امن سے لے کر تعمیرِ نو تک، غزہ میں جنگ کے بعد کے منصوبے زمینی حقائق کے چیلنجز سے ٹکرا گئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 7 منٹ

غزہ میں جنگ بندی کو نافذ ہوئے نو ماہ گزرنے کے بعد اور دوبارہ لڑائی شروع ہونے کے خطرے کے باوجود، متعلقہ ادارے جنگ کے بعد کے مرحلے کے لیے اپنے منصوبوں پر کام جاری رکھے ہوئے ہیں۔

یہ منصوبے ایسے فلسطینی علاقے کے لیے ہیں ،جو دو سالہ جنگ کے باعث شدید تباہی کا شکار ہو چکا ہے۔

انتظامی امور، سکیورٹی اور انسانی امداد سے متعلق منصوبے اب شکل اختیار کرنا شروع ہو گئے ہیں، تاہم یہ بڑی حد تک نظریاتی سطح پر ہی موجود ہیں، کیونکہ ابھی تک کوئی سیاسی معاہدہ طے نہیں پا سکا، نہ ہی قابلِ اعتماد سکیورٹی ضمانتیں حاصل ہوئی ہیں اور نہ ہی مستقل مالی وسائل کا انتظام ہو سکا ہے۔

یہاں ان اہم چیلنجز کا ذکر کیا جا رہا ہے، جن کا سامنا مقامی اور بین الاقوامی فریقوں کو درپیش ہے، جو 20 لاکھ سے زائد فلسطینیوں پر مشتمل اس تباہ حال علاقے کی دوبارہ تعمیر کی کوشش کر رہے ہیں۔

اعلان کردہ منصوبے، مگر عملی اقدامات کا فقدان

غزہ میں جنگ کے بعد کے کسی بھی منظرنامے میں سکیورٹی ایک فیصلہ کن عنصر کی حیثیت رکھتی ہے۔ یہ جنگ 7 اکتوبر 2023 کو حماس کے اسرائیل پر حملے کے بعد شروع ہوئی تھی۔

اسرائیل حماس کو غیر مسلح کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے، جبکہ حماس اس وقت تک اس مطالبے کو مسترد کرتی ہے جب تک کوئی جامع حل نہ نکلے، غزہ میں فلسطینی اتھارٹی قائم نہ کی جائے اور اسرائیلی فوج کا انخلا شروع نہ ہو۔

تاہم امن کونسل کے ایک عہدیدار جو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے حماس اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی معاہدے میں ثالثی کے کردار کے بعد قائم کی گئی تھی، نے کہا ہے کہ زمینی سطح پر پیش رفت کے لیے اب حماس کا غیر مسلح ہونا بنیادی شرط نہیں رہا۔

انہوں نے بتایا کہ کونسل ایک آزمائشی انسانی امدادی زون قائم کرنے پر کام کر رہی ہے۔ ان کے مطابق پورا منصوبہ انتہائی مایوس کن منظرنامے کو سامنے رکھ کر تیار کیا گیا ہے، یعنی حماس کا اپنے ہتھیار ترک کرنے سے انکار۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے کو دیے گئے بیان میں عہدیدار نے کہا:مذاکرات کے دوران ہم نے کوئی نمایاں پیش رفت نہیں کی، لیکن اس کے باوجود ہم آگے بڑھ رہے ہیں۔

انہوں نے مزید بتایا کہ چار ممالک (مراکش، کوسوو، البانیہ اور قازقستان) فی الحال ایک منصوبے میں سنجیدگی سے شامل ہیں، جس کے تحت ایک بین الاقوامی استحکامی فورس (ISF) قائم کی جائے گی۔

یہ فورس امن کونسل کے زیرِ نگرانی کام کرے گی اور غزہ میں نظم و ضبط برقرار رکھنے کی ذمہ دار ہوگی۔غزہ اور اسرائیل کے درمیان کرم ابو سالم کراسنگ کے قریب اسرائیلی علاقے میں ایک لاجسٹک اڈہ تقریباً مکمل ہونے کے قریب ہے، جہاں ممکنہ تعیناتی سے قبل تقریباً 500 فوجیوں کو رکھا جا سکے گا۔

تاہم ابھی یہ طے ہونا باقی ہے کہ یہ فورس زمینی سطح پر کس طریقہ کار کے تحت مداخلت کرے گی۔اسی دوران فلسطینی پولیس فورس کے قیام کے لیے تیاریاں بھی جاری ہیں۔

اسی ذریعے کے مطابق تقریباً 20 ہزار افراد نے شمولیت کے لیے درخواستیں جمع کرائی ہیں۔تاہم ایک سفارتی ذریعے نے فرانسیسی خبر رساں ادارے کو بتایا کہ تربیتی پروگرام ابھی شروع نہیں ہوئے، جبکہ اسرائیل موجودہ بھرتی فہرستوں کو مسترد کر رہا ہے۔ اسرائیل کا مؤقف ہے کہ 5 ہزار اہلکاروں پر مشتمل پولیس فورس بہت بڑی تعداد ہوگی۔

