مغربی کنارے میں "جدید فنون فیسٹول" دو سالہ وقفے کے بعد دوبارہ شروع

غزہ جنگ کے باعث تعطل آیا، منتظمین نے میلے کو "شناخت کے لیے جدوجہد" قرار دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 6 منٹ

عربی زبان کی معلمہ علا حنا غزہ جنگ کی وجہ سے دو سال کے وقفے کے بعد دوبارہ شروع ہونے والے "رام اللہ معاصر آرٹس فیسٹیول" کی افتتاحی تقریب میں شرکت کے لیے شمالی اسرائیل کے قصبے الرامہ سے مقبوضہ مغربی کنارے کے شہر رام اللہ تک کا سو کلومیٹر سے زیادہ کا فاصلہ طے کر کے آئی ہیں۔

علا حنا نے اے ایف پی کو بتایا کہ جو کچھ ہو رہا ہے، خاص طور پر غزہ میں، اس پر اب بھی بہت بڑا دکھ ہے، غزہ کے لوگ ہمارے دلوں میں ہیں، وہ ہمیں مثبت توانائی اور خوشی دیتے ہیں اور ہمارے دلوں میں خوشی کے لیے ہمیشہ ایک جگہ موجود رہتی ہے۔

اکتوبر 2023 میں شروع ہونے والی جنگ کے پس منظر میں تعطل کے بعد یہ آرٹ فیسٹیول اپنے اٹھارویں ایڈیشن کے ساتھ واپس آیا ہے۔ اس فیسٹول کو منتظمین "شناخت کے لیے جدوجہد" کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ گزشتہ دو سالوں کے دوران رام اللہ اور مغربی کنارے کے دیگر شہروں اور قصبوں ، جن پر اسرائیل نے 1967 سے قبضہ کر رکھا ہے، میں منعقد ہونے والے آرٹ فیسٹیول اسی وجہ سے اور مغربی کنارے میں تشدد کے بڑھتے ہوئے واقعات، اسرائیلی فوج کے چھاپوں اور اسرائیلی آباد کاروں کے حملوں کی وجہ سے روک دیے گئے تھے۔

فیسٹیول کے ڈائریکٹر خالد علیان نے "اے ایف پی" کو بتایا کہ یہ فیسٹیول غزہ کی پٹی پر نسل کشی کی جنگ کی وجہ سے دو سال کے وقفے کے بعد دوبارہ شروع ہو رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ تاریخی طور پر ثقافت اور فنون نے ہماری جدوجہد میں ایک اہم اور منفرد کردار ادا کیا ہےکیونکہ یہ ہماری شناخت کی عکاسی کرتے ہیں اور بحیثیت فلسطینی معاشرہ ہمارے کردار کو مضبوط کرتے ہیں۔

اس فیسٹیول کا انعقاد "سريّة رام الله الأولى" کی جانب سے کیا جاتا ہے جو 1927 میں قائم ہونے والا ایک سماجی ادارہ ہے۔ اس سال اس فیسٹول کا نام "رام اللہ کنٹیمپریری ڈانس فیسٹیول" سے بدل کر "رام اللہ کنٹیمپریری آرٹس فیسٹیول" کر دیا گیا ہے۔ 160 منٹ تک جاری رہنے والے اس ڈرامے کے دوران تقریباً 800 افراد نے حیفہ کے "خشبہ" تھیٹر کے چھ فنکاروں اور ایک پرکیوشنسٹ (طبلہ نواز) کی طرف سے پیش کیے گئے ڈرامے کو تالیاں بجا کر، گا کر اور کبھی کبھار ہنس کر داد دی۔

یہ ڈرامہ عربی کے مشہور ترین لوک قصوں میں سے ایک عرب قبیلے بنی ہلال کی سوانح عمری بیان کرتا ہے۔ بیلجیم، آسٹریا، جرمنی اور فرانس کے فیسٹیولز میں پیش کیے جانے کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ یہ شو فلسطینی علاقوں میں پیش کیا جا رہا ہے۔ اس شو میں ماڈلز اور ویژول ایفیکٹس کا استعمال کرتے ہوئے لوک گیتوں، جدید اور روایتی رقص کے مناظر شامل کیے گئے تھے۔ ڈرامے کے میوزک کمپوزر حبیب شحادہ نے بتایا کہ یہ ڈرامہ مصری اور شامی دونوں روایات میں رائج کہانی پر مبنی ہے لیکن پہلی بار اسے فلسطینی انداز میں تیار کیا گیا ہے۔

