ایئربس سے آٹھ مسافر طیارے خریدنے کے حوالے سے مذاکرات جاری ہیں۔

دوسری جانب توقع ہے کہ فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون، احمد الشرع کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس میں خودمختار، متحد اور کثیرالثقافتی شام کے لیے فرانس کی حمایت کا اعادہ کریں گے۔

میکرون اقلیتوں کے تحفظ، کردوں کو ریاستی اداروں میں شامل کرنے، لبنان کی خودمختاری کے احترام اور شامی سرزمین کے اندر اسرائیلی مداخلت روکنے کی ضرورت پر بھی زور دیں گے۔

دمشق میں دورہ

فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون اور شامی صدر احمد الشرع نے پیر کی شام دمشق کے قدیم علاقے کا دورہ کیا، جس میں تاریخی جامع اموی کی زیارت بھی شامل تھی۔ اس کے بعد دونوں رہنما دارالحکومت پر نظر رکھنے والے جبل قاسیون گئے۔

اس دورے کو احمد الشرع کے اقتدار سنبھالنے کے بعد پیرس اور دمشق کے درمیان بڑھتے ہوئے تعلقات کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔مقررہ پروگرام کے مطابق صدر میکرون منگل کی شام دمشق سے روانہ ہو کر ترکیہ جائیں گے، جہاں وہ شمالی اوقیانوسی معاہدہ تنظیم (نیٹو) کے سربراہی اجلاس میں شرکت کریں گے۔

توقع ہے کہ ترک صدر رجب طیب اردوان کے ساتھ ان کی ملاقات میں شام کی صورتِ حال بھی اہم موضوعات میں شامل ہوگی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں

  • مطالعہ موڈ چلائیں
    100% Font Size