ایرانی حملوں کے دوبارہ آغاز اور تہران سے منسلک شپنگ پر امریکہ کی جانب سے دوبارہ بحری ناکہ بندی کے بعد آبنائے ہرمز سے گذرنے والے جہازوں کی تعداد میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئی ہے۔
میرین ٹریفک کے اعداد و شمار کے مطابق گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران صرف 6 جہازوں نے آبنائے کو عبور کیا ہے جبکہ جمعرات کے روز صرف 3 جہاز یہاں سے گزرے جو کہ مئی کے بعد سے کسی بھی دن کے لیے کم ترین تعداد ہے۔ اس دوران خام تیل یا مائع قدرتی گیس لے جانے والا کوئی بھی ٹینکر یہاں سے نہیں گذرا۔
اس صورتحال کے باعث دنیا کے مصروف ترین بحری گذرگاہوں میں سے ایک میں جہازوں کو درپیش دباؤ کے نتیجے میں توانائی کی قیمتوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔ یاد رہے کہ بحیرہ روم میں جنگ شروع ہونے سے پہلے آبنائے ہرمز سے روزانہ 125 جہاز گزرتے تھے۔
چند روز قبل عارضی جنگ بندی معاہدے کے ٹوٹنے کے بعد سے امریکہ اور ایران نے اپنے حملوں میں شدت پیدا کر دی ہے جس سے ایک بار پھر مکمل جنگ کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔
امریکی سینٹرل کمانڈ نے بتایا کہ امریکہ نے ایران کے خلاف نئے فضائی حملے کیے ہیں۔ یہ کارروائی اردن میں ایرانی حملے کے بعد کی گئی جس میں دو امریکی فوجی ہلاک اور ایک لاپتہ ہو گیا تھا۔ ہفتے کے روز فضائی حملے شروع کرنے سے پہلے ایران کے سپریم لیڈر مجتبی خامنہ ای نے دھمکی دی تھی کہ واشنگٹن تنازعہ بڑھانے کی کوششوں کی قیمت ادا کرے گا۔
امریکی سینٹرل کمانڈ نے ایک بیان میں کہا کہ صدر دونلڈ ٹرمپ کی ہدایت پر امریکی مشرقی ساحلی وقت کے مطابق شام چھ بجے یہ حملے شروع کیے گئے۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ ان حملوں کا مقصد آبنائے ہرمز میں تجارتی جہاز رانی کے لیے ایران کی جانب سے پیدا کردہ خطرات کو کم کرنا اور پاسداران انقلاب کے ان دستوں کو سزا دینا ہے جنہوں نے کل رات اردن میں امریکی فوجیوں پر حملے کیے تھے۔
ایرانی خبر رساں ادارے مہر نے رپورٹ کیا کہ امریکہ نے جنوبی ایران کے شہر سیرک کے قریب حملہ کیا ہے تاہم کسی جانی نقصان یا بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچنے کی اطلاع نہیں ملی۔ دونوں فریقین نے بحری جہاز رانی کو بھی نشانہ بنایا ہے۔ امریکہ کا کہنا ہے کہ وہ بحری ناکہ بندی کر رہا ہے جبکہ ایران کا دعویٰ ہے کہ اس نے ان جہازوں کو نشانہ بنایا ہے جنہوں نے آبنائے ہرمز میں اس کے جہاز رانی کے قواعد کی خلاف ورزی کی تھی۔