سعودی عرب اور امریکہ کے درمیان پُرامن جوہری توانائی میں تعاون کا معاہدہ طے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

سعودی عرب اور امریکہ نے دونوں ممالک کے درمیان پُرامن مقاصد کے لیے جوہری توانائی کے استعمال کے شعبے میں تعاون کے معاہدے پر دستخط کر دیے۔

یہ معاہدہ دونوں ممالک کے درمیان قائم اسٹریٹجک شراکت داری کے تحت طے پایا ہے اور نومبر گزشتہ سال ولی عہد اور وزیراعظم شہزادہ محمد بن سلمان کے دورۂ امریکہ کے دوران کیے گئے اس اعلان کا تسلسل ہے، جس میں دونوں ممالک کے درمیان پُرامن جوہری تعاون سے متعلق مذاکرات کی تکمیل کی تصدیق کی گئی تھی۔

اس معاہدے کا مقصد توانائی اور جدید ٹیکنالوجی کے شعبوں میں دوطرفہ تعاون کو مزید فروغ دینا ہے۔

اس معاہدے پر سعودی وزیرِ توانائی اور وزیرِ صنعت و معدنی وسائل شہزادہ عبدالعزیز بن سلمان اور امریکی وزیرِ توانائی کرس رائٹ نے دستخط کیے۔

معاہدے کا مقصد پُرامن جوہری توانائی کے شعبے میں دوطرفہ تعاون کو مضبوط بنانا، مہارت، معلومات اور جدید ٹیکنالوجی کا تبادلہ بڑھانا ہے، تاکہ بین الاقوامی معیار کے مطابق جوہری سلامتی، تحفظ اور جوہری ہتھیاروں کے پھیلاؤ کی روک تھام کے اصولوں پر عمل کرتے ہوئے مشترکہ تعاون کو فروغ دیا جا سکے۔

یہ معاہدہ توانائی اور مستقبل کی جدید ٹیکنالوجیز میں تعاون کے فروغ اور پائیدار ترقی کے حوالے سے دونوں ممالک کے مشترکہ وژن کی بھی عکاسی کرتا ہے۔

یہ معاہدہ توانائی کے شعبے میں سعودی عرب اور امریکہ کے درمیان پہلے سے موجود تعاون کا تسلسل ہے، جس کا مقصد توانائی کے ذرائع میں تنوع پیدا کرنا، جدید ٹیکنالوجیز کو فروغ دینا اور سرمایہ کاری و باہمی تعاون کے مزید مواقع پیدا کرکے دونوں دوست ممالک کے مشترکہ مفادات کو آگے بڑھانا ہے۔

امریکی وزارتِ توانائی کے مطابق یہ اقدام جوہری توانائی کے شعبے میں سعودی عرب اور امریکہ کے درمیان طویل المدتی اسٹریٹجک شراکت داری کی بنیاد رکھے گا۔

وزارت نے بتایا کہ یہ معاہدہ ایک دوطرفہ ضمانتی معاہدے کے ساتھ مل کر دونوں ممالک کے درمیان جوہری تعاون کے لیے قانونی فریم ورک فراہم کرتا ہے، جس کے نتیجے میں آئندہ کئی دہائیوں تک پُرامن جوہری شعبے میں تعاون کو مزید وسعت دینے کی راہ ہموار ہوگی۔

وزارتِ توانائی نے مزید کہا کہ سعودی عرب کے ساتھ جوہری شراکت داری کے اس معاہدے کو قانونی تقاضوں کے مطابق نظرثانی کے لیے امریکی کانگریس میں پیش کیا جائے گا، جس کے بعد ہی یہ باضابطہ طور پر نافذ العمل ہوگا۔

امریکی وزارتِ توانائی کے مطابق یہ معاہدہ امریکی جوہری ٹیکنالوجی کی برآمدات بڑھانے میں مدد دے گا، جس سے واشنگٹن اور ریاض کے درمیان اقتصادی اور تکنیکی تعاون مزید مضبوط ہوگا، جبکہ سعودی عرب میں پُرامن جوہری توانائی کے منصوبوں میں امریکی کمپنیوں کی شمولیت کو بھی فروغ ملے گا۔

وزارت نے واضح کیا کہ یہ دونوں معاہدے جوہری توانائی کے شعبے میں سعودی عرب اور امریکہ کے درمیان طویل المدتی اسٹریٹجک شراکت داری کے لیے مضبوط قانونی بنیاد فراہم کرتے ہیں، جس میں پُرامن جوہری توانائی کے استعمال کے اعلیٰ ترین بین الاقوامی معیارات کی مکمل پاسداری کو یقینی بنایا جائے گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں