امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ایران کے مرکز میں واقع مقام پر حملہ کرنے کی دھمکی دی جس کے بعد ایران نے بدھ کو کوہِ کولنگ پر کسی خفیہ جوہری احاطے کی موجودگی کی دوبارہ تردید کی ہے۔
ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے ایکس پر کہا، "کوہِ کولنگ جہاں کوئی جوہری سرگرمی نہیں ہو رہی، وہاں پر واشنگٹن کی غیر ضروری اور جنونی توجہ جارحیت، تباہی اور تخریب کاری کے جھوٹے بہانے سے زیادہ کچھ نہیں۔"
انہوں نے اصرار کیا کہ اقوامِ متحدہ کے جوہری نگراں ادارے (آئی اے ای اے) کے سامنے "ایران کی جوہری سرگرمیوں کا مکمل اعلان کر دیا گیا ہے"۔
ٹرمپ نے منگل کو خبردار کیا تھا کہ امریکہ اس جگہ کو نشانہ بنائے گا جسے انگریزی میں پِک ایکس ماؤنٹین کہا جاتا ہے۔
"ہم بہت جلد اس علاقے پر ضرب لگائیں گے اور بہت سخت،" ٹرمپ نے کہا۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ عموماً اہداف کا اعلان نہیں کریں گے لیکن "وہ اس کے بارے میں کچھ نہیں کر سکیں گے۔"
امریکہ نے تاحال اس دھمکی پر عمل نہیں کیا ہے۔
واشنگٹن پوسٹ اور نیویارک ٹائمز سمیت امریکی میڈیا آؤٹ لیٹس نے 2025 میں کہا تھا کہ ایران نے کوہِ کولنگ پر خفیہ زیرِ زمین جوہری مقام کی تعمیر میں تیزی کی تھی جس کی تہران نے تردید کی۔
یہ مقام ایران کی نطنز جوہری تنصیب کے قریب ہے جس پر گذشتہ سال جون میں ایک مختصر جنگ کے دوران امریکہ نے بمباری کی تھی۔
-
ہم حوثی خطرات کے خلاف سعودی عرب کے ساتھ کھڑے ہیں: برطانیہ
برطانیہ نے حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب کو دی جانے والی حالیہ دھمکیوں کی شدید مذمت ...
مشرق وسطی -
ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدے کی منظوری دے دی
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ ایک معاہدے کی باضابطہ منظوری دے دی ہے ...
مشرق وسطی -
پاکستان کی سعودی عرب کے لیے حمایت کی تصدیق... اور جہاز رانی کے لیے حوثی خطرات کی مذمت
پاکستان نے سعودی عرب کی سکیورٹی، اس کی خود مختاری اور ارضی سالمیت کے لیے اپنے غیر ...
مشرق وسطی