انہوں نے رام اللہ میں فلسطینی ثقافتی زندگی کی واپسی کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ فلسطینی عوام کے خلاف ہر جارحیت شروع میں فلسطینی ثقافت کے لیے ایک شدید، انتہائی بدنیتی پر مبنی اور مشکل دھچکا اپنے ساتھ لاتی تھی۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہمارے ثقافتی منصوبے کو مدداور دوبارہ تعمیر کی ضرورت ہے۔ آگے بڑھنے اور نئی شروعات کے لیے مناسب توانائی تلاش کرنے کی بھی ضرورت ہے۔

مزاحمت کا ایک عمل

علیان کے مطابق اس سال فیسٹیول کا دائرہ کار وسیع کر کے مختلف عصری فنون کو شامل کیا گیا ہے جس سے مختلف شعبوں میں فلسطینی فنکاروں کو اپنے کام پیش کرنے کے زیادہ مواقع مل رہے ہیں۔ یہ فیسٹیول 16 جولائی تک جاری رہے گا۔ اس میں 48 فنکار اور فنی گروپ شرکت کر رہے ہیں۔ اس کے پروگرام میں آرٹ پرفارمنس کی ایک وسیع رینج شامل ہے۔ اس رینج میں رقص اور تھیٹر پرفارمنس، سات "ویڈیو آرٹ" ورکس، ایک فوٹو گرافی کی نمائش، اور رقص اور ڈانس فلم پروڈکشن سے متعلق خصوصی ورکشاپس شامل ہیں۔

یہ فیسٹیول فلسطین آرٹس فورم کا بھی انعقاد کرتا ہے جو 15 ملکوں کے 22 فنکاروں، ثقافتی پروگرامرز اور آرٹ کے اداروں کو اکٹھا کرتا ہے تاکہ تعاون، پروڈکشن اور ثقافتی تبادلے کے نئے مواقع پیدا کیے جا سکیں۔ فیسٹیول فلسطینی فنکاروں کے ایک گروپ کو بھی خراج تحسین پیش کرتا ہے جن میں محمد بکری، عادل الترتیر، خلیل طافش اور ایناس السقا شامل ہیں۔ یہ وہ فنکار ہیں جنہیں "فلسطینی تخلیق کاروں کے علمبردار" قرار دیا گیا ہے۔

منتظمین کا کہنا ہے کہ انہوں نے فلسطینی تھیٹر، سنیما اور ثقافت پر ایک انمٹ چھاپ چھوڑی ہے اور دنیا تک فلسطینی بیانیے کو پہنچانے میں اپنا کردار ادا کیا ہے۔ فیسٹیول کے منتظمین نے اپنے بیان میں اس بات پر زور دیا کہ ثقافت کوئی عیاشی نہیں ہے اور فن زندگی کا کوئی حاشیہ نہیں ہے بلکہ یہ اس کی مزاحمت اور بقا کی ایک شکل ہے۔

آرٹ کے ناقد یوسف الشایب نے کہا کہ اپنے پروگرام میں اس قدر تنوع کے ساتھ اس طرح کے فیسٹیول کا انعقاد اور دو سال کے وقفے کے بعد اس وقت ان حالات کے پیش نظر ایک کامیابی ہے جن سے غزہ گزرا ہے اور مغربی کنارے میں آباد کاروں اور قبضے کے اقدامات، گھیرا تنگ کرنے اور ناکہ بندیوں کے سائے میں یہ ایک بڑی کامیابی ہے۔ انہوں نے مزید کہازندگی کے عمل کو جاری رکھنا بذات خود مزاحمت کا ایک عمل ہے۔ جہاں تک حنا کا تعلق ہےتو انہوں نے امید کا اظہار کیا کہ فلسطینی ثقافتی، فنی اور موسیقی کی زندگی اپنی سابقہ حالت میں واپس آ جائے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ موسیقی اور خوشی کے بغیر کوئی زندگی نہیں ہے۔۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں