سعودی عرب کے تاریخی شہر جدہ میں بحث مباحثے اور مکالمے کو فروغ دینے کے لیے کیمپ کا انعقاد سعودی نوجوانوں میں تنقیدی سوچ، دلیل کی بنیاد پر بات کرنے، عوامی جلسوں سے خطاب اور تعمیری بحث مباحثے کی صلاحیت اجاگر کرنے کا ذریعہ ہے۔
اس کیمپ کا انعقاد وصل ثقافتی مرکز اور سعودی مرکز برائے فلسفہ و اخلاقیات کے اشتراک سے کیا جائے گا۔ اس کا انعقاد 12 اگست سے ہر پیر اور بدھ کے روز ہوگا۔ کیمپ میں اصولی و نظری ہدایات کے علاوہ ڈیبیٹنگ کے بین الاقوامی انداز اور معیارات کے مطابق ماحول کا اہتمام کیا جائے گا تاکہ سٹوڈنٹس کو دانشورانہ اور اخلاقی اقدار کے اندر رہتے ہوئے مواقع ملیں۔
کیمپ کے لیے 24 سٹوڈنٹس کا انتخاب کیا گیا ہے۔ یہ چھ ٹیموں میں تقسیم ہیں۔ ان کا تعلق میڈیکل، تعمیرات، کمپیوٹر سائنسز، انفارمیشن ٹیکنالوجی، لسانیات، سیاحت، تاریخ اور پائیدار زراعت کے موضوعات پر گفتگوؤں میں شریک ہونا ہے۔ علاوہ ازیں 7 مقررین اور اتالیق اس پروگرام میں موجود ہوں گے۔ جبکہ ججوں پر مشتمل ایک پینل پارلیمانی مباحث اور فائنل ڈی بیٹ کے ادوار کا انعقاد کریں گے۔
کیمپ کے مقررین میں دلائل کی بنیاد پر بات چیت سکھانے والے محقق و مترجم لافی المطیری، دلائل پر مبنی گفتگو میں جذبات کے کردار پر بات کرنے کے لیے ڈاکٹر سعید بنتاگز، فکری خوبیوں پر بات کرنے کے لیے ڈاکٹر حسن الشریف شامل ہیں۔ جبکہ مسابقتی مباحثے کی تکنیک پر ڈاکٹر فیصل الشہرانی بات چیت کریں گے۔ نیز مہمان مقررین میں ڈاکٹر عبدالرحمن مرشود شامل ہیں جو مستقبل کے امور پر بات چیت کریں گے جبکہ مہمان مقرر عزہ مختار مباحثے کی تیاری کے موضوع پر بات کریں گی۔
وصل ثقافتی مرکز کی ایگزیکٹیو ڈائریکٹر جواہر الزہوانی نے بتایا ہے کہ مباحثے کے فروغ کے لیے کیمپ اس یقین پر مبنی ہے کہ کسی فرد کی تعمیر محض علم کے حصول سے نہیں ہوتی۔ علم کے ساتھ ساتھ سوچنے، سوالات کرنے، خیالات کا تجزیہ کرنے، اپنا مؤقف پیش کرنے اور دلائل مرتب کرنے کی صلاحیت پیدا کرنے سے ہوتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا ہم محض مقررین تیار نہیں کر رہے بلکہ ایسے افراد تیار کر رہے ہیں جو بامقصد مکالمے کی مہارتوں سے لیس ہوں۔
مباحثے کے فروغ کے لیے اس کیمپ کا مقصد ذہنوں کو متحرک کرنا، مختلف زاویوں سے مسائل کا جائزہ لینا اور ایسی نسل کی آبیاری کرنا ہے جو خیالات کا اظہار کرنے کی صلاحیت رکھتی ہو۔
جواہر الزہوانی نے کہا کیمپ میں شامل ہونے والے طلبہ کی تعلیم اور گفتگو میں کیمپ کے اثرات نظر آئیں گے۔ جس سے انہیں بے شمار فوائد حاصل ہوں گے۔