.

شمالی وزیرستان میں جھڑپیں اور بمباری، ہلاکتوں کی تعداد40 ہو گئی

سکیورٹی فورسز کی میرعلی میں خودکش بم دھماکے کے بعد جنگجوؤں کے خلاف بڑی کارروائی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان کے وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں سکیورٹی فورسز کی مشتبہ طالبان جنگجوؤں کے ٹھکانوں پر بمباری اور جھڑپوں میں مرنے والوں کی تعداد چالیس ہو گئی ہے۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ مرنے والوں میں زیادہ تر عام شہری ہیں۔

پاکستانی سکیورٹی فورسز اور جنگجوؤں کے درمیان وزیرستان کے قصبے میر علی اور اس کے آس پاس بدھ کی شام سے جھڑپیں جاری ہیں۔ جنگجوؤں نے میرعلی میں ایک چیک پوائںٹ پر خودکش بم حملہ کیا تھا جس کے نتیجے میں پانچ فوجی شہید ہو گئے تھے۔ اس حملے کے بعد سکیورٹی فورسز نے علاقے میں ایک بڑی کارروائی شروع کی تھی جس میں توپ خانے اور فضائی قوت کا بھی استعمال کیا جا رہا ہے اور پاک آرمی کے ہیلی کاپٹر مشتبہ جنگجوؤں کے ٹھکانوں پر گولہ باری کررہے ہیں۔

جمعہ کو دو ہوٹلوں کے تباہ شدہ ملبے سے چار مزید لاشیں نکالی گئی تھیں جس کے بعد مرنے والوں کی تعداد بڑھ کر چالیس ہو گئی ہے۔ان ہوٹلوں میں جنگجوؤں نے مبینہ طور پر پناہ لے رکھی تھی اور وہ سکیورٹی فورسز کی بھاری گولہ باری کی زد میں آ گئے تھے۔

پاک فوج کا کہنا ہے کہ اس تمام کارروائی میں مرنے والے طالبان جنگجو ہیں لیکن مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ ہوٹلوں پر بمباری سے مرنے والوں میں زیادہ تر ٹرک ڈرائیورز تھے جو علاقے میں منگل سے نافذ کرفیو کے بعد وہیں پھنس کررہ گئے تھے۔

شمالی وزیرستان سے تعلق رکھنے والے رکن پارلیمان نذیر خان وزیر کا کہنا ہے کہ مرنے والوں اور زخمیوں میں زیادہ تر جنگجو نہیں ہیں بلکہ عام بے گناہ شہری ہیں۔اس وقت لوگوں کو بہت کٹھن حالات کا سامنا ہے اور وہ اپنے گھروں ہی میں پھنس کر رہ گئے ہیں۔

انھوں نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ گولہ باری سے دسیوں مکانات تباہ ہو چکے ہیں۔ انھوں نے حکومت سے بمباری بند کرنے کی اپیل کی ہے تاکہ لوگ مرنے والے اپنے پیاروں کی تدفین کر سکیں اور زخمیوں کو اسپتالوں میں منتقل کر سکیں۔