اسرائیل غزہ میں عالمی فورس کے داخلے پر متفق، سلامتی کونسل کا خیر مقدم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 8 منٹ

غزہ کی پٹی میں جنگ کے بعد کے مرحلے سے متعلق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے منصوبے کے اعلان کے بعد سے پہلے قدم کے طور پر اسرائیلی سکیورٹی و سیاسی امور کی منی کابینہ نے بین الاقوامی کثیر قومی فورس کو ٹیکنوکریٹک فلسطینی حکومت کے ارکان کے ساتھ رفح کے علاقے میں داخل ہونے کی اجازت دینے کی منظوری دے دی ہے۔

اسرائیلی براڈکاسٹنگ اتھارٹی نے رپورٹ کیا ہے کہ یہ ایک تجرباتی مرحلے کے تحت ہے جس کا مقصد منصوبے کے کچھ حصوں پر عمل درآمد شروع کرنا ہے۔

تجرباتی مرحلہ

اسرائیلی ذرائع ابلاغ نے بتایا کہ تجرباتی مرحلہ ابتدائی طور پر حماس کے کنٹرول سے باہر واقع ایک علاقے تک محدود رہے گا جہاں بین الاقوامی کثیر قومی فورس فلسطینی ٹیکنوکریٹک حکومت کے نمائندوں کے تعاون سے انسانی امداد کی ترسیل اور بنیادی خدمات کے انتظام کی نگرانی سنبھالے گی۔ تاہم شرط یہ ہوگی کہ پٹی کے اندر دیگر علاقوں تک اس کی توسیع کے حوالے سے کوئی بھی فیصلہ کرنے سے پہلے اس تجربے کا جائزہ لیا جائے۔

قبل از وقت اعتراض

منی کابینہ کے اجلاس میں قومی سکیورٹی کے وزیر ایتمار بن گویر کی طرف سے اعتراض دیکھنے میں آیا جنہوں نے اس فیصلے کی مخالفت کرتے ہوئے موقف اپنایا کہ موجودہ حالات اس قدم کو آگے بڑھانے کی اجازت نہیں دیتے۔ اسرائیلی وزیر نے یہ بھی واضح کیا کہ حماس نے ہتھیار ڈالنے سے متعلق اپنی ذمہ داریوں کو پورا نہیں کیا جو اس بات کا اشارہ ہے کہ بین الاقوامی فورس کے داخلے سے پہلے حماس کو اپنی سکیورٹی وعدوں پر عمل کرنا چاہیے۔

کابینہ کے اعلان کے بعد ایک اسرائیلی اہلکار کے بیانات سے یہ بھی منکشف ہوا کہ یہ منظوری سکیورٹی ضوابط کے ایک مجموعے سے مشروط ہے۔ اہلکار نے واضح کیا کہ ان افواج کا داخلہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے منصوبے کے اندر درج ہے لیکن انہوں نے ساتھ ہی اس بات کی بھی تصدیق کی کہ اسرائیل غزہ کی پٹی کے اندر یلو لائن کے علاقے پر اس وقت تک اپنا کنٹرول برقرار رکھے گا جب تک حماس کے ہتھیار ختم نہیں ہو جاتے۔ بین الاقوامی فورسز اس لائن سے باہر کے علاقوں میں اسرائیلی فوج کے ساتھ مکمل رابطے کے ساتھ کام کریں گی۔

انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ غزہ میں کسی بھی بین الاقوامی فورس کا داخلہ وزیر اعظم نیتن یاہو، وزیر دفاع یسرائيل کاٹز اور وزیر خارجہ جدعون ساعر کی علیحدہ منظوری کے بعد ہی ہوگا جس سے اسرائیلی قیادت کو میدان میں کسی بھی تعیناتی کے بارے میں حتمی فیصلہ کرنے کا حق حاصل ہوتا ہے۔

ہتھیاروں کی منتقلی

غزہ میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے نمائندے نکولائی ملاڈینوف نے پٹی میں بین الاقوامی استحکام فورس کی تعیناتی کی اجازت دینے کے لیے اسرائیل کے اٹھائے گئے اقدامات کا خیرمقدم کیا اور اس قدم کو غزہ میں استحکام حاصل کرنے اور غیر مسلح کرنے کے راستے کی حمایت کے لیے متفقہ فریم ورک کا ایک بنیادی حصہ قرار دیا۔

اس کا مقصد غزہ کے انتظام کو قومی کمیٹی کی نگرانی میں ایک موثر عبوری فلسطینی انتظامیہ کو منتقلی ہے۔ نکولائی ملاڈینوف نے کہا ہے کہ آنے والے مرحلے کے دوران توجہ غزہ کے لیے 20 نکاتی منصوبے کے نفاذ کو آگے بڑھانے پر مرکوز ہے۔ اس منصوبے میں ثالثی اداروں کی طرف سے پیش کردہ روڈ میپ پر عمل درآمد اور متفقہ سیاسی و سکیورٹی راستے کو برقرار رکھنے کی اہمیت پر زور دیا گیا ہے۔

