امریکہ کا ایران سے آبنائے ہرمز کھولنے کا باضابطہ اعلان کرنے کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 5 منٹ

امریکی اعلیٰ حکام نے جمعہ کی شام کہا ہے کہ امریکہ ایران سے مطالبہ کر رہا ہے کہ وہ ایک عوامی بیان جاری کرے جس میں آبنائے ہرمز میں جہازوں پر حملے بند کرنے اور خلیج کے تمام بحری راستوں کو بغیر کسی فیس کے شپنگ کے لیے کھولنے کی تصدیق کرے۔

حکام نے محدود تعداد میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ دنوں دونوں ممالک کے درمیان ہونے والی بات چیت نتیجہ خیز رہی ہے۔

ایک امریکی عہدیدار نے کہا:ہم چاہتے ہیں کہ ایران باضابطہ طور پر اعلان کرے کہ آبنائے ہرمز کے تمام راستے کھلے ہیں اور اس نے جہازوں پر فائرنگ بند کر دی ہے۔ اگر وہ یہ بیان جاری نہیں کرتا تو ہمارے پاس اسے مطمئن کرنے کے لیے کچھ نہیں ہوگا۔

ایک اعلیٰ امریکی عہدیدار کے مطابق ایران نے واشنگٹن کو بتایا کہ حالیہ بحری حملے اس کے نظام کے ایک بے قابو حصےکی جانب سے کیے گئے۔

ایک دوسرے عہدیدار نے کہا:ایسا لگتا ہے کہ ایران میں سخت گیر قدامت پسندوں اور عملیت پسند حلقوں کے درمیان اقتدار کی کشمکش سامنے آ رہی ہے۔

امریکی حکام کے مطابق اس ہفتے حملوں کا دوبارہ آغاز اس وقت ہوا جب ایرانی سخت گیر عناصر کے ایک منحرف دھڑے نے واشنگٹن اور تہران کے درمیان طے پانے والے جنگ بندی معاہدے کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کی۔

اس ہفتے تین جہازوں پر حملے کیے گئے، جس کے جواب میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایرانی اہداف پر حملے کیے۔

ٹرمپ نے یہ بھی اعلان کیا کہ جون میں دونوں ممالک کے درمیان طے پانے والا جنگ بندی معاہدہ ختم ہو چکا ہے۔

ایک امریکی عہدیدار نے کہا:ہم امید کرتے ہیں کہ ایران واضح طور پر اعلان کرے گا کہ اس نے جہازوں پر فائرنگ بند کر دی ہے اور وہ ضمنی یا صریح طور پر اپنی غلطی کا اعتراف کرے گا۔ ہم اس وقت اسی پر کام کر رہے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا:صدر ٹرمپ نے ہمیں بات چیت جاری رکھنے کی ہدایت کی ہے، لیکن اگر ایران جہازوں پر حملے جاری رکھتا ہے یا کوئی اور جارحانہ کارروائی کرتا ہے تو ہم اس کا جواب دیں گے۔

امریکہ کی بنیادی شرط یہ ہے کہ ایران اپنے پاس موجود جوہری مواد حوالے کرے۔ امریکی حکام کے مطابق تہران کے پاس 900 پاؤنڈ سے زائد اعلیٰ درجے کا افزودہ یورینیم موجود ہے، جسے صدر ٹرمپ اور دیگر امریکی عہدیدار جوہری غبارقرار دیتے ہیں۔جوہری مسئلہ جون میں دونوں ممالک کے درمیان دستخط شدہ مفاہمتی یادداشت کے تحت مختص 60 روزہ مذاکراتی مدت کے دوران زیر بحث لایا جانا تھا۔

ایک امریکی عہدیدار نے کہا:میں یہاں واضح کرنا چاہتا ہوں کہ اگر ہمیں یہ جوہری مواد نہیں ملتا تو ایران کے ساتھ کوئی معاہدہ نہیں ہوگا۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایران کے انکار کی صورت میں امریکہ کے پاس بہت سے آپشنزموجود ہیں، جن میں فوجی اور اقتصادی اقدامات بھی شامل ہیں۔

ایک امریکی عہدیدار نے تہران کے ساتھ جنگ بندی کے خاتمے سے متعلق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اعلان پر واشنگٹن کا مؤقف واضح کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ ضرورت پڑنے پر ایران کا جواب دے گا، لیکن وہ خود ازخود دوبارہ فوجی کارروائی شروع نہیں کرے گا۔

عہدیدار نے کہا:صدر ٹرمپ نے ایرانی اقدامات کے بارے میں اپنے جذبات کو پوری وضاحت کے ساتھ بیان کیا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ اپنے اس مؤقف پر قائم ہے کہ اگر ایران فائرنگ کرے گا تو ہم جواب دیں گے۔

امریکی عہدیدار نے مزید کہا:جیسا کہ صدر ٹرمپ نے کہا، ایرانیوں نے مذاکرات جاری رکھنے کی درخواست کی ہے اور گزشتہ ہفتوں کے دوران مشاورت جاری رہی ہے۔

انہوں نے زور دے کر کہا کہ ایران کو کبھی بھی جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرنے دیا جائے گا۔انہوں نے بتایا کہ ٹرمپ نے امریکی مذاکرات کاروں کو ایران کے ساتھ معاہدے تک پہنچنے کے لیے محدود وقت دیا ہے۔ تاہم انہوں نے آئندہ چیلنجز کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر مذاکرات ناکام ہو جاتے ہیں تو صدر کے پاس مختلف قسم کے اختیارات موجود ہیں۔

عہدیدار نے یہ بھی کہا کہ ایران میں اس وقت اقتدار کی کشمکش جاری ہے، کیونکہ جنگ کے آغاز میں امریکی اور اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں ایران کے رہنما علی خامنہ ای کے قتل کے بعد سیاسی صورتحال مزید پیچیدہ ہو گئی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں

  • مطالعہ موڈ چلائیں
    100% Font Size