امریکہ - ایران جھڑپوں کے بعد آبنائے ہرمز میں ٹینکرز کی آمدورفت سست ہو گئی
تیل کی رسد، جہازرانی اور دوبارہ جنگ ہونے سے متعلق خدشات پیدا ہو گئے ہیں
اس ہفتے امریکہ اور ایران کے درمیان حملوں کے بعد جمعہ کے روز آبنائے ہرمز میں ٹینکرز کی روزانہ آمدورفت کم ہوتی نظر آتی ہے۔ فریقن نے اس حوالے سے بحث کی تجدید کی ہے کہ اہم آبی گذرگاہ کا کنٹرول کس کے پاس ہے۔
ان حملوں سے عالمی سطح پر تیل کی رسد اور جہازرانی کی بحالی پر دوبارہ تشویش پیدا ہونے کے ساتھ ساتھ ایک عبوری جنگ بندی کی نزاکت نمایاں ہوئی ہے۔
جمعہ کو تیل کی قیمتوں میں کمی آئی لیکن دوبارہ کشیدگی کے بعد ہفتہ وار چار تا پانچ فیصد اضافے کا امکان ہے۔
بین الاقوامی توانائی ایجنسی نے کہا کہ جون میں آبنائے کے ذریعے ترسیل دوبارہ شروع ہوئی تو تیل کی عالمی رسد میں 4.1 ملین بی پی ڈی کا اضافہ ہوا لیکن یہ جنگ سے پہلے کی سطح سے 9.4 ملین بی پی ڈی نیچے رہی۔
ایجنسی نے ڈیزل اور پٹرول کی سخت رسد کے بارے میں خبردار کیا۔
فریقین کے درمیان حملوں کے تبادلے کے بعد اس ہفتے واشنگٹن نے کہا کہ اس کی کارروائی کا مقصد آبنائے کو کھلا رکھنا ہے اور یہ کہ ایران آبی گذرگاہ پر کنٹرول نہیں رکھتا۔
تاہم تہران نے خبردار کیا کہ آبنائے صرف اس کی شرائط پر دوبارہ کھولی جائے گی اور کسی بھی امریکی مداخلت کا "شدید ردِ عمل" ہو گا۔
تین قطری اور سعودی بحری جہازوں پر حملوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو "جنگ بندی ختم" کا اعلان کرنے پر آمادہ کیا لیکن بعد میں ایک امریکی اہلکار نے کہا کہ واشنگٹن ایران کے ساتھ اس مسئلے کا حل تلاش کرنے اور "تکنیکی بات چیت جاری رکھنے" کے لیے بدستور پُرعزم ہے۔
نیویارک ٹائمز نے بتایا ہے کہ قطر بحران کو کم کرنے کے لیے واشنگٹن اور تہران سے گفتگو کر رہا ہے۔
اس ہفتے کے حملوں سے پہلے ٹینکرز کی روزانہ آمدورفت بڑھ کر اوسطاً 40 ہو گئی تھی۔