ایران کے خلاف جنگ کو وسعت دینا صرف ٹرمپ کے اختیار میں ہے:اسرائیلی عہدیدار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

ایک اعلیٰ اسرائیلی عہدیدار نے زور دے کر کہا ہے کہ ایران کے خلاف جنگ کو وسعت دینا صرف امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اختیار میں ہے۔

اسرائیلی ویب سائٹ ''وائی نیٹ'' کے مطابق بدھ کو دیے گئے بیان میں عہدیدار نے کہا کہ اسرائیل اس مرحلے پر واشنگٹن اور تہران کے درمیان براہِ راست محاذ آرائی میں شامل ہونے کا خواہاں نہیں ہے۔

تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ایران نے اسرائیل پر کوئی حملہ کیا تو اس کا جواب بڑے پیمانے پر دیا جائے گا اور اسرائیل اپنی مکمل فوجی صلاحیتیں استعمال کرے گا۔

اسرائیلی عہدیدار نے مزید کہا کہ ایران کی موجودہ اقتصادی صورتحال اور اس کے اثرات اسرائیل کے مفاد میں ہیں۔

دوسری جانب اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کے واشنگٹن دورے کے حوالے سے عہدیدار نے تصدیق کی کہ ابھی تک اس دورے کی تاریخ طے نہیں کی گئی۔

11 راتوں سے جاری بمباری

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکی فوج نے اعلان کیا کہ امریکہ نے منگل کے روز ایران میں مسلسل گیارہویں رات بھی نئے حملے کیے ہیں۔

امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے کہا کہ یہ حملے گرین وچ وقت کے مطابق رات 11 بجے شروع ہوئے، جن کا مقصد ایرانی فوجی صلاحیتوں کو مزید کمزور کرنا ہے، جنہیں تہران آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں پر حملوں کے لیے استعمال کر رہا ہے۔

بعد ازاں امریکی فوج نے ایک بیان میں اعلان کیا کہ حملوں کی یہ نئی لہر گرین وچ وقت کے مطابق رات 12 بج کر 15 منٹ پر ختم ہوگئی۔

بیان کے مطابق سینٹ کام نے ایرانی فوجی آپریشن مراکز، بحری اثاثوں، طیاروں کے گوداموں، ڈرونز ذخیرہ کرنے کی تنصیبات اور فوجی لاجسٹک انفراسٹرکچر کو نشانہ بنایا۔

واضح رہے کہ گزشتہ ماہ امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ کے خاتمے کے لیے ہونے والا عارضی معاہدہ 7 جولائی کو اس وقت ٹوٹ گیا، جب تہران نے آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کو نشانہ بنایا، جس کے جواب میں امریکہ نے ایران پر فضائی حملے کیے۔

اس کے بعد ایران نے آبنائے ہرمز بند کرنے کا اعلان کیا، جبکہ واشنگٹن نے دوبارہ ایرانی بندرگاہوں پر پابندیاں اور محاصرہ نافذ کر دیا۔ اسی دوران ایران نے خلیجی ممالک اور اردن کو بھی نشانہ بنایا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں