گزشتہ چند گھنٹوں کے دوران خلیجی سفارت کاری نے علاقائی اور عالمی صورتحال پر تبادلۂ خیال کے لیے اپنے مشترکہ رابطوں میں اضافہ کر دیا ہے، تاکہ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے مقابلے میں خطے میں استحکام کو فروغ دیا جا سکے۔
خلیجی ممالک کے مشاورتی اجلاسوں میں ایک بار پھر آبی گزرگاہوں کے تحفظ اور آبنائے ہرمز کو کھولنے کی اہمیت پر زور دیا گیا۔
تاہم ایران نواز عراقی ملیشیاؤں کی جانب سے سعودی عرب کو نشانہ بنائے جانے والے حملوں نے خلیجی تعاون کونسل کے ممالک میں قائم اس سکون کی صورتحال کو متاثر کیا ہے، جو تقریباً تین دن سے تہران کے حملے رکنے کے بعد پیدا ہوئی تھی۔ ان حملوں کی علاقائی اور عالمی سطح پر مذمت کی گئی ہے۔
گزشتہ دو روز کے دوران خلیجی رابطوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا، جہاں خلیجی ممالک کے وزرائے خارجہ نے ایک دوسرے سے رابطے کیے۔
ان مذاکرات میں اہم موضوع کشیدگی کم کرنے کے لیے مشترکہ رابطہ کاری اور خطے میں سلامتی و استحکام کو مضبوط بنانارہا۔
یہ رابطے خاص طور پر اس وقت بڑھ گئے ہیں، جب امریکہ اور ایران کے درمیان لڑائی میں وقفہ آیا ہے، جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی خبردار کیا ہے کہ اگر ایران کے ساتھ مذاکرات ناکام ہوئے تو وہ طاقتور فوجی کارروائی کے لیے تیار ہیں۔
خلیجی سفارتی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ خلیج تعاون کونسل کے تمام ممالک کی مسلح افواج آج سے جمعرات تک مشترکہ فوجی مشق'' بحرین کا حفاظتی حصار'''میں حصہ لے رہی ہیں۔
اس مشق کا مقصد مشترکہ فوجی تعاون کو مضبوط بنانا، تجربات کا تبادلہ کرنا اور مشترکہ دفاعی نظام کی کارکردگی کا جائزہ لینا ہے۔
دوسری جانب خطے میں کشیدگی میں کمی کے باوجود، ایران نواز عراقی ملیشیاؤں کے ڈرون حملوں نے صورتحال کو دوبارہ متاثر کیا ہے۔ ان ڈرونز نے سعودی عرب کے مشرقی علاقے اور ریاض میں تیل کی تنصیبات کو نشانہ بنایا۔
سعودی وزارتِ دفاع نے اعلان کیا کہ یہ دہشت گردانہ حملے عراقی سرزمین سے کیے گئے اور انہیں ایران سے وابستہ دہشت گرد ملیشیاؤں نے انجام دیا۔
سعودی عرب نے اپنی سلامتی، خودمختاری اور قومی تنصیبات کے دفاع کے حق پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اسے مناسب وقت اور جگہ پر جواب دینے کا حق حاصل ہے۔
سعودی عرب کا عزم، اپنی سلامتی اور خودمختاری کا تحفظ کریں گے
اسی تناظر میں سعودی عرب نے ایک بار پھر اپنے عزم کا اظہار کیا ہے کہ وہ اپنی سلامتی اور خودمختاری کا تحفظ کرے گا، حملہ آوروں کو روکنے کے لیے اقدامات کرے گا اور جارحیت کے ذرائع کے خلاف جواب دینے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔
سعودی عرب نے اس بات پر زور دیا کہ عراقی حکومت کو اپنی سرزمین کو کسی بھی جارحانہ کارروائی کے لیے استعمال ہونے سے روکنے کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے چاہییں۔
اس کے بعد سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان کو قطر کے وزیر خارجہ شیخ محمد بن عبدالرحمن اور کویت کے وزیر خارجہ شیخ جراح الصباح کی جانب سے دو الگ الگ ٹیلی فون کالز موصول ہوئیں۔
#بيان | تعرب وزارة الخارجية عن إدانة المملكة العربية السعودية بأشد العبارات لما تعرضت له من اعتداءاتٍ مستنكرة بطائرات مسيرة أطلقتها المليشيات التابعة لإيران في العراق. pic.twitter.com/6HOKOlh44w
— وزارة الخارجية 🇸🇦 (@KSAMOFA) July 27, 2026
وزرائے خارجہ نے خطے کی تازہ صورتحال، علاقائی امن و سلامتی کے تحفظ کے لیے مشترکہ کوششوں کو مضبوط بنانے کے طریقوں اور سعودی عرب و خطے کے دیگر ممالک کے خلاف ایران اور اس سے وابستہ دہشت گرد ملیشیاؤں کی جانب سے یمن اور عراق میں کیے جانے والے حملوں کی مذمت اور ان کی مخالفت پر تبادلۂ خیال کیا۔
اس کے علاوہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے برطانیہ کے وزیر خارجہ برائے دولتِ مشترکہ و ترقی ایڈ ملی بینڈ سے بھی ٹیلی فونک رابطہ کیا۔
ریاض اور لندن کے درمیان مذاکرات
دونوں فریقوں نے دوطرفہ تعلقات، خطے کی تازہ صورتحال اور علاقائی و عالمی امن و استحکام کے لیے مشترکہ تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے طریقوں پر تبادلۂ خیال کیا۔
برطانوی وزیر نے دوطرفہ تعلقات کو مزید فروغ دینے کے عزم کا اظہار کیا اور ایک بار پھر برطانیہ کی جانب سے سعودی عرب کے ساتھ یکجہتی کا اعادہ کیا۔
انہوں نے یمن میں ایران سے وابستہ دہشت گرد ملیشیاؤں کی جانب سے سعودی عرب اور خطے کے دیگر ممالک کے خلاف کیے جانے والے حملوں کی مذمت کی۔
سعودی عرب میں جاری سیاسی مشاورت کے سلسلے میں ریاض اور مسقط نے علاقائی صورتحال پر بات چیت کی۔ دونوں جانب سے خطے میں امن و استحکام برقرار رکھنے کے لیے رابطہ کاری، مشاورت اور مشترکہ سفارتی کوششوں کو مضبوط بنانے کی اہمیت پر زور دیا گیا۔
اس کے علاوہ آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کی سلامتی اور آزادی کو یقینی بنانے کے لیے مشترکہ اقدامات جاری رکھنے پر بھی اتفاق کیا گیا۔
کویت اور پاکستان کے درمیان دفاعی معاہدہ
ایک اہم پیش رفت میں کویت نے پاکستان کے ساتھ دفاعی تعاون کے معاہدے کی منظوری دے دی ہے۔
یہ منظوری ایک امیری فرمان کے اجرا کے بعد دی گئی، جو سرکاری جریدے ''الکویت الیوم'' میں شائع ہوا۔ اس میں دونوں ممالک کی حکومتوں کے درمیان دفاعی شعبے میں تعاون سے متعلق اس معاہدے کی توثیق کی گئی ہے، جس پر 11 جون 2023 کو کویت میں دستخط کیے گئے تھے۔
معاہدے کے تحت ایک مشترکہ فوجی کمیٹی تشکیل دی جائے گی، جس میں دونوں ممالک کے نمائندے شامل ہوں گے۔ یہ کمیٹی فوجی تعاون کو مربوط کرنے اور اس پر عمل درآمد کی نگرانی کرے گی۔
دونوں ممالک کے وزرائے دفاع کمیٹی کے سربراہ مقرر کریں گے، جبکہ اس کے اجلاس سال میں ایک بار باری باری کویت اور پاکستان میں منعقد ہوں گے۔
اسی سلسلے میں کویتی وزارتِ دفاع نے بھی، کویتی فوج کے جنرل اسٹاف ہیڈکوارٹرز کے ذریعے، فوجی سروس میں شمولیت کے لیے رضاکارانہ بھرتی کا عمل شروع کر دیا ہے۔
اس میں مختلف تعلیمی قابلیت رکھنے والے کویتی شہریوں کو نان کمیشنڈ افسران اور فوجی اہلکاروں کی تربیتی کورس میں شامل ہونے کا موقع دیا جائے گا۔
وزارتِ دفاع کے مطابق اس رضاکارانہ بھرتی میں یونیورسٹی ڈگری رکھنے والے افراد، ثانوی تعلیم کے بعد ڈپلومہ حاصل کرنے والے، ہائی اسکول گریجویٹس اور اس کے مساوی تعلیمی اسناد رکھنے والے افراد شامل ہو سکتے ہیں۔
اس کے علاوہ گیارہویں، دسویں، نویں اور آٹھویں جماعت تک تعلیم حاصل کرنے والے افراد بھی مقررہ شرائط و ضوابط کے مطابق درخواست دے سکتے ہیں۔
خود کو الگ رکھنا، گہری حکمتِ عملی
دوسری جانب کویت کے وزیر داخلہ شیخ فہد الیوسف نے اس بات پر زور دیا کہ علاقائی تنازعات کے حوالے سے ان کے ملک کی اختیار کردہ ''لاتعلقی کی پالیسی'' دراصل قیادت کی ایک گہری اسٹریٹجک حکمتِ عملی ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ پالیسی ملک کی سلامتی اور استحکام کے تحفظ کے لیے ایک مضبوط حصار فراہم کرتی ہے، جبکہ اس میں آنے والی نسلوں کے مستقبل کو بھی اولین ترجیح دی جاتی ہے۔شیخ فہد الیوسف کے مطابق یہ پالیسی کئی دہائیوں کے تجربے سے حاصل ہونے والی سیاسی پختگی کی عکاسی کرتی ہے۔
اماراتی قطری رابطہ کاری
دوسری جانب متحدہ عرب امارات میں ابوظہبی اور دوحہ نے خطے کی تازہ صورتحال اور جاری سفارتی کوششوں کے حوالے سے سیاسی مشاورت تیز کر دی ہے۔
دونوں ممالک نے کشیدگی میں کمی، خطے میں امن و استحکام کے فروغ اور مشترکہ سیکیورٹی تعاون کو مضبوط بنانے کے لیے باہمی رابطوں پر بھی تبادلہ خیال کیا۔
قطر کے سعودی عرب اور اردن کے ساتھ مذاکرات
قطر نے خطے کے ممالک کے ساتھ اپنی مشاورت کا دائرہ مزید بڑھا دیا ہے۔ دوحہ نے اردن کے ساتھ علاقائی صورتحال کی تازہ پیش رفت، بالخصوص کشیدگی میں کمی کے لیے جاری سفارتی کوششوں اور خطے میں امن و سلامتی کے فروغ کے لیے مشترکہ رابطہ کاری پر تبادلہ خیال کیا۔
قطری حکام نے تمام فریقوں پر زور دیا کہ وہ مذاکرات اور سفارت کاری کے راستے پر قائم رہیں، جبکہ امریکہ اور ایران کے درمیان طے پانے والی مفاہمتی یادداشت کے تحت کیے گئے فیصلوں پر عمل درآمد یقینی بنایا جائے۔
ان میں آبنائے ہرمز میں آزادانہ بحری آمد و رفت کی ضمانت بھی شامل ہے، تاکہ خطے کی سلامتی برقرار رہے، حاصل ہونے والی کامیابیوں کا تحفظ کیا جا سکے اور علاقائی استحکام کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔
اسی طرح قطر اور سعودی عرب نے بھی جاری سفارتی کوششوں، کشیدگی میں کمی اور خطے میں امن و استحکام کے لیے مشترکہ تعاون پر بات چیت کی۔
قطری وزیر خارجہ شیخ محمد بن عبدالرحمن اور سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے اس بات پر زور دیا کہ تمام فریق مذاکرات اور سفارت کاری کے عزم کو برقرار رکھیں اور واشنگٹن و تہران کے درمیان مفاہمتی یادداشت کے تحت طے پانے والے نکات پر عمل کریں۔
ان میں آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی آزادی کو یقینی بنانا بھی شامل ہے، تاکہ خطے کی سلامتی، حاصل شدہ کامیابیوں کا تحفظ اور علاقائی استحکام برقرار رکھا جا سکے۔
عمان کے خلیجی ممالک کے ساتھ مذاکرا ت
خلیجی سفارتی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ مسقط نے بھی خلیجی ممالک کے ساتھ اپنی مشاورت میں اضافہ کر دیا ہے، جبکہ وہ تہران کے ساتھ آبنائے ہرمز کے معاملے پر مذاکرات کی قیادت کر رہا ہے۔
عمانی وزیر خارجہ بدر البوسعیدی نے خطے کے اپنے ہم منصب وزرائے خارجہ کے ساتھ ٹیلی فونک رابطوں میں تازہ صورتحال اور کشیدگی میں کمی کے لیے جاری کوششوں پر تبادلہ خیال کیا۔
بحری آمد و رفت کے لیے مفاہمت کی کوششیں
عمانی وزیر خارجہ نے سعودی عرب، قطر، کویت، مصر اور ایران کے اپنے ہم منصبوں کے ساتھ آبنائے ہرمز کے ذریعے بحری آمد و رفت اور سپلائی چین کے تسلسل کے لیے عملی، منصفانہ اور پائیدار مفاہمت تک پہنچنے کے امکانات بڑھانے کے طریقوں پر تبادلہ خیال کیا۔
عمانی وزارت خارجہ کے مطابق ان کوششوں کا مقصد سیاسی اور سفارتی حل کے ذریعے ایسے اقدامات کو فروغ دینا ہے جو خطے کے ممالک کے مشترکہ مفادات اور آبنائے ہرمز سے گزرنے والی بحری تجارت سے فائدہ اٹھانے والے تمام فریقوں کے مفاد میں ہوں۔
اسی تناظر میں بدر البوسعیدی نے اپنے ہم منصبوں کو بحری نقل و حرکت کی اہمیت، اس کے تحفظ، علاقائی اور عالمی معیشت سے جڑی تجارت اور سپلائی چین کی بحالی کی ضرورت پر زور دیا۔
انہوں نے خطے کے امن و استحکام کو مضبوط بنانے کے لیے مسلسل رابطے، تعاون اور مشاورت جاری رکھنے کی اہمیت بھی اجاگر کی۔
ایرانی عمانی مذاکرات
مسقط اور تہران کے درمیان جاری مذاکرات کے دوران آبنائے ہرمز اور دونوں ممالک سے منسلک آبی گزرگاہوں کو دوبارہ کھولنے کے معاملے پر بات چیت جاری ہے۔
دریں اثنا امریکی نشریاتی ادارے CBS نیوز کو اتوار کے روز تین حکام نے بتایا کہ عمان اور ایران کے درمیان جاری مذاکرات میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے۔
علاقائی اتحاد کی تجویز
ذرائع نے CNN کو بتایا کہ عمان نے آبنائے ہرمز میں خدمات کی فراہمی کے لیے ایک علاقائی اتحاد تشکیل دینے کی تجویز پیش کی ہے، جو آبنائے ملاکا میں نافذ کیے گئے تجربے کی طرز پر ہوگا۔
اس تجویز کا مقصد خطے کے ممالک کے درمیان بحری آمد و رفت کی معاونت، لاجسٹک خدمات اور دیگر متعلقہ شعبوں میں تعاون کو فروغ دینا ہے۔
بحرینی مشترکہ فوجی مشق
بحرین میں آج سے جمعرات تک بحرین ڈیفنس فورس کی جانب سے خلیجی ممالک کی مسلح افواج کی شرکت کے ساتھ مشترکہ فوجی مشق '' بحرین کا حفاظتی حصار ''کا انعقاد کیا جائے گا۔
اس مشق کا مقصد خلیجی تعاون کونسل کے رکن ممالک کے درمیان مشترکہ فوجی تعاون کو مضبوط بنانا، تجربات کا تبادلہ کرنا اور مشترکہ عسکری نظام کی کارکردگی کا جائزہ لینا ہے۔
علاقائی سطح پر انتہائی حساس صورتحال کے دوران ہونے والی یہ مشق خلیجی افواج کی جنگی صلاحیتوں اور کارکردگی کو مزید بہتر بنانے میں مدد دے گی۔
اس کے ذریعے فیلڈ تجربات میں اضافہ، مشترکہ آپریشنز کی منصوبہ بندی کی صلاحیت کو مضبوط بنانا، شریک افواج کے درمیان تجربات کے تبادلے اور عسکری تصورات میں ہم آہنگی پیدا کرنے کے مواقع فراہم ہوں گے۔
یہ مشق مختلف چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے لیے مشترکہ فوجی تعاون اور رابطہ کاری کے دائرہ کار کو مزید مستحکم کرنے میں بھی معاون ثابت ہوگی۔