.

علامہ طاہرالقادری کا حکومت کو نظام کی تبدیلی کے لیے تین ہفتے کا الٹی میٹم

14 جنوری کو اسلام آباد کی جانب مارچ کی دھمکی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
پاکستان میں عدم تشدد کے پرچارک مذہبی سیاست دان اور عالمی تحریک منہاج القران کے سربراہ ڈاکٹر طاہر القادری کا کہنا ہے کہ ملک کا نظام حکومت مکمل طور پر ناکام ہو چکا ہے۔انھوں نے حکومت کو صورت حال کی تبدیلی کے لیے تین ہفتے کاوقت دیا ہے اور دھمکی دی ہے کہ دوسری صورت میں وہ چودہ جنوری کو اسلام آباد کی جانب مارچ کریں گے۔

وہ اتوار کو لاہور میں مینار پاکستان کے سائے تلے ایک بڑے جلسٔہ عام سے خطاب کررہے تھے۔ انھوں نے حکومت کو تین ہفتے کے اندر (دس جنوری تک) ایک دیانت دار اور آزاد ادارہ تشکیل دینے کی ڈیڈ لائن دی ہے جو ان کے بہ قول انتخابی اصلاحات متعارف کرائے اور شفاف اور آزادانہ انتخابات کے انعقاد کے لیے اقدامات کرے۔

کینیڈا سے حال ہی میں پاکستان لوٹنے والے علامہ طاہر القادری نے اپنے پیروکاروں کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ''ان کی جدوجہد بہتری کے لیے ہے اور وہ ملک میں سیاست اور انتخابات کا خاتمہ نہیں چاہتے ہیں''۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر آرمی ایک مرتبہ پھر ریاست کے امور میں مداخلت کرتی ہے تو وہ اس کے خلاف احتجاج کرنے والے پہلے فرد ہوں گے۔ انھوں نے کہا کہ فوج کی مداخلت کو روکنے کے لیے قانونی کی حکمرانی قائم کی جانی چاہیے۔

انھوں نے اپنی تقریر میں ملک میں رائج غیر منصفانہ جاگیرداری نظام کو تنقید کا نشانہ بنایا اور لوگوں پر زور دیا کہ وہ ریاست بچانے کے لیے گھروں سے باہر نکلیں کیونکہ ان کے بہ قول ریاست خطرات سے دوچار ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ آئین اور جمہوریت کے حامی ہیں۔

ڈاکٹر طاہر القادری نے کہا کہ ملک کے اٹھارہ کروڑ عوام عدلیہ کے ساتھ ہیں اور وہ خود ملک میں استحکام اور امن لانے کے لیے کسی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے۔ان کا کہنا تھا کہ وہ عدلیہ کی آزادی کا احترام کرتے ہیں کیونکہ عدالتوں کی آزادی کسی بھی جمہوری معاشرے کے لیے ضروری ہے۔

تحریک منہاج القرآن کے بانی سربراہ نے اپنے خطاب کی ابتداء بعض معاملات پر حلف اْٹھا کر کی اور کہا کہ وہ آج استحصالی، ظالمانہ اور جاگیردارانہ سیاست کو مسترد کرتے ہیں۔ اْن کے اس جلسے کا مقصد سیاسی بساط کو لپیٹنا نہیں اور نہ وہ اقتدار پر فوجی قبضے کی راہ ہموار کرنا چاہتے ہیں۔

ڈاکٹر طاہر القادری نے گذشتہ روز پشاور میں بم دھاکے میں جاں بجق ہونے والے صوبہ خیبر پختونخوا کے سینیئر صوبائی وزیر بشیر بلور کی مغفرت کے لیے دعا کرائی اور سوگواروں سے دلی ہمدردی کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ انتہا پسندی کی راہ پر چلنے والے بھی اسی دھرتی کے بیٹے ہیں، ہم ہتھیار اٹھانے والوں کو مذاکرات کی دعوت دیتے ہیں۔

انھوں نے کہا اب دو سیاسی جماعتوں کا مک مکا نہیں چلے گا،عوام چوروں اور لٹیروں کو پارلیمینٹ میں داخل ہونےکی اجازت نہیں دیں گے،انتخابات جب بھی ہوں، آئین کے مطابق ہوں، خلاف آئین انتخابات قبول نہیں کریں گے اور عوام ایسے انتخابات کو مسترد کر دیں گے۔آئین پر عمل کیے بغیرالیکشن کرائے گئے تو یہ آئینی خلاف ورزی ہو گی۔ ہم صرف آئین کے مطابق انتخابات چاہتے ہیں، اگر شرائط پوری نہ ہوئیں تو انتخابات غیر آئینی ہوں گے۔

''آئین کے مطابق صدر مملکت کو غیر جانبدار ہونا چاہیے،صدر کسی سیاسی جماعت کی حمایت کرے تو انتخابات شفاف نہیں ہو سکتے،قانون کے مطابق جو شخص اپنی آمدنی چھپائے اس شخص کو دو سال قید یا جرمانے کی سزا سنائی جاسکتی ہے، جبکہ ہمارے ایم این ایز ٹیکس ہی جمع نہیں کراتے۔ قانون بنانے والے خود قانون توڑنے والے ہیں،جو خود ٹیکس نہیں دیتے وہ عوام سے ٹیکس کیسے لے سکتے ہیں، آئین کے مطابق پانی، بجلی کے بل نہ دینے والا الیکشن لڑنے کا اہل نہیں''۔ان کا کہنا تھا۔

انھوں نے سوال کیا کہ کیا ٹیکس ادا نہ کرنے والے انتخابات لڑنے کے اہل ہیں؟سپریم کورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد ہوانہ آئین کی حکمرانی رہی۔ ہم عوام کو روزگار فراہم کرناچاہتے ہیں،ملک میں کرپشن رک جائے تو ہر غریب کو گھرمل جائے گا۔حکمران عوام کو روزگار فراہم کرنے میں ناکام ہو چکے ہیں۔ معاشرتی انصاف فراہم کرنا ریاست کی ذمے داری ہے، آرٹیکل 38 کے مطابق لوگوں کا طرز زندگی بہتر بنانا ریاست کا فرض ہے،خوراک، تعلیم،علاج کی سہولتیں فراہم کرنا ریاست کی ذمے داری ہے۔طاہر القادری کا کہنا تھا کہ ہم ملک میں حقیقی جمہوریت چاہتے ہیں۔