فرانسیسی صدر میکروں، بشارالاسد کے بعد پہلے یورپی لیڈر کے طور پر شام پہنچ گئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

فرانسیسی صدر ایمانوئل میکروں پیر کے روز شام کے دورے پر پہنچے۔ دسمبر 2024 میں بشارالاسد کے اقتدار کے خاتمے اور احمد الشراع کے بر سر اقتدار آنے کے بعد یورپی یونین کے کسی رکن ملک کے پہلے سربراہ کی دمشق آمد ہے۔

میکروں نے شام کے دورے کے بارے میں سوشل میڈیا پلیٹ فارم 'ایکس' پر اپنی پوسٹ میں لکھا ' میں یہاں اس لیے ہوں کہ شام کے عوام کے ساتھ فرانس کی کمٹمنٹس کا اعادہ کر سکوں۔ جو شام ایک خود مختار ملک ہو، اپنے تنوع کے ساتھ متحد ہو اور پڑوسیوں کے لیے پر امن ہو۔ آئیں ہم مل کر ایک امن اور استحکام کے نئے باب کا آغاز کریں ۔'
فرانسیسی صدر کے دفتر کے جاری کردہ ایجنڈے کے مطابق میکروں کا دمشق ایئر پورٹ پر شامی وزیر خارجہ اسعد الشیبانی نے استقبال کیا ، جبکہ بعد ازاں وہ صدر احمد الشراع کے ساتھ ایک ورکنگ ڈنر پر موجود تھے۔ آج منگل کے روز اپنے ایجنڈے میں شامل باقی ملاقاتیں کریں گے۔
شام کی تعمیر نو کا موضوع ان کے دورے کے مقاصد میں اولین ہے۔ اس مقصد کے لیے ان کے ساتھ فرانس کے تاجروں کا ایک وفد بھی دمشق پہنچا ہے۔ انہی میں فرانس کے کنٹینر شپنگ گروپ 'سی ایم اے سی جی ایم' کے سربراہ اور فرانسیسی کمپنی 'ٹوٹل انجینیئرز'ںکے سربراہ بھی شامل ہیں۔
ان کے دفتری حکام کے مطابق صدر میکروں اپنی ملاقاتوں کے دوران شامی قیادت پر زور دیں گے کہ وہ سب کو ساتھ لے کر چلے اور تمام شامی طبقوں کا احترام کرے۔ خود بھی میکروں ہر طرح کے پس منظر کی حامل شخصیات سے ملاقاتیں کریں گے۔
فرانسیسی صدارتی دفتر کے حکام نے ان کا دورہ شروع ہونے سے پہلے بتایا شام فرانس کا صرف اسی صورت ایک شراکت دار ملک بن سکتا ہے کہ شام میں تمام طبقات کو نمائندگی دیتے ہوئے ایک نظام تشکیل دیا جائے۔ یہ سوال ہی نہیں پیدا ہو سکتا کہ تمام طبقات کو ساتھ ملائے بغیر کسی مخصوص نوعیت کا اقتدار محض ایک سے دورے کو منتقل کر لیا جائے۔
یاد رہے شام کے صدر احمد الشراع نے پچھلے سال فرانس کا دورہ کیا تھا ، وہ ایک بار میکروں سے مل چکے ہیں۔ احمد الشراع کا بھی بشارالاسد کی حکومت گرانے کے بعد کسی یورپی ملک کا پہلا دورہ تھا۔ فرانس نمایاں یورپی ملک ہے جس نے سب سے پہلے یورپی برادری سے مطالبہ کیا کہ شام پر عاید یورپی پابندیاں اب ختم کر دی جائیں۔ یورپی ممالک نے زیادہ ترپابندیوں کا خاتمہ پچھلے سال ہی کر دیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں