امریکی ریپبلکن سینیٹر رک سکاٹ نے کہا ہے کہ ایران میں حکومت کی تبدیلی ہی ملک میں حقیقی تبدیلی لانے کا واحد راستہ معلوم ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ تہران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے، امریکیوں کو نشانہ بنانے یا مسلح گروپوں کی حمایت جاری رکھنے کی اجازت نہیں دے سکتا۔
یہ بیانات صحافی مارزیا حسینی کے ساتھ انگریزی چینل "ایران انٹرنیشنل" پر کیے گئے ایک انٹرویو کے دوران رک سکارٹ نے دیے۔ اس انٹرویو کو ہفتے کے روز سوشل میڈیا پلیٹ فارم "ایکس" پر چینل کے آفیشل اکاؤنٹ پر شائع کیا گیا۔ امریکی سینیٹ میں ریاست فلوریڈا کی نمائندگی کرنے والے رک سکاٹ نے کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ وہاں تبدیلی حاصل کرنے کا واحد طریقہ حکومت کی تبدیلی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے، امریکیوں کو قتل کرنے یا حماس، حزب اللہ اور حوثیوں سمیت مسلح گروپوں کی حمایت جاری رکھنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ رک سکاٹ امریکی کانگریس کے اندر ایران کے خلاف سخت موقف رکھنے والی نمایاں ریپبلکن آوازوں میں سے ایک شمار ہوتے ہیں کیونکہ انہوں نے بارہا تہران کو فوجی جوہری صلاحیتیں تیار کرنے سے روکنے اور اس کے اتحادی مسلح گروپوں کے ذریعے اس کے علاقائی اثر و رسوخ کو محدود کرنے کے لیے مزید سخت پالیسیاں اپنانے کا مطالبہ کیا ہے۔
یہ بیانات ایرانی جوہری پروگرام سے وابستہ مسلسل علاقائی کشیدگی اور خطے کے متعدد ممالک میں سرگرم مسلح گروپوں کے لیے تہران کی حمایت پر بڑھتے ہوئے خدشات کے سائے میں سامنے آئے ہیں جو امریکی اور بین الاقوامی مفادات کو نشانہ بناتے ہیں اور آبنائے ہرمز اور بحیرہ احمر میں جہاز رانی کی سلامتی کو خطرے میں ڈالتے ہیں۔
رک سکاٹ کے بیانات بعض ریپبلکن حلقوں کے اندر بڑھتے ہوئے اس رجحان کی عکاسی کر رہے ہیں جو یہ سمجھتے ہیں کہ ایرانی حکومت کی پالیسیوں کو روکنا اب کافی نہیں رہا اور ایران کے رویے میں کسی بھی بنیادی تبدیلی کے لیے برسرِاقتدار حکومت کی تبدیلی ناگزیر ہے۔