.

تاریخی سائبر حملہ، متعدد ملکوں میں انٹرنیٹ رفتار متاثر

پاکستان میں نیٹ کی رفتار 60 فیصد کم ہو گئی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایک بڑے سائبر حملے کی وجہ سے اس وقت دنیا بھر میں انٹرنیٹ کی رفتار کافی سست ہوگئی ہے۔ اس حملے کو ’بازوکا ‘ کا نام دیا گیا ہے۔

سائبر سکیورٹی کے ماہرین کے مطابق یہ انٹر نیٹ کی تاریخ میں اپنی نوعیت کا سب سے بڑا سائبر حملہ ہے۔ اس حملے میں جینیوا میں قائم سپیم ہاؤس نامی رضاکار ادارے کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ یہ ادارہ مختلف نیٹ ورکس کے ذریعے گردش کرنے والی سپیم میلز کو بلیک لسٹ کر کے دنیا بھر کے نیٹ ورکس کو ان سے آگاہ کرتا ہے تاکہ غیر مطلوبہ ای میلز انٹرنیٹ ٹریفک کو متاثر نہ کر سکیں۔

حالیہ حملے کا آغاز ایک ہفتے قبل اس وقت ہوا تھا، جب اس ادارے نے سائبر بنکر نامی ایک ولندیزی انٹرنیٹ سرور کو سپیم قرار دے کر بلاک کر دیا تھا۔

دوسری جانب مصر کی فوج کا کہنا ہے کہ مصری بحریہ نے بعض غوطہ خوروں کی جانب سے زیر سمندر انٹرنیٹ کی تار کاٹنے کی ایک کوشش کو ناکام بنا دیا ہے۔

بدھ کو سب میرین کیبل کو نقصان پہنچنے سے انٹرنیٹ سروس فراہم کرنے والے صارفین کو شدید مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ اس اقدام کی وجہ سے شمالی افریقہ سے لے کر پاکستان اور ہندوستان تک سروس شدید متاثر ہوئیں۔ بلاتعطل انٹرنیٹ سروس فراہم کرنے کی جدوجہد میں مصروف کچھ انٹرنیٹ سروس فراہم کرنے والوں نے بتایا کہ انٹرنیٹ کی اسپیڈ 40 سے 50 فیصد تک گر گئی تھی جس کے باعث براؤزنگ میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن کمپنی (پی ٹی سی ایل) کے مطابق سب میرین کیبل سسٹم ٹھیک کرنے والے انٹرنیشنل آپریٹرز کا اتحاد اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے جلد کام شروع کر دے گا۔ شمال مشرقی ایشیا، مشرق وسطیٰ اور مغربی یورپ-4 کا کیبل مصر کے شہر اسکندریہ سے 750 کلومیٹر کے فاصلے پر ٹوٹ گیا تھا جس کی وجہ سے پورے مشرق بعید، مشرق وسطیٰ، پاکستان، ہندوستان اور شمالی افریقہ میں انٹرنیٹ سروس متاثر ہوئی تھی۔

پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل انفورسمنٹ سجاد لطیف نے بتایا کہ کسی بھی جگہ سروس مکمل طور پر بند نہیں ہوئی تاہم کیبل ٹوٹنے کے باعث اس کی رفتار انتہائی سست پڑ گئی تھی اور اس کی مرمت کے لیے ایک بحری جہاز روانہ کردیا گیا ہے۔

ابھی تک یہ واضح نہیں ہو سکا کہ کس حد تک نقصان ہوا ہے، لیکن ماضی کے ریکارڈ کو دیکھتے ہوئے کہا جاسکتا ہے کہ مرمت کے کام میں دو دن سے زیادہ کا وقت نہیں لگے گا۔

سال 2007ء کے بعد یہ دوسرا موقع ہے جب سروس کا معیار متاثر ہوا ہے، اس سے قبل ہونے والے دیگر واقعات میں سروس میں کچھ خاص تعطل پیدا نہیں ہوا تھا۔