.

پاکستان، ایران گیس پائپ لائن منصوبے کو جلد مکمل کرنے پر متفق

دونوں ممالک منصوبے پر کام تیز کرنے کے لیے ماہرین کا فوری اجلاس بلائیں گے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان نے ایران کے ساتھ تاخیر کا شکار گیس پائپ لائن منصوبے کو جلد مکمل کرنے سے اتفاق کیا ہے۔

اسلام آباد میں دفتر خارجہ نے منگل کو جاری کردہ ایک بیان میں کہا ہے کہ دونوں ممالک نے گیس پائپ لائن کی تنصیب کا کام جلد پایہ تکمیل کو پہنچانے اور اس کام میں تیزی لانے کے لیے ماہرین کا فوری اجلاس بلانے سے اتفاق کیا ہے۔

تاہم اس بیان میں یہ نہیں بتایا گیا کہ یہ منصوبہ کب پایہ تکمیل کو پہنچے گا۔ واضح رہے کہ اسلام آباد کی گذشتہ حکومت نے ملک میں جاری ایندھن کے بحران پر قابو پانے کے لیے ایران سے قدرتی گیس درآمد کرنے کے لیے یہ معاہدہ کیا تھا لیکن اس نے ابھی تک فنڈز کی عدم دستیابی کی وجہ سے اپنے حصے کی گیس پائپ لائن نہیں بچھائی ہے۔

واضح رہے کہ امریکا ساڑھے سات ارب ڈالرز مالیت کے اس منصوبے کی مخالفت کرتا رہا ہے لیکن حال ہی میں ایران اور چھے بڑی طاقتوں کے درمیان جوہری پروگرام کو رول بیک کرنے سے متعلق ابتدائی سمجھوتے کے بعد پاکستان نے ایک مرتبہ پھر اس منصوبے کو جلد پایہ تکمیل کو پہنچانے کا اعلان کیا ہے۔

پاکستان ماضی میں امریکا کی ایران پر عاید اقتصادی پابندیوں کی وجہ سے بھی اس منصوبے پر عمل درآمد میں پس وپیش سے کام لیتا رہا ہے کیونکہ اسے امریکی حکام کی جانب سے خبردار کیا گیا تھا کہ اگر اس نے اس منصوبے پر عمل درآمد کیا تو یہ امریکی پابندیوں کی خلاف ورزی ہوگی۔

دوسری جانب ایران کروڑوں ڈالرز کی لاگت سے پاکستان کی سرحد تک نوسو کلومیٹر طویل گیس پائپ لائن بچھا چکا ہے۔معاہدے کے تحت ایران آیندہ سال سے پاکستان کو روزانہ دو کروڑ پندرہ لاکھ کیوبک میٹر گیس برآمد کرے گا۔