جرمن وزارت دفاع نے اعلان کیا ہے کہ وہ آنے والے دنوں میں بحیرہ احمر کے علاقے سے دو بحری جہاز بحیرہ روم کی طرف واپس بلا لے گی۔ برطانیہ نے ایران کے حمایت یافتہ حوثی باغیوں کی جانب سے سعودی مال بردار جہازوں پر کیے گئے حملوں کی شدید مذمت کی ہے۔
جرمن وزارت دفاع کے ایک ترجمان نے فرانس پریس ایجنسی کو تصدیق کی کہ مائن سویپر "فولڈا" اور سپلائی جہاز "موزل" اس وقت جبوتی میں موجود ہیں۔ ان دونوں جہازوں کو گزشتہ ماہ امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ کے خاتمے کے بعد آبنائے ہرمز میں ایک ممکنہ مشن میں شرکت کے لیے بھیجا گیا تھا۔
تاہم جرمن وزارت دفاع نے وضاحت کی کہ انہیں منتقل کردیا جائے گا جس کی وجہ غیر مستحکم سیاسی صورتحال ہے اور ہرمز میں قریب مدت میں آپریشنز کے شروع ہونے کی کسی توقع کا نہ ہونا ہے۔ وزارت نے مزید کہا کہ دونوں بحری جہازوں کو غیر معینہ مدت کے لیے اس علاقے میں رکھنا ان کے تکنیکی نظام پر ایک بوجھ ہے۔ جرمن وزارت دفاع نے وضاحت کی کہ دونوں بحری جہاز تعیناتی کے لیے تیار حالت میں رہیں گے اور جیسے ہی مشن کے جلد آغاز ہونے کے قابل اعتماد اشارے ملیں گے وہ علاقے میں واپس آ جائیں گے۔
دوسری طرف برطانیہ نے جمعرات کے روز ایران کے حمایت یافتہ حوثی باغیوں کی طرف سے سعودی مال بردار بحری جہازوں پر کیے گئے حملوں کی شدید مذمت کی۔ اس حملے کے نتیجے میں تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ برطانوی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ یہ لاپرواہ اقدامات انسانی جانوں کو خطرے میں ڈال رہے ہیں۔ یہ حملے ماحولیاتی تباہی کو دعوت دیتے ہیں اور بین الاقوامی قانون کی کھلی خلاف ورزی کرتے ہوئے علاقائی استحکام کو بھی خطرے میں ڈال رہے ہیں۔ برطانوی وزارت خارجہ نے پلیٹ فارم ’’ ایکس‘‘ کے ذریعے مزید کہا کہ ہم سعودی عرب کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہیں اور حوثیوں پر زور دیتے ہیں کہ وہ حملے کرنے سے باز رہیں۔
واضح رہے حالیہ دنوں میں ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے اور ایران کے حمایت یافتہ حوثی گروپ ’’ انصار اللہ ‘‘ نے جمعرات کے روز یمن میں اپنے زیر کنٹرول علاقوں سے بحیرہ احمر میں دو سعودی جہازوں پر حملہ کیا ہے۔ حوثی گروپ نے کہا کہ اس کی فورسز نے بحیرہ احمر میں تیل کے دو سعودی ٹینکروں پر میزائلوں اور ڈرونز سے حملے کیے ہیں۔ ایک بیان میں اس نے نشاندہی کی کہ ان دو ٹینکروں کے نام انسیلیا اور لیلیٰ ہیں۔
بحری جہاز رانی کی سلامتی کے ذرائع نے بتایا ہے کہ انسیلیا نے مدد کی اپیل بھیجی اور بدھ کی دیر رات بحیرہ احمر میں سعودی بندرگاہ جازان کے قریب میزائل کا نشانہ بننے کی اطلاع دی۔ سعودی پریس ایجنسی نے بتایا کہ ٹینکر انسیلیا کو نشانہ بنایا گیا جس کی وجہ سے بحری جہاز کے اگلے حصے میں آگ لگ گئی۔ ٹرمپ نے بھی ان دو حملوں کی طرف اشارہ کیا جن میں دو سعودی ٹینکروں کو نشانہ بنایا گیا تھا۔
خیال رہے حوثیوں کے حملے باب المندب کی بندش کا باعث بن سکتے ہیں۔ باب المندب بحیرہ احمر اور بحر ہند سے جہاز رانی کے لیے انتہائی اہم ہے اور یہ آبنائے ہرمز کے بعد دنیا میں توانائی کی ترسیل کا دوسری اہم ترین گزرگاہ ہے۔