سعودی عرب کے انسدادِ بدعنوانی ادارے ''نزاہت'' نے بدعنوانی کے جرائم میں ملوث 15 افراد کو گرفتار کیا ہے، جبکہ ان کے خلاف قانونی کارروائی مکمل کی جا رہی ہے۔
ادارے نے بتایا کہ ایک سعودی شہری اور کاروباری شخصیت کو گرفتار کیا گیا، جس نے ایک کسٹمز کلیئرنس ایجنٹ کو 16 لاکھ ریال کی پیشکش کی تاکہ جدہ اسلامی بندرگاہ کے ذریعے دو شپنگ کنٹینرز داخل کرانے کے عمل میں سہولت حاصل کی جا سکے۔
ان کنٹینرز میں تمباکو موجود تھا، جس کی درآمد پر پابندیاں عائد ہیں۔ ملزم نے اس کے بدلے اس کھیپ پر عائد سرکاری کسٹمز ڈیوٹی، جو تقریباً 1 کروڑ 40 لاکھ ریال بنتی تھی، ادا نہ کرنے کی کوشش کی۔
نزاہت نے بتایا کہ ایک علاقے میں سعودی وزارتِ صحت کے ایک ملازم کو گرفتار کیا گیا، جس نے غیر قانونی طریقے سے متعدد منصوبوں کے ٹھیکے ایک تجارتی ادارے کو دینے کے بدلے مرحلہ وار 9 لاکھ ریال وصول کیے تھے۔
بدھ کی شام جاری بیان کے مطابق سعودی وزارتِ توانائی کے تعاون سے ایک شخص کو گرفتار کیا گیا جو وزارت سے وابستہ ایک منصوبے میں کام کرتا تھا۔ اسے اس وقت گرفتار کیا گیا جب وہ ایک تجارتی ادارے پر 15 لاکھ ریال کے جرمانے اور خلاف ورزیاں درج نہ کرنے کے بدلے 2 لاکھ ریال وصول کر رہا تھا۔
اسی طرح ادارے نے ایک انجینئرنگ کنسلٹنسی دفتر میں کام کرنے والے ایک غیر ملکی باشندے کو گرفتار کیا، جو ایک تجارتی تنازعے میں کمرشل کورٹ کی جانب سے ماہر مقرر کیا گیا تھا۔ اسے ایک لاکھ ریال میں طے شدہ رقم میں سے 50 ہزار ریال وصول کرتے ہوئے پکڑا گیا۔ یہ رقم فریقِ مقدمہ کے حق میں غیر قانونی طریقے سے تکنیکی رپورٹ تیار کرنے کے لیے دی جا رہی تھی۔
نزاہت نے سعودی وزارتِ داخلہ کے تعاون سے محکمہ پاسپورٹ کے ایک سابق اہلکار کو بھی گرفتار کیا، جس نے غیر قانونی طریقے سے غیر ملکی شہریوں کے معاملات نمٹانے کے لیے مجموعی طور پر 60 ہزار 500 ریال وصول کیے تھے۔
اسی دوران ایک علاقے میں زکوٰۃ، ٹیکس اور کسٹمز اتھارٹی کے ملازم کو 55 ہزار ریال وصول کرتے ہوئے گرفتار کیا گیا، جو سعودی عرب درآمد ہونے والی ایک اشیا کی حالت غیر قانونی طور پر تبدیل کرنے کے بدلے رقم لے رہا تھا۔
مزید کارروائیوں میں ایک صوبے کی بلدیہ کے دو ملازمین کو غیر قانونی طریقے سے معاملات مکمل کرنے کے بدلے 40 ہزار ریال وصول کرنے پر گرفتار کیا گیا، جبکہ ایک علاقے کی میونسپلٹی کے ملازم کو 50 ہزار ریال میں طے شدہ رقم میں سے 10 ہزار ریال وصول کرتے ہوئے پکڑا گیا۔ یہ رقم میونسپلٹی کے ایک معاملے کو غیر قانونی طریقے سے مکمل کرنے کے لیے دی جا رہی تھی۔
اسی طرح وزارتِ انسانی وسائل اور سماجی ترقی کے ایک ملازم کو فیلڈ معائنوں کے دوران ایک تجارتی ادارے پر جرمانے عائد نہ کرنے کے بدلے 10 ہزار ریال وصول کرتے ہوئے گرفتار کیا گیا۔
دسویں کیس میں وزارتِ انسانی وسائل کے ایک ملازم اور ایک سعودی شہری کو گرفتار کیا گیا۔ ملازم نے دوسرے شخص سے 2500 ریال وصول کیے تاکہ ایک غیر درست خط جاری کیا جا سکے، جو محکمہ پاسپورٹ کو بھیجا جانا تھا، تاکہ ایک غیر ملکی شہری کے خلاف ''غیبت'' (کام سے غیر حاضری) کی رپورٹ ختم کروا کر اس کی کفالت دوسرے شخص کے نام منتقل کی جا سکے۔
نزاہت نے بتایا کہ ایک صوبے کی بلدیہ کے چار ملازمین کو بھی گرفتار کیا گیا، جنہوں نے اپنے رشتہ داروں کو غیر قانونی طریقے سے ملازمتیں دیں اور بلدیہ میں کام کرنے والے بعض غیر ملکی ملازمین کی تنخواہوں کی رقم غیر قانونی طور پر استعمال کی۔
بارہویں کیس میں ایک صحت کے ادارے میں کام کرنے والے غیر ملکی باشندے کو گرفتار کیا گیا، جس نے ایک غیر ملکی شہری کی غیر موجودگی میں طبی معائنہ رپورٹ اور لیبارٹری رپورٹ جاری کرنے کے بدلے رقم وصول کی اور انہیں ''بلدی'' نظام کے آن لائن پلیٹ فارم پر درج کیا۔
نزاہت نے مزید بتایا کہ وزارتِ اسلامی امور، دعوت و ارشاد کے تعاون سے ایک علاقے میں وزارت کے ایک ملازم کو گرفتار کیا گیا، جس نے علاقے میں وزارت کے گودام کے نگران کی حیثیت سے کام کرتے ہوئے کئی کمپیوٹر آلات اپنے قبضے میں لے لیے تھے۔
بیان کے مطابق چودھویں کیس میں ایک صوبے کے ڈرائیونگ اسکول کے ملازم کو ایک غیر ملکی شہری سے رقم وصول کرتے ہوئے گرفتار کیا گیا۔
یہ رقم ڈرائیونگ اسکول میں حاضر ہوئے بغیر ڈرائیونگ لائسنس کے اجرا کے معاملات مکمل کرنے کے لیے دی گئی تھی۔اسی طرح ایک علاقے میں گاڑیوں کے وقتاً فوقتاً معائنے کے مرکز کے ڈائریکٹر اور اسی مرکز کے ایک ملازم کو بھی گرفتار کیا گیا، جنہوں نے گاڑیوں کے معائنے کے معاملات غیر قانونی طریقے سے مکمل کرنے کے بدلے مالی رقوم وصول کی تھیں۔
نزاہت کے ترجمان نے زور دیا کہ ادارہ سرکاری مال کو نقصان پہنچانے، عہدے کا غلط استعمال کرکے ذاتی فائدہ حاصل کرنے یا عوامی مفاد کو نقصان پہنچانے والے ہر شخص کی نگرانی اور گرفتاری کا سلسلہ جاری رکھے گا، چاہے وہ ملازمت سے الگ ہی کیوں نہ ہو چکا ہو۔
انہوں نے واضح کیا کہ مالی اور انتظامی بدعنوانی کے جرائم وقت گزرنے کے ساتھ ختم نہیں ہوتے اور ادارہ بغیر کسی رعایت کے قانون کے مطابق خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف کارروائی جاری رکھے گا۔