.

پشاور کے قصہ خوانی بازار میں بم دھماکا، 42 افراد جاں بحق، 107 زخمی

ایک ہفتے کے اندر اندر پشاور میں ہونے والا یہ تیسرا دھماکا ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور کے تاریخی بازار قصہ خوانی میں دھماکے کے نتیجے میں 42 افراد جاں بحق اور 107 سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔ مقامی پولیس کے مطابق جاں بحق ہونے والوں میں بچے اور خواتین بھی شامل ہیں۔

پشاور میں ایک ہفتے کے اندر اندر ہونے والا یہ تیسرا دھماکا ہے، جس کے نتیجے میں زیادہ تر وہ لوگ جاں بحق ہوئے ہیں، جو آج خریداری کے لیے نکلے ہوئے تھے۔ کہا جا رہا ہے کہ آج کے دھماکے میں دو سو کلوگرام وزنی بارودی مواد استعمال کیا گیا۔

یہ دھماکا ایک ایسے علاقے میں ہوا ہے، جہاں بڑی تعداد میں دکانیں بھی ہیں اور رہائشی مکانات بھی۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق یہ ایک کار بم دھماکا تھا۔ اس دھماکے فوراً بعد وہاں کھڑی گاڑیوں کو آگ لگ گئی اور دھوئیں کے گہرے بادلوں نے فضا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔

پولیس افسر زاہد خان نے خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا کہ بم پارک کی گئی ایک کار میں نصب تھا، جسے ریموٹ کنٹرول کے ذریعے اڑایا گیا۔ زاہد خان کے مطابق آج کا دھماکا اُس آل سینٹس چرچ سے صرف تین سو میٹر کے فاصلے پر ہوا ہے، جہاں گزشتہ اتوار کو دہرے خودکُش دھماکوں میں پچاسی افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

لیڈی ریڈنگ ہسپتال کے ترجمان جمیل شاہ نے بتایا کہ مرنے والوں میں چھ بچے اور دو خواتین بھی شامل ہیں۔ مزید یہ کہ ستر زخمیوں کو بھی علاج کے لیے ہسپتال لایا گیا ہے۔

یاد رہے کہ پشاور میں گذشتہ سات دنوں کے اندر یہ بم دھماکوں کا تیسرا بڑا واقعہ ہے۔ جمعہ کو پشاور میں سرکاری ملازمین کی بس میں دھماکے میں کم از کم 17 افراد جاں بحق اور 20 سے زیادہ زخمی ہوگئے تھے۔

پشاور پولیس کے مطابق کہ یہ دھماکہ جمعہ کی دوپہر گل بیلہ کے علاقے میں چارسدہ روڈ پر ایک بس میں ہوا تھا جس میں سرکاری ملازمین سوار تھے۔ اسی طرح پشاور میں اتوار کے روز کوہاٹی گیٹ چرچ پر دو خود کش حملوں کے نتیجے میں چوراسی افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوئے تھے۔ یہ حملے اس وقت کیے گئے تھے جب عسیائی مذہب سے تعلق رکھنے والے سینکڑوں افراد عبادت کے لیے چرچ میں موجود تھے۔

ابھی تک کسی بھی گروپ نے اس حملے کی ذمے داری قبول نہیں کی ہے۔ یہ حملہ ایک ایسے وقت ہوا ہے، جب نیویارک میں پاکستان اور بھارت کے وزرائے اعظم نواز شریف اور منموہن سنگھ کے درمیان آج ایک اہم اور تاریخی ملاقات عمل میں آنے والی ہے۔