زرعی شعبے کی ترقی کے لیے مربوط نظام موجود ہے:العلا رائل کمیشن

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

سعودی عرب میں العلا کے رائل کمیشن "خیرات العلا" اقدام کے ذریعے زرعی شعبے کی مسابقت کو فروغ دینے کے لیے اپنے پروگراموں پر عمل درآمد جاری رکھے ہوئے ہے جس میں سال بھر میں زراعت کے پانچ سیزن شامل ہیں۔ اس دوران کمیشن کی گرمیوں کے پھلوں کی پیداوار سالانہ 4,900 ٹن سے تجاوز کر گئی ہے جس کی پشت پناہی دو لاکھ 16 ہزار سے زائد درخت کر رہے ہیں اور یہ سب کسانوں کی ،محنت ،معاونت، مصنوعات کے معیار کو بہتر بنانے اور آبی وسائل کے استحکام کو فروغ دینے کی حکمت عملی کے تحت کیا جا رہا ہے۔

رائل کمیشن فار العلا کے سرکاری ترجمان عبدالرحمن الطریری نے ’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘ کو دیے گئے ایک بیان میں اس بات کی تصدیق کی کہ کمیشن زرعی شعبے کی ترقی کے لیے ایک مربوط نظام نافذ کر رہا ہے جو مقامی مصنوعات کے معیار کو بلند کرنے، کسانوں کو بااختیار بنانے اور زرعی عمل کی کارکردگی کو بہتر بنانے پر مرکوز ہے تاکہ مقامی اور بین الاقوامی مارکیٹوں میں العلا کی مصنوعات کی موجودگی کو فروغ دیا جا سکے اور اقتصادی ترقی میں اس شعبے کے حصے کو بڑھایا جا سکے۔

پانچ مارکیٹنگ سیزن

الطریری نے واضح کیا کہ "خیرات العلا" اقدام میں سال بھر چلنے والے پانچ زرعی سیزن شامل ہیں جو گرمیوں کے پھلوں کے سیزن سے شروع ہوتے ہیں، اس کے بعد کھجوریں، پھر برگرينا، اس کے بعد لیموں اور ترشاوہ پھل اور آخر میں شہد کے سیزن پر ختم ہوتے ہیں جو اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ یہ علاقہ زرعی تنوع سے مالامال ہے اور اس کی مصنوعات کے معیار کو اجاگر کرتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ یہ سیزن ایسے براہ راست پلیٹ فارم تشکیل دیتے ہیں جو کسانوں اور پیداوار سے وابستہ خاندانوں کو صارفین اور زائرین کے ساتھ جمع کرتے ہیں جس سے مارکیٹنگ کے مواقع بڑھتے ہیں، فصلوں کی معاشی قدر بلند ہوتی ہے اور ان کی وسیع تر منڈیوں تک رسائی میں مدد ملتی ہے۔

پھلوں کے 4.9 ہزار ٹن سے زائد ذخائر

الطریری نے اشارہ کیا کہ گرمیوں کے پھلوں کا سیزن اس اقدام کا پہلا مرحلہ ہے اور یہ العلا کے فارموں کی مختلف فصلوں کی پیداوار کو ظاہر کرتا ہے جن میں خاص طور پر انجیر، انگور، آم اور انار شامل ہیں جبکہ یہ پروڈیوسروں کو اپنی مصنوعات کا تعارف کرانے اور انہیں براہ راست فروخت کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔

انہوں نے اس بات کی تصدیق کی کہ العلا میں گرمیوں کے پھلوں کی سالانہ پیداوار 4,900 ٹن سے زیادہ ہے جبکہ العلا میں گرمیوں کے پھلوں کے 216 ہزار سے زائد درخت موجود ہیں جو زرعی شعبے کی ترقی اور غذائی تحفظ کی حمایت اور مقامی پیداوار میں تنوع لانے میں اس کے کردار کی عکاسی کرتے ہیں۔

زیادہ پائیدار کاشتکاری

الطریری نے واضح کیا کہ کمیشن جدید آبپاشی کی تکنیکوں، ریئل ٹائم مانیٹرنگ سسٹمز، سمارٹ میٹرز کے نفاذ اور آبی وسائل کے انتظام میں ڈیٹا پر انحصار کے ذریعے زرعی پیداوار کی ترقی اور قدرتی وسائل کے تحفظ کے درمیان توازن قائم کرنے کے لیے کام کر رہا ہے۔

انہوں نے اشارہ کیا کہ ان کوششوں کا مقصد سنہ 2035ء تک زرعی آبپاشی کے پانی کی کھپت میں 47 فیصد تک کمی لانا ہے تاکہ پانی کے استعمال کی کارکردگی کو بہتر بنایا جا سکے اور توسیع کے منصوبوں اور پیداوار کے معیار کو متاثر کیے بغیر زرعی شعبے کے استحکام کو یقینی بنایا جا سکے.

"خیرات العلا" کا اقدام رائل کمیشن کے ان پروگراموں کا حصہ ہے جن کا مقصد کسانوں کی حمایت، مقامی مصنوعات کی مسابقت کو فروغ دینے اور مملکت میں العلا کو پائیدار زراعت اور زرعی سیاحت کے ایک مرکز کے طور پر مستحکم کرنے کے ذریعے اس شعبے کو العلا کے معاشی ستونوں میں سے ایک کے طور پر ترقی دینا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں