نیویارک ٹائمز نے جمعرات کو ایرانی اور عراقی حکام کے حوالے سے بتایا کہ ایران نے عراقی وزیرِ اعظم علی الزیدی کی طرف سے تہران کو پیش کردہ امریکی جنگ بندی تجویز مسترد کر دی۔
رپورٹ کے مطابق ثالثی کی یہ ناکام کوشش اس وقت کی گئی جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جنگ کو وسعت دینے اور ایران کے اہم انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانے کی دھمکی دی۔
الزیدی نے اس ماہ کے شروع میں وائٹ ہاؤس میں ٹرمپ سے ملاقات کی جس کے بعد وہ جمعرات کو تہران میں موجود تھے۔ اخبار نے جن حکام کا حوالہ دیا، انہوں نے اس تجویز کی تفصیلات کا انکشاف نہیں کیا۔ انہوں نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بات کی۔
ایرانی حکام نے مبینہ طور پر کہا کہ یہ "واحد پیشکش" تھی لیکن تہران کسی ایسے عارضی معاہدے میں دلچسپی نہیں رکھتا جس سے آبنائے ہرمز پر کنٹرول کا مسئلہ حل نہ ہو سکے۔
امریکہ نے جمعہ کے اوائل میں ایرانی فوجی اہداف پر حملوں کی ایک تازہ لہر شروع کی جو جاری لڑائی کی تیرہویں رات تھی۔ اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جہازرانی کو پہنچنے والے کسی بھی نقصان کی ادائیگی کے لیے منجمد ایرانی اثاثہ جات کو استعمال کرنے کا عزم ظاہر کیا۔