سعودی عرب اور امریکہ نے دونوں ممالک کے درمیان پُرامن مقاصد کے لیے جوہری توانائی کے استعمال کے شعبے میں تعاون کے معاہدے پر دستخط کر دیے۔
یہ معاہدہ دونوں ممالک کے درمیان قائم اسٹریٹجک شراکت داری کے تحت طے پایا ہے اور نومبر گزشتہ سال ولی عہد اور وزیراعظم شہزادہ محمد بن سلمان کے دورۂ امریکہ کے دوران کیے گئے اس اعلان کا تسلسل ہے، جس میں دونوں ممالک کے درمیان پُرامن جوہری تعاون سے متعلق مذاکرات کی تکمیل کی تصدیق کی گئی تھی۔
اس معاہدے کا مقصد توانائی اور جدید ٹیکنالوجی کے شعبوں میں دوطرفہ تعاون کو مزید فروغ دینا ہے۔
#نشرة_الرابعة | اتفاق نووي سعودي أميركي دون "معيار ذهبي" أو "بروتوكول إضافي".. ماذا يعني؟ pic.twitter.com/IpECtphGSf
— العربية السعودية (@AlArabiya_KSA) July 22, 2026
اس معاہدے پر سعودی وزیرِ توانائی اور وزیرِ صنعت و معدنی وسائل شہزادہ عبدالعزیز بن سلمان اور امریکی وزیرِ توانائی کرس رائٹ نے دستخط کیے۔
معاہدے کا مقصد پُرامن جوہری توانائی کے شعبے میں دوطرفہ تعاون کو مضبوط بنانا، مہارت، معلومات اور جدید ٹیکنالوجی کا تبادلہ بڑھانا ہے، تاکہ بین الاقوامی معیار کے مطابق جوہری سلامتی، تحفظ اور جوہری ہتھیاروں کے پھیلاؤ کی روک تھام کے اصولوں پر عمل کرتے ہوئے مشترکہ تعاون کو فروغ دیا جا سکے۔
#نشرة_الرابعة | المحلل السياسي منيف عماش الحربي: الاتفاق النووي السعودي الأميركي نوعي كونه يسمح بالتخصيب على أراضيها ولا يخضع للبروتوكل الإضافي pic.twitter.com/sdiQOvZYU2
— العربية السعودية (@AlArabiya_KSA) July 22, 2026
یہ معاہدہ توانائی اور مستقبل کی جدید ٹیکنالوجیز میں تعاون کے فروغ اور پائیدار ترقی کے حوالے سے دونوں ممالک کے مشترکہ وژن کی بھی عکاسی کرتا ہے۔
یہ معاہدہ توانائی کے شعبے میں سعودی عرب اور امریکہ کے درمیان پہلے سے موجود تعاون کا تسلسل ہے، جس کا مقصد توانائی کے ذرائع میں تنوع پیدا کرنا، جدید ٹیکنالوجیز کو فروغ دینا اور سرمایہ کاری و باہمی تعاون کے مزید مواقع پیدا کرکے دونوں دوست ممالک کے مشترکہ مفادات کو آگے بڑھانا ہے۔
#نشرة_الرابعة | مراسل العربية في واشنطن @pierreghanem : الاتفاق النووي الأميركي السعودي أنجز أثناء زيارة ولي العهد السعودي إلى الولايات المتحدة في نوفمبر الماضي والهدف هو بناء طاقة نووية بديلة عن المصادر التقليدية للطاقة pic.twitter.com/uqpRVhBzrd
— العربية السعودية (@AlArabiya_KSA) July 22, 2026
امریکی وزارتِ توانائی کے مطابق یہ اقدام جوہری توانائی کے شعبے میں سعودی عرب اور امریکہ کے درمیان طویل المدتی اسٹریٹجک شراکت داری کی بنیاد رکھے گا۔
وزارت نے بتایا کہ یہ معاہدہ ایک دوطرفہ ضمانتی معاہدے کے ساتھ مل کر دونوں ممالک کے درمیان جوہری تعاون کے لیے قانونی فریم ورک فراہم کرتا ہے، جس کے نتیجے میں آئندہ کئی دہائیوں تک پُرامن جوہری شعبے میں تعاون کو مزید وسعت دینے کی راہ ہموار ہوگی۔
المملكة والولايات المتحدة الأمريكية توقّعان اتفاقية تعاون في مجال الاستخدامات السلمية للطاقة النووية. pic.twitter.com/b5WU3ayFRf
— وزارة الطاقة (@MoEnergy_Saudi) July 22, 2026
وزارتِ توانائی نے مزید کہا کہ سعودی عرب کے ساتھ جوہری شراکت داری کے اس معاہدے کو قانونی تقاضوں کے مطابق نظرثانی کے لیے امریکی کانگریس میں پیش کیا جائے گا، جس کے بعد ہی یہ باضابطہ طور پر نافذ العمل ہوگا۔
امریکی وزارتِ توانائی کے مطابق یہ معاہدہ امریکی جوہری ٹیکنالوجی کی برآمدات بڑھانے میں مدد دے گا، جس سے واشنگٹن اور ریاض کے درمیان اقتصادی اور تکنیکی تعاون مزید مضبوط ہوگا، جبکہ سعودی عرب میں پُرامن جوہری توانائی کے منصوبوں میں امریکی کمپنیوں کی شمولیت کو بھی فروغ ملے گا۔
— U.S. Department of Energy (@ENERGY) July 22, 2026
وزارت نے واضح کیا کہ یہ دونوں معاہدے جوہری توانائی کے شعبے میں سعودی عرب اور امریکہ کے درمیان طویل المدتی اسٹریٹجک شراکت داری کے لیے مضبوط قانونی بنیاد فراہم کرتے ہیں، جس میں پُرامن جوہری توانائی کے استعمال کے اعلیٰ ترین بین الاقوامی معیارات کی مکمل پاسداری کو یقینی بنایا جائے گا۔