ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ہفتے کی صبح کہا کہ تہران نے امریکا کے ساتھ مفاہمتی یادداشت کے حوالے سے اپنا وعدہ پورا کیا ہے۔
یہ بیان امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے جنگ بندی کے خاتمے کے اعلان اور نئی بات چیت پر آمادگی ظاہر کرنے کے بعد سامنے آیا۔
عراقچی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا:ایران نے اب تک اپنا وعدہ پورا کیا ہے، اس کے برعکس امریکی وزیر خزانہ مفاہمتی یادداشت کی شق 9 کی خلاف ورزی کر رہے ہیں۔
Iran has so far kept its word, unlike the so-called U.S. Treasury Secretary who is violating Para 9 of the MoU.
— Seyed Abbas Araghchi (@araghchi) July 11, 2026
That violation follows other violations and missteps by the United States.
Reality check: There can only be mutual compliance.
انہوں نے مزید کہا: ہم نے مفاہمتی یادداشت کے تحت اپنی ذمہ داریاں پوری کی ہیں، جبکہ امریکا پر معاہدے کی بعض شقوں کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا گیا ہے۔
نئی پابندیاں
اس سے قبل امریکا نے ایران سے متعلق نئی پابندیاں عائد کیں، جن میں ایرانی رہنمامجتبیٰ خامنہ ای کےایک اہم مالی معاون کے ساتھ مزید 13 افراد اور اداروں کو نشانہ بنایا گیا۔
یہ اقدام تہران کی جانب سےآبنائے ہرمزمیں تیل بردار جہازوں پر حملوں کے دوبارہ آغاز کے بعد سامنے آیا۔
امریکی وزارت خزانہ کے مطابق پابندیوں کا ہد ف علی انصاری تھے، جو ایک ایرانی بینکار اور کاروباری شخصیت ہیں۔
برطانیہ بھی انہیں ماضی میںسپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کی سرگرمیوں کے لیے مالی معاونت کے الزام میں پابندیوں کی فہرست میں شامل کر چکا ہے۔ ان کے علاوہ دیگر افراد اور اداروں کو بھی پابندیوں کی زد میں لایا گیا۔
وزارت خزانہ نے علی انصاری کو مجتبیٰ خامنہ ای کا ''اہم مالی معاون'' قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے سرکاری فنڈز سے حاصل ہونے والی دولت کو بیرونِ ملک جائیدادوں اور کاروباری اثاثوں کے وسیع پورٹ فولیو میں منتقل کیا، جس کا مقصد اپنی ذاتی دولت، حکومتی اشرافیہ اور ایرانی پاسداران انقلاب کو فائدہ پہنچانا تھا۔
مزید برآں امریکی وزارت خزانہ کےدفتر برائے غیر ملکی اثاثہ جات کنٹرول(OFAC) نے ایرانی کرنسی ایکسچینج دفاتر کو بھی نشانہ بنایا۔
وزارت کے مطابق یہ دفاتر پابندیوں کا شکار ایرانی بینکوں کی جانب سے ہر سال اربوں ڈالر منتقل کرتے ہیں اور غیر قانونی مالی سرگرمیوں کو چھپانے کے لیے فرضی کمپنیوں کے نیٹ ورک استعمال کرتے ہیں۔
ایرانی حملوں کے جواب میں
نئی پابندیوں کا اعلان ایسے دن کیا گیا جب خطے میں نسبتاً سکون دیکھا گیا، تاہم اس سے قبل ہفتے کے دوران ایران کی جانب سے تین تجارتی آئل ٹینکروں کو نشانہ بنائے جانے کے بعد کشیدگی دوبارہ بڑھ گئی تھی۔
اس کے جواب میں امریکا نے ایرانی مقامات پر حملے کیے، جبکہ ایران نے خطے کے بعض ممالک پر جوابی کارروائیاں کیں۔
امریکی وزارت خزانہ نے ان پابندیوں کو اس ہفتےآبنائے ہرمزسے گزرنے کی کوشش کرنے والے جہازوں پر ایرانی حملوں کے جواب کے طور پر بیان کیا۔پابندیوں کے حوالے سے جاری بیان میں امریکی وزیر خزانہ سکاٹ بیسنٹ نے کہا کہ وزارت تمام دستیاب ذرائع استعمال کرتی رہے گی تاکہ خامنہ ای اور دیگر اعلیٰ ایرانی حکام کو عالمی مالیاتی نظام سے الگ کیا جا سکے۔
دوسری جانب ایران نے کہا کہ اگر امریکا گزشتہ ماہ طے پانے والی مفاہمتی یادداشت کی خلاف ورزی کرتا ہے تو وہ ''جامع دفاع'' کے لیے تیار ہے۔
ایران کے چیف مذاکرات کارمحمد باقر قالیبا ف نے ٹیلیگرام پر ایک بیان میں کہا کہ تہران کی جنگ کبھی بھی ہتھیار ڈالنے پر ختم نہیں ہوگی۔