.

پشاور میں اے این پی کے انتخابی جلسے میں بم دھماکا، 16 افراد جاں بحق

سردار ثناء اللہ زہری کے قافلے پر بم حملہ،بیٹے ،بھائی ،بھتیجے سمیت 4 جاں بحق

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان مسلم لیگ نواز،صوبہ بلوچستان کے صدر سردار ثناء اللہ زہری کے قافلے پر ضلع خضدار میں بم حملہ کیا گیا ہے جس کے نتیجے میں ان کے بیٹے ،بھائی اور بھتیجے سمیت چار افراد جاں بحق اور کم سے کم تیس زخمی ہوگئے ہیں۔اس واقعہ کے چند گھنٹے کے بعد پشاور میں عوامی نیشنل پارٹی کی انتخابی ریلی میں بم دھماکا ہوا ہے اور اس میں 16 افراد مارے گئے ہیں۔

صوبہ خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور میں طالبان جنگجوؤں نے منگل کی شام عوامی نیشنل پارٹی ( اے این پی) کی ریلی پر ایک اور بم حملہ کیا ہے جس کے نتیجے میں ایک بچے ،ایک صحافی اور پانچ پولیس اہلکاروں سمیت سولہ افراد جاں بحق اور چالیس سے زیادہ زخمی ہوگئے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق بم دھماکا پشاور کے گنجان آباد علاقے یکہ توت میں اے این پی کے سنئیر لیڈر غلام احمد بلور کی جلسہ گاہ میں آمد کے فوری بعد ہوا۔تاہم حملے میں وہ جان سے محفوظ رہے ہیں اور انھیں معمولی زخم آئے ہیں۔ٹی وی چینلز کی فوٹیج میں ان کی خون آلود قمیص دکھائی گئی ہے۔

پشاور کے ایک سنئیر پولیس افسر شفقت ملک نے صحافیوں کو بتایا ہے کہ یہ ایک خودکش بم دھماکا تھا اور بمبار کی ٹانگیں مل گئی ہیں۔دھماکے میں چھے کلو گرام بارود استعمال کیا گیا ہے اور اس کے ساتھ بال بیرنگز بھی تھے۔

کالعدم تحریک طالبان پاکستان نے پشاور میں اے این پی کے جلسے میں اس بم حملے کی ذمے داری قبول کر لی ہے۔طالبان کے ترجمان احسان اللہ احسان نے کسی نامعلوم مقام سے اپنے جاننے والے صحافیوں کو بتایا ہے کہ بم حملے میں مقتول بشیر بلور کے بیٹے ہارون بلور کو نشانہ بنایا گیا تھا۔

اے این پی کی قیادت نے الیکشن کمیشن آف پاکستان اور صوبہ خیبر پختونخوا کی عبوری حکومت پر الزام عاید کیا ہے کہ وہ دہشت گردی کے حملوں کی سازش میں شریک ہیں اور ان کی روک تھام کے لیے کوئی اقدامات نہیں کررہی ہے اور اے این پی کے لیڈروں کی سکیورٹی بھی کم کردی گئی ہے۔

گذشتہ دو روز میں اے این پی کے انتخابی امیدواروں پر یہ تیسرا حملہ ہے۔اتوار کو اے این پی کے ایک انتخابی امیدوار مکرم شاہ سوات کے علاقے منگلور میں سڑک کے کنارے نصب بم کے دھماکے میں مارے گئے تھے۔ان کی گاڑی کو ریموٹ کنٹرول بم سے اڑا دیا گیا تھا۔

ضلع چارسدہ میں اے این پی کے ایک اور امیدوار سید معصوم شاہ بم حملے میں زخمی ہوگئے تھے۔کالعدم تحریک طالبان پاکستان نے اے این پی کے ان دونوں انتخابی امیدواروں پر بم حملوں کی ذمے داری قبول کی تھی۔طالبان کے ترجمان احسان اللہ احسان نے کسی نامعلوم مقام سے ایک بیان میں کہا کہ ان دونوں امیدوار پر بم حملے ان کی جماعت کے سیکولر نظریات کی بنا پر کیے گئے ہیں۔

واضح رہے کہ پاکستانی طالبان نے اے این پی کے علاوہ دو اور سیکولر جماعتوں متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیوایم) اور پاکستان پیپلز پارٹی پر بھی بم حملوں کی دھمکی دے رکھی ہے۔گذشتہ ہفتے صوبہ سندھ کے ضلع حیدر آباد میں ایم کیو ایم کا ایک انتخابی امیدوار حملے میں مارا گیا تھا اور طالبان نے ان کے قتل کی ذمے داری قبول کی تھی۔

خضدار میں بم دھماکا

قبل ازیں منگل کو صوبہ بلوچستان کے ضلع خضدار میں واقع گھٹ پل پر مسلم لیگ ن کے صوبائی صدر سردار ثناء اللہ زہری کے قافلے پر ریموٹ کنٹرول سے بم حملہ کیا گیا۔ان کے قافلے میں چار پانچ کاریں شامل تھیں۔وہ خضدار سے انجیرہ جارہے تھے جہاں انھوں نے ایک انتخابی جلسے میں شرکت کرنا تھی۔دھماکے کے بعد فائرنگ کی بھی اطلاع ملی ہے۔

بم دھماکے میں سردار ثناء اللہ زہری کا بیٹا سکندرزہری، بھائی مہراللہ اور بھتیجا میر زید زہری اوران کا ذاتی محافظ جاں بحق ہوگئے ہیں۔تاہم حملے میں خود سردار ثناء اللہ زہری محفوظ رہے ہیں۔ واقعے کے فوری بعد سکیورٹی فورسز نے علاقے کا محاصرہ کر لیا۔

لیویز کے ذرائع نے بتایا ہے کہ بم انجیرہ کے علاقے میں واقع گھٹ پل کے نیچے نصب کیا گیا تھا اور جونہی قافلہ پل کے اوپر پہنچا تو اسے دھماکے سے اڑا دیا گیا۔دھماکے کے نتیجے میں پل اور پانچ گاڑیاں تباہ ہوگئی ہیں۔ سکیورٹی اہلکاروں نے زخمیوں کو خضدار کے ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹرز اسپتال میں منتقل کردیا ہے۔ان میں زیادہ تر پاکستان مسلم لیگ ن کے کارکنان شامل ہیں۔

یاد رہے کہ قریباً دو سال پہلے بھی ثناءاللہ زہری پر قاتلانہ حملہ کیا گیا تھا تاہم وہ محفوظ رہے تھے۔بلوچستان میں انتخابی شیڈول کے اعلان کے بعد سے الیکشن کمیشن کے دفاتر پر بھی تین حملے ہو چکے ہیں تاہم صوبے میں کسی انتخابی ریلی کو نشانہ بنائے جانے کا یہ پہلا واقعہ ہے۔فوری طور پر کسی تنظیم نے اس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے جبکہ الیکشن کمیشن کے دفاتر پر ہونے والے حملے کی ذمہ داری کالعدم تنظیم بلوچ لبریشن فرنٹ نے قبول کی تھی۔