چین کا ایران سے اظہار ناگواری، ہرمز پر مؤقف کو نرم کرنے کا دباؤ

بڑھتی ہوئی کشیدگی اور بین الاقوامی جہاز رانی اور تجارت پر اس کے اثرات کے پیش نظر بیجنگ کا رد عمل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 5 منٹ

سینئر سفارتی ذرائع نے "العربیہ " کو بتایا ہے کہ چین نے آبنائے ہرمز میں ہونے والی پیش رفت پر اپنے عدم اطمینان کا اظہار کردیا ہے۔ بیجنگ نے بڑھتی ہوئی کشیدگی اور بین الاقوامی جہاز رانی اور تجارت پر اس کے اثرات کے پیش نظر تہران تک اپنی ناگواری پہنچا دی ہے۔ بیجنگ حالات کو پرسکون کرنے اور بحران کا حل نکالنے کی غرض سے ایران پر اپنا مؤقف نرم کرنے کے لیے دباؤ ڈال رہا ہے۔

واضح رہے اعلیٰ سطح کے ذرائع نے اتوار کے روز "العربیہ " کے سامنے انکشاف کیا تھا کہ چین پاکستان کے ساتھ ہم آہنگی کے ذریعے امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی کو کم کرنے اور علاقے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے درمیان فریقین کے درمیان دوبارہ بات چیت شروع کرنے کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنے کے مقصد سے رابطوں کی قیادت کر رہا ہے۔

ذرائع کے مطابق یہ رابطے واشنگٹن اور تہران کے درمیان مواصلاتی راستے کھلے رکھنے پر مرکوز ہیں تاکہ بالواسطہ مذاکرات کی بحالی کی راہ ہموار کی جا سکے جو کئی متنازع امور پر محیط ہیں۔ ذرائع نے یہ بھی بتایا کہ ان مشاورتوں میں اعتماد سازی کے باہمی اقدامات پر غور کرنا شامل ہے تاکہ ایرانی ایٹمی پروگرام، علاقائی سکیورٹی اور تہران پر عائد پابندیوں کے بارے میں وسیع تر مذاکرات شروع کرنے کے لیے مناسب زمین فراہم کرنے کی کوشش کی جا سکے۔

فوجی کارروائی کا اشارہ

یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی ہے جب ایران میں فریفین کی جانب سے حملے معطل کرنے کے اعلان کے بعد امریکی حملوں کے بغیر مسلسل تیسری رات گزری ہے۔ فریقین کے درمیان تصادم کی حالت ہفتے کی صبح سے معطل ہے۔ اس سے قبل 13 دنوں کی مسلسل جنگی کارروائیاں ہوئی تھیں۔ یہ صورتحال آبنائے ہرمز کے ذریعے جہاز رانی کی آمدورفت پر اختلاف برقرار رہنے کے باعث سفارتی کوششوں کی ناکامی کے نتیجے میں سامنے آئی تھی۔

تاہم تہران نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ لڑائی رکنے کے باوجود اس وقت تہران اور واشنگٹن کے درمیان کوئی مذاکرات نہیں ہو رہے ہیں۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ ثالث خطے میں جاری پیش رفت سے متعلق امریکی جانب سے ہمیں پیغام پہنچا سکتے ہیں۔ لیکن اس وقت ہم امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں کر رہے ہیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کے روز کہا کہ وہ ایران کے ساتھ بات چیت ناکام ہونے کی صورت میں سخت فوجی کارروائی کے لیے تیار ہیں۔ انہوں نے ویب سائٹ ’’ ایگزیوس ‘‘ کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے جمعہ کے روز ثالثوں کی درخواست پر حملے عارضی طور پر روکنے کا کہا تھا۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ ان کی انتظامیہ ایران کے ساتھ مذاکرات کو زیادہ وقت نہیں دے گی۔ انہوں نے کہا جاری بات چیت "گہری" ، لیکن یہ غیر معینہ مدت تک جاری نہیں رہے گی۔ بعد میں ٹرمپ نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ امریکہ اس وقت ایران کے ساتھ اچھے مذاکرات کر رہا ہے اور کچھ مثبت ہونے کا ایک اچھا موقع ہے۔

واضح رہے آبنائے ہرمز پر کنٹرول کا معاملہ اب بھی امریکہ اور ایران کے درمیان کسی بھی ممکنہ سمجھوتے کے راستے میں ایک بڑی رکاوٹ بنا ہوا ہے کیونکہ تہران اس بات پر زور دیتا ہے کہ آبنائے میں جہاز رانی کی آمدورفت جنگ سے پہلے والی حالت پر واپس نہیں آئے گی۔ ایران اس بات پر قائم ہے کہ آبنائے کے دوسری جانب واقع عمان کے ساتھ مشاورت کے ذریعے آبنائے اس کی نگرانی میں برقرار رہے۔

پاسداران انقلاب نے حالیہ دنوں میں کئی بحری جہازوں کو واپس موڑ دیا جن میں سے آخری چھ جہاز تھے جنہیں اس راستے سے گزرنے سے روکا گیا جو ایران کے مقرر کردہ راستے سے مختلف تھا۔ ایران نے اتوار کے روز اعلان کیا تھا کہ آبنائے ہرمز کے ذریعے جہاز رانی کو منظم کرنے کے لیے مشترکہ اصولوں اور عملی طریقہ کار پر سلطنت عمان کے ساتھ جاری بات چیت میں پیش رفت ہوئی ہے۔

دونوں ملکوں نے جون میں اعلان کیا تھا کہ وہ آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کے مستقبل کے انتظامی امور اور اس سے وابستہ خدمات اور اخراجات سے متعلق ایک معاہدے پر تبادلہ خیال کر رہے ہیں جس کی واشنگٹن شدید مخالفت کرتا ہے۔ لیکن اس کے بعد مسقط نے عمانی پانیوں کے ذریعے جہازوں کے گزرنے کا ایک راستہ مقرر کر دیا جس سے تہران میں ناگواری پیدا ہوئی تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں