آباد کاروں کی مسجدِ اقصیٰ میں دراندازی؛ پاکستان، عرب اسلامی ریاستوں کی مذمت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

پاکستان اور آٹھ عرب اسلامی ریاستوں نے جمعہ کو اسرائیلی آبادکاروں کی مسجدِ اقصیٰ میں دراندازی کی مذمت کی ہے جس کی قیادت "انتہا پسند اسرائیلی وزراء" کر رہے تھے، پاکستانی دفترِ خارجہ نے کہا اور عالمی برادری سے یروشلم کے مقدس اسلامی اور عیسائی مقامات کے خلاف اسرائیل کی جاری خلاف ورزیاں اور غیر قانونی طریقے روکنے کا مطالبہ کیا ہے۔

اسرائیل کے انتہائی دائیں بازو کے وزیر برائے قومی سلامتی اتمار بین گویر جمعرات کو یہودیوں کے یومِ سوگ کے موقع پر سینکڑوں اسرائیلی یہودیوں کو مسجد اقصیٰ کے احاطے میں لے گئے جس سے مسجد کے عشروں پرانے طریقے کی خلاف ورزی ہوئی۔ اتفاق سے یہ دورہ تیشا بآو کے دن ہوا جو قدیم دور کے پہلی اور دوسری عبادت گاہوں کی تباہی کی یاد میں یہودیوں کے روزے کا دن ہوتا ہے۔ یہ بیان اسی دوران سامنے آیا۔

پاکستان، مصر، ترکی، انڈونیشیا، اردن، قطر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے وزراء خارجہ نے وسیع پیمانے پر اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی، مسجدِ اقصیٰ کے صحن میں اسرائیلی پرچم بلند کرنے، اسرائیلی پولیس کے دو خیمے ایستادہ کرنے اور دیگر تمام اشتعال انگیز کارروائیوں کی مذمت کی۔

پاکستانی دفترِ خارجہ نے کہا، مسلم ریاستوں کے وزراء اسرائیلی انتہا پسند وزراء اور گروپوں کی اشتعال انگیزی، دراندازی اور تشدد کی غیر قانونی اور انتہا پسندانہ کارروائیوں کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔

نیز کہا، "وزراء خبردار کرتے ہیں کہ یہ اشتعال انگیز کارروائیاں نفرت اور انتہا پسندی کو ہوا دیتی ہیں اور دو ریاستی حل پر مبنی منصفانہ اور دیرپا امن کی کوششوں میں رکاوٹ بنتی ہیں۔"

عرب اسلامی وزرائے خارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ مقبوضہ بیت المقدس یا اس کے اسلامی اور عیسائی مقدس مقامات پر اسرائیل کی کوئی حاکمیت نہیں ہے۔

"یروشلم کے قدیم شہر اور اس کی عبادت گاہوں تک رسائی پر پابندیوں کے ساتھ ساتھ یہاں کی دیگر عبادت گاہوں تک رسائی کی امتیازی اور من مانی پابندیاں بین الاقوامی قانون بشمول بین الاقوامی انسانی قانون کی صریح خلاف ورزی ہیں اور تاریخی اور قانونی حیثیت کو تبدیل کرنے کی ایک غیر قانونی کوشش ہیں،" یروشلم اور اس کے اسلامی اور عیسائی مقدس مقامات کی قانونی حیثیت کو تبدیل کرنے کی کسی بھی کوشش کو مسترد کرنے کی تصدیق کرتے ہوئے وزراء نے کہا۔

نیز کہا گیا، "وزراء نے اس بات کا اعادہ کیا کہ مسجد اقصیٰ/حرم الشریف کا پورا رقبہ جس کی مقدار 144 دونم ہے، صرف مسلمانوں کے لیے عبادت گاہ ہے اور یہ کہ اردن کی وزارتِ اوقاف و اسلامی امور سے منسلک یروشلم اوقاف اور امورِ مسجدِ اقصیٰ کا محکمہ وہ قانونی ادارہ ہے جسے بابرکت مسجد الاقصی/حرم الشریف کے امور کے نظم و نسق اور اس میں داخلے کو منظم کرنے کا اختیار ہے۔"

وزراء نے اسرائیل پر زور دیا کہ وہ یروشلم کے قدیم شہر تک رسائی کی پابندیاں فوراً ہٹائے اور مسلمان نمازیوں کی مسجد تک رسائی میں حائل ہونے سے گریز کرے۔

بیان میں کہا گیا، "انہوں نے عالمی برادری سے بھی یہ مطالبہ کیا کہ وہ ایک مضبوط مؤقف اپنائے جو اسرائیل کو یروشلم میں اسلامی اور عیسائی مقدس مقامات کے خلاف جاری خلاف ورزیوں اور غیر قانونی طریقوں نیز ان مقدس مقامات کے تقدس کی خلاف ورزیاں روکنے پر مجبور کرے۔"

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں