الحناتین کے ریتلے ٹیلے ہی ایک زمانے میں تاجروں کے راستوں میں پڑتے تھے۔ اب یہ سعودی عرب کے شمالی حصے میں پڑتے ہیں۔ قدیم عرب تاجروں کی چھوٹی چھوٹی ٹولیوں پر مشتمل قافلے ان صحراؤں کے گرد و پیش سے سفر تجارت پر نکلتے تھے۔ یہ ایک پر مشقت سفر ہوتا تھا مگر عرب کے صحرا نشینوں کے لیے یہ معمول تھا، وہ جفاکش اور تنومند ہوتے تھے۔ مگر ایک محفوظ راہگزر تھی۔
اب علاقائی گورنری نے 160 کلو میٹر پر مشتمل ایک سڑک بنوائی ہے جو انہی ٹیلیوں کے بیچوں بیچ اور اچھلتی مچلتی خوب لگتی ہے۔ یہ سڑک جنوب مغرب سے نئی رفحا کے ساتھ کے اونچے صحرائی ٹیلوں سے گزرتی ہے۔ یہ جدید و قدیم کا ایک امتزاج ہے۔
آثار قدیمہ کے ایک ماہر عبدالرحمان التویجری کے مطابق یہ ٹیلے ایک تاریخ کے سفر کی کہانی بیان کرتے ہیں۔ مغربی تجارتی راستہ اس تاریخی اور قدیمی راستے کو اپنے اندر جذب کر لیتا تھا۔ یہیں سے لوگ گزر کر کوفہ جاتے ہوئے الحزول، المجامر اور الرحیمی کے علاقوں کو دیکھتے تھے۔
عبدالرحمان التویری نے کہا ' یہ پانی بے آب و گیاہ تھا اور اس سے گزرنا دوبھر ہوتا تھا۔ مگر مرکزی راستوں سے دور ہونے کے باوجود محفوظ ہوتا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ چھوٹے قافلوں کے لیے بھی اور انفرادی سفر کے لیے بھی یہ مناسب سمجھا جاتا تھا۔'
اس کے مقابلے میں کوفہ زیارتی راستہ بڑے قافلوں کے لیے پسندیدہ ہوتا تھا۔ دور عباسی میں کوفہ زیارتی راستے کو بطور خاص پانی کے تالابوں سے مزین کر دیا تھا۔ سفر کے لیے دیگر سہولیات بھی کوفہ زیارتی راستے کی اہمیت ظاہر کرتے تھے۔ زبیدہ روڈ کی اہمیت اس ناطے اور زیادہ تھی۔
الحناتین کے دونوں ٹیلے اس قدر اونچے ہیں کہ انہیں دور سے بھی آسانی کے ساتھ دیکھا جا سکتا ہے۔ جبکہ چھوٹے بڑے دوسرے ٹیل ان دونوں کے ساتھ اپنی قدرتی ترتیب کےتحت موجود ہیں۔ سعودی عرب کے شمال میں یہ قدرت کا تحفہ ہیں۔
اپنے وسیع پھیلاؤ اور مشکلات کی وجہ سے یہ عربوں میں ایک ضرب المثل کا باعث بن گیا۔ کہ میرے اور تمہارے درمیان 'رمال الیج' حائل ہے۔ اس صحار کو راستہ بنانے والے ایک مسافر یا مسافروں کی ٹولی کا دوسرے سے اس قدر زیادہ فاصلہ ہوتا تھا جیسے ریت کی ایک خلیج حائل ہو۔
ان دو اونچے ٹیلوں کی رنگت مہندی جیسا سرخ رنگ لیے ہوئے ہے۔ اس لیے انہیں حنائی ٹیلون کے نام سے بھی یاد کیا جاتا ہے۔ سیاحوں کو یہ حنائی ٹیلے اپنی طرف کھینچ لے جاتے ہیں۔