تعمیرِ نوکی ضروریات بے شمار، مگر پیش رفت محدود

غزہ کی پٹی میں انسانی ضروریات اب بھی بہت زیادہ ہیں۔ اقوام متحدہ کے اندازوں کے مطابق غزہ کی تعمیرِ نو میں کئی سال لگ سکتے ہیں اور اس کے لیے دسیوں ارب ڈالرز درکار ہوں گے۔ جبکہ زمینی صورتحال سے متعلق کام کرنے والی بین الاقوامی تنظیموں کے مطابق تعمیراتی سامان اور ملبہ ہٹانے کے آلات بھی ناکافی ہیں۔

امن کونسل کے مطابق بڑے پیمانے پر عطیات کے وعدوں کے باوجود متوقع مالی امداد کا ایک بڑا حصہ ابھی تک جاری نہیں کیا جا سکا۔

کونسل کے ایک عہدیدار نے فرانسیسی خبر رساں ادارے کو بتایا:ہمارے پاس موجود مالی وسائل فوری ضروریات پوری کرنے کے لیے کافی ہیں، لیکن اگر مزید انسانی امدادی زونز قائم کرنے کا منصوبہ بنایا گیا تو ہمیں مزید فنڈز کی ضرورت ہوگی۔

اس عہدیدار نے رواں ہفتے کے آغاز میں بتایا تھا کہ کونسل فی الحال غزہ کے جنوبی علاقے رفح میں ایک آزمائشی انسانی امدادی زون قائم کرنے کا منصوبہ بنا رہی ہے، جس کا مقصد دسیوں ہزار شہریوں کو جگہ فراہم کرنا ہے۔ ان افراد کو سکیورٹی جانچ کے عمل سے بھی گزرنا ہوگا۔

حکومت اور ادارے صرف نظریاتی طور پر موجود

حماس نے حکومتی امور کی کمیٹی کو تحلیل کرنے کا اعلان کیا ہے، جو 2007 سے غزہ کی پٹی کا انتظام سنبھال رہی تھی۔

حماس نے اسی سال فتح کے ساتھ مسلح جھڑپوں کے بعد طاقت کے ذریعے غزہ کا کنٹرول حاصل کیا تھا۔

کمیٹی کے خاتمے کے فیصلے کے بعد ان انتظامی ذمہ داریوں کو غزہ کے انتظام کے لیے قومی کمیٹی (NCAG) کے حوالے کر دیا گیا ہے۔

یہ ایک ایسا ادارہ ہے جس میں آزاد فلسطینی ماہرین شامل ہیں، جسے "امن کونسل" نے تشکیل دیا ہے، اور توقع ہے کہ یہ عبوری مرحلے کے دوران غزہ کا انتظام سنبھالے گا۔

حماس کے ایک عہدیدار نے فرانسیسی خبر رساں ادارے کو بتایا کہ غزہ کی وزارتوں کے حکام نے پہلے ہی اس کمیٹی کے ساتھ ذمہ داریوں کی منتقلی کے عمل میں رابطہ شروع کر دیا ہے۔

تاہم غزہ کے انتظام کے لیے قومی کمیٹی، جو عارضی طور پر قاہرہ میں موجود ہے، ابھی تک غزہ میں داخل نہیں ہو سکی۔

فلسطینی اور سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ اسرائیل کمیٹی کے ارکان کو غزہ میں داخل ہونے سے روک رہا ہے۔اگرچہ اس ادارے کو عارضی قرار دیا جا رہا ہے، لیکن کئی یورپی اور عرب حکام موجودہ فلسطینی اداروں کو شامل کرتے ہوئے ایک وسیع سیاسی فریم ورک کی ضرورت پر زور دے رہے ہیں۔

یورپی نمائندوں نے غزہ کے انتظام کے لیے قومی کمیٹی کے ساتھ عوامی خدمات کی بحالی اور تعمیرِ نو کے امور پر بات چیت کی ہے۔ ان کی خواہش ہے کہ یہ عمل فلسطینی اتھارٹی کے ساتھ رابطے اور تعاون سے انجام دیا جائے۔

دوسری جانب مبصرین خبردار کرتے ہیں کہ ایسا انتظامی ڈھانچہ جو صرف عوامی خدمات چلانے کا ذمہ دار ہو، لیکن سکیورٹی اداروں یا سرحدوں پر اس کا اختیار نہ ہو، اس کی حیثیت کمزور ہو سکتی ہے۔ خاص طور پر ایسی صورت میں جب حماس اپنے ہتھیار برقرار رکھتی ہے، تو اس انتظامیہ کے لیے حماس کے مقابلے میں مؤثر کردار ادا کرنا مشکل ہو سکتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں