امریکہ نے مفاہمتی یادداشت کی خلاف ورزیاں جاری رکھیں تو ایران بھی پابند نہیں رہے گا : ایران

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

اقوام متحدہ میں ایرانی سفیر نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکہ کی طرف سے ڈیل کی خلاف ورزیاں جاری رکھی گئیں تو ایران بھی معاہدے کی پابندی نہیں کرے گا۔ سفیر کا یہ بیان ایرانی سرکاری ٹی وی 'آئی آر آئی بی' نے ہفتے کے روز نشر کیا ہے۔

ایران کے سفیر نے پاکستان کی مدد سے امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والے جنگ بندی معاہدے کا حوالہ دیتے ہوئے جمعہ کے روز نیو یارک میں کہا اگر امریکہ اس معاہدے کی پابندی کے بجائے خلاف ورزیاں کرتا رہے گا تو ایران بھی خود کو مزید اس معاہدے کا پابند نہیں رکھے گا۔

امریکہ و ایران کے درمیان مفاہمتی یادداشت کے لیے کام ماہ اپریل میں شروع ہوا تھا ، تاہم اس پر دستخط ماہ جون میں ممکن ہوئے۔ اس مفاہمتی یادداشت کےمطابق 60 دنوں کے اندر اندر مذاکراتی عمل مکمل کر کے حتمی معاہدے کی تشکیل کرنا تھی۔ لیکن صرف دو ہفتے بعد ہی اس مفاہمتی یادداشت کی خلاف ورزیاں اور ایک دوسرے کے خلاف حملے شروع ہو گئے۔

یہاں تک کہ صدر ٹرمپ نے نیٹو سربراہ کانفرنس کے دوران اس مفاہمتی یادداشت کے باقی نہ رہنے کا بھی اعلان کر دیا۔ مگر ساتھ ہی یہ بھی کہہ گئے کہ ایران کے ساتھ بات جاری رہے گی۔

ایران کے اقوام متحدہ میں سفیر عامر سعید ایروانی نے کہا 'امریکہ نے ایران کے خلاف پھر سے وسیع پیمانے پر حملے کر کے نہ صرف ایرانی خود مختاری اور سالمیت پر حملے کیے ہیں بلکہ اس معاہدے کی بھی خلاف ورزی کی ہے۔

انہوں نے کہا ایران اب تک اس مفاہمتی یادداشت پرعمل درآمد کا خواہاں ہے۔ مگر ضروری ہے کہ امریکہ بھی اس کی پابندی کرے اور اس سلسلے میں اپنی ذمہ داریاں پوری کرے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں