حوثیوں کی سمندری دھمکیوں کا سخت جواب دیا جائے گا:اتحادی افواج کا دوٹوک اعلان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

یمن میں آئینی حکومت کی حمایت کرنے والے اتحادِ حمایتِ شرعیت کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی نے کہا ہے کہ اتحادی مشترکہ افواج نے آبنائے باب المندب سے گزرنے والے جہازوں کے تحفظ کے لیے اقدامات کا آغاز کر دیا ہے، جبکہ حوثیوں کی جانب سے گزرنے والے بحری جہازوں کو دی جانے والی کسی بھی دھمکی کا پوری سختی اور بھرپور قوت سے جواب دیا جائے گا، کیونکہ یہ دھمکیاں بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی اور بحری قزاقی کے زمرے میں آتی ہیں۔

ترکی المالکی نے کہا کہ یمن کی بندرگاہوں اور ہوائی اڈوں کی بندش سے متعلق دعوے حقائق کے منافی ہیں اور یہ یمنی حکومت اور ہمسایہ ممالک کے خلاف حوثیوں کی اشتعال انگیزی اور گمراہ کن مہم کا حصہ ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ حوثیوں کی جانب سے محاصرے کا بیانیہ بھی حقیقت پر مبنی نہیں، کیونکہ 2026 کے پہلے نصف کے دوران 300 سے زائد تجارتی جہاز حدیدہ، الصلیف اور رأس عیسیٰ کی بندرگاہوں پر پہنچے، جو خوراک، مختلف تجارتی سامان، ایندھن اور تعمیراتی مواد لے کر آئے۔

ترجمان نے مزید کہا کہ صنعاء بین الاقوامی ہوائی اڈے کی بندش اور یمن ایئر ویز کے طیاروں کی تباہی کے ذمہ دار خود حوثی ہیں، جنہوں نے ہوائی اڈے سے پروازوں کی بحالی کے لیے پیش کی جانے والی تمام تجاویز بھی مسترد کر دیں۔

ترکی المالکی نے ایک بار پھر زور دیتے ہوئے کہا کہ اتحادی مشترکہ افواج نے باب المندب سے گزرنے والے جہازوں کے تحفظ کے لیے عملی اقدامات شروع کر دیے ہیں اور حوثیوں کی جانب سے بحری جہازوں کو لاحق ہر خطرے کا پوری قوت اور سختی سے جواب دیا جائے گا، کیونکہ ایسے اقدامات بین الاقوامی قانون کی کھلی خلاف ورزی اور بحری قزاقی کے مترادف ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں