پاکستانی عسکریت پسند افغانستان میں ممکنہ جنگ کی تیاریوں میں مصروف

شمالی وزيرستان کے قبائلی علاقوں ميں 150 سے زائد جنگجو گروپ متحرک ہيں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

پاکستانی صوبے پنجاب سے تعلق رکھنے والے عسکريت پسند ان دنوں اُس جنگ کی تياريوں ميں مصروف ہيں جو افغانستان ميں غیر ملکی افواج کے انخلا کے بعد غالباً شروع ہو سکتی ہے۔

پاکستان کے دارالحکومت اسلام ‌آباد ميں 'فاٹا انسٹيٹيوٹ' نامی ايک تھنک ٹينک چلانے والے تجزيہ نگار منصور محسود کا کہنا ہے کہ گزشتہ دو سالوں کے دوران صوبہ پنجاب سے افغانستان کے قريب واقع قبائلی علاقوں ميں بھيجے جانے والے جنگجوؤں کی تعداد ميں قريب تين گنا اضافہ ريکارڈ کيا جا چکا ہے۔ اب ان عسکریت پسندوں کی تعداد ہزاروں ميں ہے۔ فاٹا انسٹيٹيوٹ پاکستان ميں فعال جنگجو گروپوں کے حوالے سے تحقيق کا کام کرتا ہے۔ اس ادارے کے سربراہ محسود کا کہنا ہے کہ شمالی وزيرستان کے قبائلی علاقوں ميں اس وقت تقريبا ڈيڑھ سو سے زائد جنگجو گروپ متحرک ہيں۔

تجزيہ نگار منصور محسود نے بتايا، ’’سب ہی يہ بات جانتے ہيں کہ افغانستان سے بين الاقوامی اور امريکی افواج کے انخلاء کے بعد وہاں پشتون اور دوسری قوموں کے افراد کے درميان تصادم شروع ہونے کا قوی امکان ہے۔‘‘ اس بات کے امکانات کافی زيادہ ہيں کہ پنجاب سے تعلق رکھنے والے عسکريت پسند ايسی کسی ممکنہ صورتحال ميں پشتونوں کا ساتھ ديں گے، جو افغان طالبان کی صفوں ميں ريڑھ کی ہڈی کی حيثيت رکھتے ہيں۔

نيوز ايجنسی ايسوسی ايٹڈ پريس کی پاکستانی شاخ کو ديے اپنے ايک انٹرويو کے دوران سنی انتہا پسند تنظيم لشکر جھنگوی کے ايک سينئر رکن نے بتايا، ’’ہم طالبان کے شانہ بشانہ لڑنے کے ليے افغانستان جائيں گے، جيسا کہ ہم کرتے چلے آئے ہيں۔‘‘ اس نے بتايا کہ تاحال طالبان نے ان سے مدد طلب نہيں کی ہے۔ ليکن جب اس سے پوچھا گيا کہ کيا پنجاب سے تعلق رکھنے والے جنگجو افغانستان سے بيرونی افواج کے انخلاء کے بعد وہاں کسی ممکنہ جنگ کی تياریوں میں مصروف ہيں، تو اس نے جواب ديا کہ ’ہاں يقينی طور پر‘۔

ممتاز صحافی زاہد حسين، جنہوں نے پاکستان ميں عسکریت پسندی کے پھيلاؤ پر کتابيں لکھی ہيں، کا کہنا ہے کہ اس وقت تقريبا دو درجن سے زائد مسلح عسکريت پسند تنظيموں کے ہيڈ کوارٹر صوبہ پنجاب ميں قائم ہيں۔ ان کے بقول وزيرستان ميں بھی اس صوبے سے تعلق رکھنے والے جنگجوؤں کی تعداد ميں اضافہ ہو رہا ہے کيونکہ جماعت اسلامی سمیت کچھ اور مرکزی سياسی دھڑے کی مذہبی جماعتيں نوجوانوں کو اس غرض سے بھرتی کرتی ہيں۔ انہوں نے کہا، ’’اگر افغانستان ميں استحکام پيدا ہو بھی جائے تو بہت سے لوگ ايسے ہيں جو پھر بھی لڑائی جاری رکھنے کی کوشش کريں گے اور ان ميں ہو سکتا ہے پاکستانی عسکریت پسند سر فہرست ہيں۔‘‘

درايں اثناء بہاولپور سے تعلق رکھنے والی ايک دفاعی تجزيہ نگار عائشہ صديقہ کا کہنا ہے کہ اس شہر ميں القاعدہ سے روابط رکھنے والی تنظيم جيش محمد اپنی کارروائياں بڑھاتی جا رہی ہے۔ اس سلسلے ميں تنظيم اپنے ہيڈکوارٹر ميں توسيع کر رہی ہے اور ساتھ ہی زيادہ بڑے مذہبی اسکول تعمير کر رہی ہے۔

عسکريت پسندی کے حوالے سے بات کرتے ہوئے وزارت داخلہ کے ترجمان عمر حامد خان نے بتايا کہ وزير اعظم نواز شريف کے اقتدار ميں آنے کے بعد سے پر تشدد واقعات ميں در اصل اضافہ ہوا ہے۔ ترجمان کے مطابق نوار شریف حکومت کے ابتدائی 60 ايام کے اندر 68 حملے ہوئے۔ ايک حاليہ انٹرويو ميں خان نے دہشت گردی کے خاتمے کے ليے حکومت کو درپيش مشکلات کو تسليم بھی کيا۔

اسلام آباد ميں کام کرنے والی علاقائی سلامتی کے امور پر مہارت رکھنے والی ڈاکٹر سِمبل خان کے بقول پاکستان ہر گز يہ نہيں چاہتا کہ افغانستان ميں دوبارہ وہی صورتحال پيدا ہو جو کہ طالبان کے دور ميں تھی اور جس کی وجہ سے پاکستان ميں عسکريت پسندی نے افزائش پائی۔ تاہم ڈاکٹر خان کے مطابق اس حوالے سے پاکستان کے آپشنز کافی محدود ہيں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں