پاکستانی طالبان حکومت اور فوج سے مشروط طورپر مذاکرات پر آمادہ

میاں نواز شریف ،مولانا فضل الرحمان اورسید منور حسن ضامن بنیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

کالعدم تحریک طالبان پاکستان(ٹی ٹی پی) کے ترجمان احسان اللہ احسان کا کہنا ہے کہ ان کی تنظیم حکومت اور سکیورٹی فورسز کے ساتھ مشروط طور پر مذاکرات کے لیے آمادہ ہے۔

طالبان ترجمان نے مذاکرات کے لیے دوشرائط عاید کی ہیں۔ایک یہ کہ حزب اختلاف کی سب سے بڑی جماعت مسلم لیگ (نواز) کے سربراہ میاں نواز شریف ،جمعیت العلماء اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان اور جماعت اسلامی کے امیر سید منور حسن حکومت اور فوج کے ساتھ ان مذاکرات میں ضامن بنیں۔

احسان اللہ احسان اتوار کو ایک ویڈیو منظرعام پر آئی ہے۔اس میں انھوں نے طالبان کی حکومت اور سکیورٹی فورسز (پاک فوج) سے مذاکرات پر آمادگی ظاہر کی ہےاور اس کے لیے دوسری شرط یہ عاید کی ہے کہ حکومتی تحویل میں قید کالعدم تحریک طالبان سوات کے کمانڈر مسلم خان، تنظیم کے سابق ترجمان مولوی عمر،ایک اورطالبان کمانڈر محمود خان اور بعض دوسرے لیڈروں رہا کیا جائے۔

انھوں نے بتایا کہ مولوی عمراورمسلم خان حکومت کے ساتھ مذاکرات میں طالبان کے وفد کی قیادت کریں گے۔احسان اللہ احسان نے ملک کے سب سے بڑے شہر کراچی میں لسانی سیاسی جماعت متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیوایم) کو علماء کے قتل کا ذمے دار قرار دیا اور کہا کہ قاتلوں سے سختی سے نمٹا جائے گا۔

واضح رہے کہ پاکستان کے وزیرداخلہ عبدالرحمان ملک نے کچھ عرصہ قبل قبائلی علاقوں میں سکیورٹی فورسز سے برسرپیکار طالبان جنگجوؤں کو ہتھیار پھینکنے کی صورت میں مذاکرات کی پیش کش کی تھی۔طالبان جنگجوؤں کے امیر حکیم اللہ محسود نے تب حکومت سے مشروط مذاکرات پر آمادگی ظاہر کی تھی اور کہا تھا کہ وہ ہتھیار نہیں پھینکیں گے۔اب کے طالبان نے ملک کی تین بڑی سیاسی جماعتوں کے لیڈروں کو ضامن بنانے کی شرط عاید کی ہے اور اس کی وجہ یہ بیان کی ہے کہ ماضی میں فوج نے ان کے ساتھ طے پائے معاہدوں کی پاسداری نہیں کی تھی۔

مسلم لیگ کے سربراہ اور سابق وزیراعظم میاں نواز شریف ملک میں جاری دہشت گردی کے خاتمے کے لیے ماضی میں طالبان جنگجوؤں اور حکومت کے درمیان مذاکرات پر زوردیتے رہے ہیں اور ان کے افغانستان کے سابق حکمراں طالبان کے ساتھ قریبی تعلقات رہے تھے۔مولانا فضل الرحمان اور سید منورحسن نظریاتی طور پر طالبان کے قریب خیال کیے جاتے ہیں۔تاہم وہ طالبان جنگجوؤں کی دہشت گردی کی کارروائیوں کی ہرگز بھی حمایت نہیں کرتے۔البتہ وہ خود بھی حکومت یا فوج کے ساتھ طالبان کے مذاکرات کے لیے ثالثی کی پیش کش کرچکے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں