روزہ دماغی سرگرمی یا انسانی سوچ پر اثر انداز ہوتا نہ ذہنی سرگرمی محدود کرتا ہے: تحقیق
تحقیق میں دماغی سرگرمی پر روزے کے اثرات بیان، روزے سے ذہنی صلاحیت متاثر ہونے کا عام خیال مسترد
ایک بہت بڑے سائنسی مطالعے نے یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ روزہ دماغی سرگرمی یا انسانی سوچ پر بالکل اثر انداز نہیں ہوتا اور نہ ہی یہ ذہنی سرگرمی کو محدود کرتا ہے۔ یہ ان بہت سے لوگوں کا خیال تھا جو یہ سمجھتے ہیں کہ جب وہ روزہ رکھتے ہیں تو ان کی سوچنے کی صلاحیت کم ہو جاتی ہے۔
معروف ویب سائٹ ’’ سائنس الرٹ‘‘کی شائع کردہ رپورٹ جس کا "العربیہ ڈاٹ نیٹ" نے جائزہ لیا ہے کے مطابق وزن کم کرنے میں روزے کی افادیت کے باوجود اکثر یہ مانا جاتا ہے کہ جسم کو غذا سے محروم رکھنا ذہنی صلاحیتوں پر منفی اثر ڈال سکتا ہے۔ تاہم اس موقف کو تازہ ترین سائنسی مطالعے نے غلط ثابت کر دیا ہے۔
کوئی خاص فرق نہیں
71 آزاد سائنسی جائزوں جن میں 3484 شرکاء شامل تھے پر مشتمل 63 سائنسی مقالوں کے تجزیے کی بنیاد پر اس جائزے میں یہ دیکھا گیا کہ روزہ رکھنے والوں اور باقاعدگی سے کھانا کھانے والوں کی ادراکی کارکردگی میں کوئی خاص فرق نہیں ہے۔ یہ اس خیال کو جھٹلانے کے لیے ایک حتمی ثبوت ہے کہ صحت مند افراد میں خوراک کی قلیل مدتی معتدل پابندی ذہنی توانائی کو ختم کر دیتی ہے۔ یہ ایک ایسا خیال ہے جو ہر جگہ عام ہے، جس کا آغاز کھانے پینے کی کچھ اشیاء کے اشتہارات سے ہوتا ہے جو اس غلط عقیدے کو فروغ دیتے ہیں اور اس عام قول تک جاتا ہے کہ ناشتہ دن کا سب سے اہم کھانا ہے۔
یہ تجزیہ کرنے والے دو محققین، یعنی آسٹریا کی پیرس لوڈرون یونیورسٹی کے ماہر نفسیات کرسٹوف بامبرگ اور نیوزی لینڈ کی آکلینڈ یونیورسٹی کے ادراکی ماہرِ اعصاب ڈیوڈ مورو، دونوں ہی یہ نہیں چاہتے کہ جو لوگ روزے سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں وہ اس خوف سے ہچکچاہٹ کا شکار ہوں کہ اس سے ان کی سوچ میں خلل پڑے گا یا ان کی ذہنی سرگرمی محدود ہو جائے گی۔
ڈیوڈ مورو نے ان نتائج پر تبصرہ کرتے ہوئے وضاحت کی ہے کہ زیادہ تر صحت مند بالغوں کے لیے یہ نتائج اطمینان بخش ہیں۔ آپ اپنے ذہن کی تیزی میں کمی کی فکر کیے بغیر وقفے وقفے کا روزہ یا روزے کے دیگر طریقے آزما سکتے ہیں۔ اس ڈیٹا کا تجزیہ کرنے کے لیے دونوں محققین نے بایزیان سٹیٹسٹکس کا طریقہ کار استعمال کیا جو حتمی طور پر ہاں یا نہ میں جواب دینے کے بجائے امکانات کی تقسیم پر انحصار کرنے والا ایک اسلوب ہے۔