فیلڈ میں پیش رفت

یاد رہے غزہ کی پٹی کے مستقبل سے متعلق سیاسی پیش رفت کے باوجودnغزہ کی پٹی کے اندر اسرائیلی فوجی کارروائیاں اب بھی جاری ہیں۔ حالیہ دنوں میں اسرائیل نے ایسے حملے کرنے کا اعلان کیا جن میں ان مقامات کو نشانہ بنایا گیا جن کے بارے میں اس نے کہا کہ وہ حماس کے زیر انتظام ہیں۔

فلسطینی ذرائع نے کئی علاقوں میں اموات اور زخمیوں کی اطلاع دی۔ پٹی کے وسطی علاقوں میں کارروائیوں کی نوعیت اور ان کے اہداف پر تنازع جاری ہے۔

اسرائیل کا کہنا ہے کہ اس کی کارروائیاں حماس کے ملٹری انفراسٹرکچر اور ان سے وابستہ عناصر کو نشانہ بناتی ہیں۔ حماس کا کہنا ہے کہ حملوں کا تسلسل جنگ بندی کو برقرار رکھنے کی کوششوں میں رکاوٹ بنتا ہے اور پٹی میں انسانی صورتحال کی خرابی میں اضافہ کرتا ہے۔

منصوبے کا پس منظر

نیا قدم جنگ کے بعد پٹی کے انتظام سے متعلق امریکی تصور پر مبنی ہے جو شہری امور کو سنبھالنے کے لیے ٹیکنوکریٹس کی ایک فلسطینی انتظامیہ کی تشکیل پر مبنی ہے۔ اس انتظامیہ کی حمایت ایک بین الاقوامی کثیر قومی استحکام فورس کرے گی جو سکیورٹی اور انسانی حقوق کی ذمہ داریاں سنبھالے گی۔

اس دوران حماس کو پٹی کے انتظام سے خارج کر دیا جائے گا۔ اس منصوبے کو گزشتہ عرصے کے دوران سیاسی اور سکیورٹی چیلنجز کا سامنا کرنا پڑا۔ ان چیلنجز میں بین الاقوامی فورس کو تعینات کرنے کے طریقہ کار اور فلسطینی اتھارٹی یا کسی بھی متبادل فلسطینی انتظامیہ کے کردار کی نوعیت پر اختلاف اور غزہ کے مستقبل کے انتظام میں حماس کی شرکت سے اسرائیل کا مسلسل انکار شامل ہے۔

حساس وقت

اسرائیلی منی کابینہ کا فیصلہ اپنے وقت کی وجہ سے خاص اہمیت رکھتا ہے کیونکہ یہ اسرائیلی وزیر اعظم بنیامن نیتن یاہو کے واشنگٹن کے دورے اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ ان کی متوقع ملاقات سے پہلے سامنے آیا ہے۔

یہ ایک ایسے وقت میں بھی سامنے آیا ہے جب غزہ کے معاملات، جنگ کے بعد پٹی کا مستقبل اور سکیورٹی و شہری انتظامیہ کے انتظامات فریقین کے درمیان بات چیت کے ایجنڈے میں سب سے نمایاں ہیں۔

فائنینشل ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق مبصرین کا خیال ہے کہ امریکی تصور کے ساتھ ڈیل کرنے کے لیے تل ابیب کی آمادگی ظاہر کرنے کی ایک کوشش کے طور پر یہ اقدام اسرائیلی حکومت کا منصوبے کے تجرباتی مرحلے کو شروع کرنے کی منظوری کے طور پر سامنے آیا ہے۔ تاہم اسی دوران اس اقدام سے ممکنہ اختلافات کی راہ بھی کھل گئی ہے۔

خاص طور پر فلسطینی فریقین کے کردار، حماس کو غیر مسلح کرنے کی شرائط اور پٹی کے اندر بین الاقوامی موجودگی کی نوعیت کے حوالے سے اختلافات سامنے آ سکتے ہیں۔

جنگ کے بعد کا امتحان

بین الاقوامی فورس کا داخلہ اگر نافذ ہو جاتا ہے تو غزہ میں جنگ کے مرحلے سے تنازع کے بعد کے انتظامات کی طرف منتقل ہونے کے پہلے اقدامات کا یہ ایک عملی امتحان ہوگا۔

اقوامِ متحدہ اور بین الاقوامی تحقیقاتی مراکز کی رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ اس طریقہ کار کی میدان میں کام کرنے کی صلاحیت اور فلسطینی و علاقائی فریقوں کی طرف سے اس کی قبولیت کی حد کے بارے میں سوالات موجود رہیں گے۔ سکیورٹی، سیاسی کنٹرول اور پٹی کی تعمیر نو کے مسائل ان سب سے نمایاں مسائل میں سے ہیں جو منصوبے کے مستقبل کا تعین کریں گے۔ خاص طور پر پٹی میں آنے والے مرحلے کی شکل کے بارے میں اسرائیل اور امریکہ کے درمیان مسلسل اختلاف کے ساتھ یہ مسائل مزید نمایاں ہوں گے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں