.

جعلی ڈگری:جمیشد دستی کو سنائی گئی تین سال قید کی سزا معطل

فیصل صالح حیات اورایازامیر کو انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لاہور ہائی کورٹ کے ملتان بنچ نے سابق رکن قومی اسمبلی جمشید دستی کو جعلی ڈگری کیس میں سنائی گئی تین سال قید کی سزا معطل کردی ہے.سابق وفاقی وزیر فیصل صالح حیات اور ایاز امیر کو عام انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت دے دی گئی ہے۔

صوبہ پنجاب کے جنوبی شہر مظفر گڑھ کے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج نے گذشتہ ہفتے سابق حکمراں جماعت پاکستان پیپلزپارٹی سے تعلق رکھنے والے اور جعلی ڈگری کے کیس میں شہرت پانے والے سابق رکن اسمبلی جمشید دستی کو نااہل قرار دے کر تین سال قید پانچ ہزار روپے جرمانے کی سزا سنائی تھی۔

انھوں نے اس سزا کے خلاف عدالت عالیہ لاہور کے ملتان بنچ میں اپیل دائر کی تھی اور عدالت نے بدھ کو ان کی اپیل کی ابتدائی سماعت کے بعد انھیں سنائی گئی سزا کالعدم قرار دے دی ہے۔فوری طور پر یہ واضح نہیں ہوا کہ وہ آیندہ انتخابات میں حصہ لے سکیں گے یا نہیں۔

تاہم ابھی الیکشن ٹرائبیونل نے انھیں انتخابات لڑنے کا نااہل یا اہل قرار دینے کے بارے میں فیصلہ صادر نہیں کیا۔جمشید دستی کو گذشتہ ہفتے سیشن جج کے حکم کے فوری بعد عدالت سے گرفتار کر لیا گیا تھا اور انھیں انتہائی سکیورٹی میں جیل منتقل کر دیا گیا تھا۔عدالت عالیہ نے انھیں جیل سے رہا کرنے کا حکم دیا ہے۔

جمشید دستی 2008ء میں منعقدہ عام انتخابات میں پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر مظفر گڑھ کے حلقہ این اے 178 سے قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے تھے لیکن ان کی بی اے کی ڈگری جعلی ثابت ہونے پر 2009ء میں انھیں نااہل قرار دے دیا گیا تھا لیکن بی اے کی شرط ختم ہونے پر انھوں نے ضمنی انتخابات میں حصہ لیا اور اپنی ہی خالی کردہ نشست پر دوبارہ منتخب ہوگئے تھے۔وہ گیارہ مئی کو ہونے والے عام انتخابات کے لیے بھی اسی حلقے سے آزاد امیدوار تھے۔

وہ اس بات پر اصرار کرتے رہے ہیں کہ ان کی بی اے کی ڈگری اصلی ہے۔اگر اس بنا پر انھیں نااہل قرار دیا گیا تھا تو پھر انھیں 2010ء میں انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت کیوں دی گئی تھی۔ضمنی انتخاب میں ان کی کامیابی پر صدر آصف علی زرداری نے بھی فتح کے ڈونگرے برسائے تھے۔ تاہم اب جمشید دستی نے اپنی جماعت کے لیڈروں اور وزراء کے خلاف سخت بیانات جاری کیے تھے اور انھوں نے سابقہ اسمبلی کی تحلیل سے صرف ایک روز قبل پیپلز پارٹی کو چھوڑنے کا اعلان کردیا تھا۔

درایں اثناء راول پنڈی کے الیکشن ٹرائبیونل نے پاکستان مسلم لیگ ن سے تعلق رکھنے والے سابق رکن اسمبلی اور معروف کالم نگار ایازامیر کو عام انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت دے دی ہے۔وہ ضلع چکوال سے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 60 سے امیدوار ہیں۔ریٹرننگ افسر نے نظریہ پاکستان کے منافی تحریروں پر آزاد خیال ایازامیر کے کاغذات نامزدگی مسترد کردیے تھے۔

ان کے علاوہ سابق وفاقی وزیر فیصل صالح حیات کو بھی ضلع جھنگ سے قومی اسمبلی کا انتخاب لڑنے کی اجازت دے دی گئی ہے۔اس سے پہلے ریٹرننگ افسرنے ان پر پانی چوری کے الزام میں ان کے کاغذات نامزدگی مسترد کردیے تھے۔وہ ماضی میں پاکستان پیپلز پارٹی سے وابستہ رہے تھے،پھر وہ سابق صدر جنرل پرویز مشرف کی سرپرستی میں قائم ہونے والی مسلم لیگ قائد اعظم میں شامل ہوگئے تھَے لیکن اس مرتبہ وہ اپنے آبائی ضلع جھنگ سے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 88 سے آزاد امیدوار کی حیثیت سے انتخاب لڑرہے ہیں۔ان کے مخالفین نے ان پر محکمہ انہار پنجاب کا پانی چوری کرنے کا الزام عاید کیا تھا۔