اس معاملے میں، وہ اس بات کی تحقیق کر رہے تھے کہ آیا روزہ ادراکی کارکردگی کو متاثر کرتا ہے یا نہیں۔ یہ طریقہ کار خاص طور پر بہت سے مختلف شماریاتی ذرائع کا جائزہ لینے میں مفید ثابت ہوتا ہے۔ ان مطالعات میں جن ادراکی مہارتوں کا جائزہ لیا گیا ان میں۔ یادداشت کا استعمال، فیصلے کرنا اور ردعمل کی رفتار اور درستی شامل تھی۔ جب ان جائزوں کو مجموعی طور پر دیکھا گیا تو قلیل مدتی روزے (جس کا اوسط دورانیہ 12 گھنٹے تھا) نے نتائج میں کوئی نمایاں تبدیلی پیدا نہیں کی۔
نمایاں کمی
محققین کو 12 گھنٹے سے زیادہ کے روزے کے دوران ادراکی کارکردگی میں معمولی کمی ملی۔ طویل روزے سے بچوں اور نوجوانوں میں نمایاں کمی دیکھی گئی، اگرچہ بچے شرکاء کا صرف ایک چھوٹا حصہ تھے۔ یہ نتائج اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ چھوٹے اور نشوونما پانے والے بچوں کے دماغ طویل عرصے تک کھانے سے پرہیز کرنے کی وجہ سے زیادہ متاثر ہو سکتے ہیں اور بچوں اور نوجوانوں کے لیے روزانہ تین وقت باقاعدگی سے کھانا کھانا انتہائی اہم ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ خوراک سے متعلقہ وہ کام جو ادراکی کارکردگی کو جانچتے ہیں، انہی میں اثرات زیادہ واضح طور پر سامنے آئے۔ یہ ممکن ہے کہ روزے کے دوران دماغ کے کچھ مخصوص سرکٹس سست پڑنا شروع ہو جاتے ہیں لیکن اس کی تصدیق کے لیے مزید مطالعات کی ضرورت ہوگی۔
ڈیوڈ مورو نے کہا کہ اکثر کارکردگی کی یہ کمی صرف ان کاموں میں واضح ہوتی تھی جن میں خوراک سے متعلق محرکات شامل ہوتے تھے جیسے کھانے کی تصاویر دیکھنا یا خوراک سے متعلق الفاظ پر غور کرنا۔ اس کے برعکس غیر جانبدار مواد استعمال کرنے والے کاموں میں کارکردگی نمایاں طور پر متاثر نہیں ہوئی۔ بھوک ادراکی وسائل کو منتشر کر سکتی ہے یا صرف کھانے سے متعلقہ سیاق و سباق میں خلفشار کا سبب بن سکتی ہے لیکن عام ادراکی افعال کافی حد تک مستحکم رہتے ہیں۔
محققین نے یہ بھی دیکھا کہ روزہ رکھنے والے افراد جب دن کے آخری حصے میں ادراکی ٹیسٹ دیتے ہیں تو ان کے نتائج خراب ہوتے ہیں، جو یہ ظاہر کر سکتا ہے کہ کھانے سے پرہیز توجہ میں اس قدرتی کمی کو بڑھاتا ہے جو ہمارے بائیولوجیکل کلاک کے ساتھ ہو سکتی ہے۔ کچھ لوگوں کو اپنا وزن کنٹرول کرنے میں مدد دینے کے علاوہ سائنسی مطالعات میں روزے کو دیگر صحت کے فوائد سے بھی جوڑا گیا ہے۔ ان فوائد میں دل اور شریانوں کی صحت میں بہتری اور سوزش کے ذرائع میں کمی بھی شامل ہے۔ سائنسدانوں کا ماننا ہے کہ روزہ جسم کے کام کرنے کے طریقے میں نمایاں تبدیلیاں لاتا ہے جس میں اس کا گلائکوجن سے بنے توانائی کے ذخائر کو استعمال کرنے کے بجائے عام طور پر جسم کی چربی کو استعمال کرنے کی طرف منتقل ہونا شامل ہے۔