حملوں کے باوجود... واشنگٹن کی تہران کے ساتھ بات چیت جاری رکھنے کی تصدیق

حالیہ حملوں میں امریکہ نے ایران میں 90 عسکری اہداف کو نشانہ بنایا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

خطے میں جاری حملوں کے باوجود امریکی انتظامیہ نے تصدیق کی کہ امریکہ اور تہران اپنے تنازع کے لیے سفارتی حل تلاش کرنے پر کام جاری رکھے ہوئے ہیں۔

ایک حکومتی عہدیدار نے جمعرات کے روز جرمن خبر رساں ادارے کو بتایا کہ امریکہ اب بھی حل تلاش کرنے کے لیے پُر عزم ہے اور تکنیکی مذاکرات جاری ہیں۔ ساتھ اس بات کی طرف بھی اشارہ کیا گیا کہ ایرانی قیادت کا رویہ فریم ورک معاہدے کی نا قابل قبول سطح پر خلاف ورزی ہے۔

اسی تناظر میں "axios" ویب سائٹ نے ایک امریکی عہدیدار کے حوالے سے بتایا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ اب بھی حل تلاش کرنے کے لیے پُر عزم ہے اور تکنیکی مذاکرات کا مقصد ایٹمی معاہدے تک پہنچنا ہے۔

لیکن عہدیدار نے زور دیا کہ حالیہ ایرانی حملوں پر ڈونلڈ ٹرمپ کا موقف واضح ہے۔ امریکی صدر نے بغیر کسی ابہام کے اپنے موقف کا اظہار کیا ہے اور تجارتی جہازوں پر حملے دہشت گردانہ کارروائیاں ہیں۔

عہدے دار نے مزید کہا کہ امریکہ اور تہران کے درمیان مفاہمت کی یاد داشت کارکردگی اور وابستگی پر منحصر ہے۔ انھوں نے ایران کے اقدامات کو ناقابل قبول سطح پر کارکردگی میں ناکامی قرار دیا ہے۔

یہ امریکی موقف وسیع عسکری کشیدگی کے بعد سامنے آیا ہے، جس کے دوران امریکہ نے آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کو نشانہ بنانے والے حملوں کے جواب میں ایران کے اندر فضائی حملے کیے، جبکہ تہران نے خطے میں امریکی مقامات اور اڈوں پر حملوں کے ساتھ جواب دیا۔

امریکی بمباری کے نتیجے میں تنازع کو روکنے کے لیے فریقین کے درمیان طے پانے والی مفاہمت کی یاد داشت کے باوجود، وزارت صحت کے تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق ایران میں دو دنوں کے دوران 17 افراد ہلاک اور 93 زخمی ہوئے۔

امریکی عسکری عہدیداروں نے کہا کہ حالیہ حملوں میں تقریباً 90 ایرانی عسکری اہداف کو نشانہ بنایا گیا، جن میں فضائی دفاعی نظام، میزائلوں کے ذخیرہ کرنے کے مقامات اور ڈرون شامل تھے۔

تاہم ایران نے امریکہ پر شہری بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کا الزام لگایا، جس میں پُل اور تہران اور مشہد (شمال مشرق) کو ملانے والی ریلوے لائن شامل ہے۔ ایرانی عہدیدار کے مطابق حملوں نے صوبہ بوشہر (جنوب) میں جوہری بجلی گھر کے ماحول کو بھی متاثر کیا، جسے جنگ کے دوران پہلے بھی نشانہ بنایا جا چکا ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کے روز اعلان کیا تھا کہ ایران کے ساتھ مفاہمت کی یاد داشت ختم ہو چکی ہے، جس کے بعد انہوں نے تہران کے ساتھ معاہدہ کرنے کی کوشش میں امریکہ کے ساتھ ایرانی رابطے کا انکشاف کیا، جو عسکری تصادم کے باوجود مواصلاتی چینلز کے جاری رہنے کا اشارہ ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں