ایرانی وزیرِداخلہ کا دورۂ پاکستان، امریکہ-ایران سفارت کاری برقرار رکھنے کے لیے کوششیں جاری

فریقین کے حالیہ حملوں نے خطے میں جنگ کے نئے خدشات پیدا کر دیے ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

وزارتِ داخلہ کے ایک عہدیدار نے بتایا کہ ایرانی وزیرِ داخلہ اسکندر مومنی آج پیر کو ایک اعلیٰ سطحی وفد کے ہمراہ پاکستانی رہنماؤں سے گفتگو کے لیے اسلام آباد پہنچ رہے ہیں۔

یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب پاکستان امریکہ اور ایران کے درمیان سفارتی کوششیں برقرار رکھنے کا خواہاں ہے حالانکہ حالیہ فوجی کشیدگی سے ایک نازک امن عمل شدید دباؤ میں آ گیا ہے۔

سفارت کاری اور قیامِ امن کا عمل واشنگٹن اور تہران کی از سرِ نو لڑائی اور الزامات کے بعد دباؤ میں آ گیا ہے۔ پھر بھی پاکستان نے کوشش کی ہے کہ سفارتی راستے کھلے رہیں اور وہ مذاکرات میں سہولت فراہم کرنے کی کوششیں جاری رکھے گا۔

وزارتِ داخلہ کے ایک اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر عرب نیوز کو بتایا، "اعلیٰ سطحی ایرانی وفد آج سرکاری دورے پر اسلام آباد پہنچ رہا ہے۔"

انہوں نے کہا کہ اسکندر مومنی پاکستانی وزیرِ داخلہ محسن نقوی اور دیگر رہنماؤں سے ملاقات کریں گے۔

یہ دورہ خطے میں پاکستان کی بڑھتی ہوئی نازک سفارتی پوزیشن کو بھی نمایاں کرتا ہے۔ اسلام آباد نے ثالثی کے ساتھ ساتھ سعودی عرب سے ایک دیرینہ تزویری شراکت داری بھی برقرار رکھی ہے جس میں باہمی دفاعی فریم ورک کے تحت سکیورٹی تعاون شامل ہے۔ سعودی عرب پر یمنی حوثی تحریک کے نئے حملوں سے ایک وسیع علاقائی تنازعہ کے خدشات پیدا ہو گئے ہیں جو ایران اور ریاض کے درمیان توازن برقرار رکھنے کا عمل پیچیدہ کر سکتے ہیں۔

مومنی کا دورہ اسلام آباد اور تہران کے درمیان بڑھتے ہوئے باہمی روابط کی بھی عکاسی کرتا ہے۔ انہوں نے اور نقوی نے حالیہ مہینوں میں سرحدی سلامتی، انسدادِ دہشت گردی میں تعاون، امیگریشن اور سرحد پار تجارت پر تبادلۂ خیال کرنے کے لیے کئی بار ملاقات کی ہے اور فریقین اپنی مشترکہ سرحد پر قریبی رابطہ کاری کے خواہاں ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں