ایران کی پاکستان کے ساتھ گیس پائپ لائن منصوبہ ختم کرنے کی دھمکی

ایرانی علاقے میں گیس پائپ لائن مکمل،پاکستانی علاقے میں منصوبہ تاخیر کا شکار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

ایران نے پاکستان کو قدرتی گیس مہیا کرنے کے لیے اربوں ڈالرز مالیت کے گیس پائپ لائن منصوبے کو ختم کرنے کی دھمکی دی ہے۔

ایران کی نیم سرکاری خبررساں ایجنسی فارس کی رپورٹ کے مطابق وزیرتیل بی جان نامدار زنگانح نے تہران میں بدھ کو ایک گیس فورم کے موقع پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ''پاکستان کو گیس سپلائی کرنے کے ٹھیکے کو منسوخ کیا جاسکتا ہے''۔تاہم انھوں نے اس حوالے سے مزید کوئی تفصیل نہیں بتائی ہے۔

ایران نے اس منصوبے کے تحت پاکستان کی سرحد تک قریباً تمام پائپ لائن بچھا دی ہے لیکن اس سے آگے پاکستان نے اپنے علاقے میں پائپ لائن بچھانے کے لیے بہت تھوڑا کام کیا ہے۔اس کی ایک وجہ اس مہنگے منصوبے کے لیے فنڈز کی عدم دستیابی بتائی گئی ہے اور دوسری وجہ اس کو ترک کرنے کے لیے امریکا کا دباؤ ہے۔

اسی ہفتے پاکستانی دفتر خارجہ کے ترجمان اعزاز چودھری نے اپنی معمول کی نیوزبریفنگ میں اسلام آباد کے اس عزم کا اعادہ کیا تھا کہ اس منصوبے کو پایہ تکمیل کو پہنچایا جائے گا۔انھوں نے کہا کہ ایران پاکستان گیس پائپ لائن منصوبے کو ملک میں ایندھن کے بحران کے تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔پاکستانی حکومت اس منصوبے پر کام تیز کرنے کے لیے اقدامات کررہی ہے۔

تاہم اسلام آباد سے تعلق رکھنے والے ایک تھنک ٹینک ادارہ برائے پائیدار ترقی (ایس ڈی پی آئی) نے گذشتہ ہفتے ایک رپورٹ جاری کی تھی جس میں کہا گیا ہے کہ ایران سے درآمد کی جانے والی گیس ملکی گیس کے مقابلے میں کئی گنا زیادہ مہنگی ہوگی اور یہ زیادہ قیمت پر ہی بیچی جائے گی جس کے ملکی معیشت پر تباہ کن اثرات مرتب ہوں گے۔

اکتوبر کے اوائل میں پاکستان کے پٹرولیم اور قدرتی وسائل کے وزیرشاہد خاقان عباسی نے ایران سے کہا تھا کہ وہ پاکستانی علاقے میں منصوبے کے تحت گیس پائپ لائن بچھانے کے لیے دو ارب ڈالرز کی رقم ادا کرے۔ان کے بہ قول پائپ لائن بچھانے کے لیے تمام تیاریاں مکمل ہیں لیکن ان کے پاس اس منصوبے کے لیے درکار دو ارب ڈالرز کی رقم نہیں ہے۔

وزیرخزانہ اسحاق ڈار نے بھی اسی ماہ اپنے ایرانی ہم منصب علی طیبنیہ سے واشنگٹن میں ملاقات میں کہا تھا کہ ایران پاکستانی علاقے میں گیس پائپ لائن منصوبے پر عمل درآمد کا جائزہ لے کیونکہ پاکستان ایران پر بین الاقوامی پابندیوں کی وجہ سے اس منصوبے کے لیے درکار رقم کسی بین الاقوامی ادارے سے قرض کی صورت میں نہیں لے سکتا۔

پاکستان کے وزیراعظم میاں نوازشریف نے بھی گذشتہ ماہ وال اسٹریٹ جرنل کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ وہ امریکی اعتراضات کے باوجود ایران کے ساتھ گیس پائپ لائن منصوبے پر عمل درآمد کریں گے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں