امارات کو فوجی آلات، اے آئی چپس اور کمرشل سیٹلائٹس کی فروخت پر عاید امریکی پابندیاں ختم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

امریکی محکمہ تجارت نے اس کنٹرول کو نرم کر دیا ہے جو متحدہ عرب امارات کو فوجی آلات کی فراہمی، کمرشل سیٹلائٹس کی فروخت اور مصنوعی ذہانت کے لیے کام آنے والی چپس کی فروخت پر پہلے سے پابندیاں عائد کر رکھی تھیں۔ یہ اعلان جمعہ کے روز امریکی حکومت کے رجسٹرار نے کیا ہے۔

متحدہ عرب امارات کی حکومت نے ایسی کمپنیوں کی منظوری دی ہے جو جدید آلات اور اس سلسلے میں لائسنس کے حصول کی اہل ہوں گی۔ بتایا گیا ہے کہ ان اماراتی کمپنیوں میں جی 42 اور کور 42 شامل ہیں۔

علاوہ ازیں امارات میں کام کرنے والی امریکی کمپنیاں بھی اس فہرست میں شامل کی گئی ہیں۔ جن میں ایمازون، ایپل اور ایکس اے آئی بطور خاص شامل ہیں۔ اب ان کمپنیوں کو اے آئی چپس کے حصول کے لیے مزید کوئی لائسنس لینے کی ضرورت نہیں ہے۔

امریکی محکمہ تجارت نے کہا ہے کہ امریکہ نے متحدہ عرب امارات کے ساتھ دہائیوں سے مل کر کام کیا ہے۔ تاکہ ایران اور اس کی پراکسیز کا مقابلہ کیا جا سکے۔ نیز حماس، حزب اللہ اور حوثیوں کا توڑ کیا جا سکے۔

حال ہی میں ایران کے خلاف جنگ میں بھی متحدہ عرب امارات نے کلیدی کردار ادا کیا ہے تاکہ امریکی مفادات کو آگے بڑھایا جا سکے۔

امریکی محکمہ تجارت کی طرف سے اس موقع پر ایرن کے خلاف 28 فروری سے شروع ہونے والی امریکہ اسرائیل کا جنگ کا بطور خاص ذکر کیا گیا اور کہا گیا کہ متحدہ عرب امارات مشرق وسطیٰ میں امریکہ کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے اور اس کی امریکہ میں سرمایہ کاری کی مالیت ایک ٹریلین ڈالر سے بھی زیادہ ہے۔

امریکی محکمہ تجارت نے عرب امارت کو ان ملکوں کے گروپ میں شامل کر دیا ہے جن کو لائسنس سے زیادہ سے زیادہ استثناء حاصل ہوگا اور وہ فوجی و غیر فوجی استعمال کی ان کنٹرولڈ آئٹمز کو بھی خرید سکیں گے۔ اس حوالے سے یہ بھی اہم بات ہے کہ متحدہ عرب امارات وہ واحد ملک ہے جو کثیر جہتی برآمدات گروپ میں باضابطہ طور پر شامل نہیں ہے لیکن امریکہ اسے یہ سہولتیں دے رہا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں

  • مطالعہ موڈ چلائیں
    100% Font Size