.

وزیراعظم پاکستان کی طالبان کو مذاکرات کی ایک اور پیش کش

طالبان سے بات چیت کے لیے چار رکنی کمیٹی کا قیام،اپوزیشن لیڈروں سے تجاویز طلب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان کے وزیراعظم میاں نوازشریف نے طالبان جنگجوؤں کے ساتھ دہشت گردی کے حالیہ حملوں کے باوجود امن بات چیت کا اعلان کیا ہے اور اس مقصد کے لیے ایک چار رکنی کمیٹی قائم کی ہے۔

پارلیمان کے ایوان زیریں قومی اسمبلی میں بدھ کو خطاب کرتے ہوئے میاں نواز شریف نے کہا کہ ان کی حکومت امن کو ایک اور موقع دینا چاہتی ہے۔انھوں نے قومی امور پر اپنے مشیر اور معروف کالم نگار عرفان صدیقی ،معروف تجزیہ کار رحیم اللہ یوسفزئی ،سابق سفیر اور افغان امور کے ماہر رستم شاہ مہمند اور انٹر سروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) کے سابق اہلکار ریٹائرڈ میجر امیر شاہ پر مشتمل کمیٹی کا اعلان کیا جو طالبان جنگجوؤں سے مذاکرات کرے گی۔

وزیرداخلہ چودھری نثار علی خان اس کمیٹی کی معاونت کریں گے۔وزیراعظم نے کہا کہ وہ خود اس کمیٹی کی کارکردگی کی نگرانی کریں گے۔انھوں نے بتایا کہ رستم شاہ مہمند کو کمیٹی میں صوبہ خیبر پختونخوا کی حکومت کی سفارش پر شامل کیا گیا ہے اور ایک طرح سے وہ صوبے کی حکمراں پاکستان تحریک انصاف کی نمائندگی کریں گے۔

میاں نواز شریف نے ٹیلی ویژن سے براہ راست نشر کی گَئی تقریر میں طالبان جنگجوؤں سے کہا کہ وہ بھی جنگ بندی کی پاسداری کریں۔انھوں نے کہا کہ وہ مخلصانہ انداز میں ملک میں قیام امن کے لیے کوشاں ہیں۔انھوں نے اس توقع کا اظہار کیا کہ دوسرا فریق بھی اسی انداز میں ردعمل ظاہر کرے گا۔

ان کی اس تقریر سے قبل یہ قیاس آرائیاں بھی کی جارہی تھیں کہ وہ مسلح افواج کو طالبان جنگجوؤں کے خلاف بھرپور طاقت کے استعمال کا حکم دیں گے اور اس سلسلے میں ان پر بعض حلقوں کی جانب سے دباؤ بھی ڈالا جارہا تھا لیکن انھوں نے کسی فوجی کارروائی سے قبل ایک مرتبہ پھر امن مذاکرات کو ایک اور موقع دینے کا اعلان کیا ہے اور کہا ہے کہ اگر فوجی کارروائی کا فیصلہ کیا گیا تو تمام ریاستی ادارے حکومت کا ساتھ دیں گے۔

قبل ازیں انھوں نے اراکین پارلیمان سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ''دہشت گردی کی کارروائیوں کا خاتمہ ہونا چاہیے۔دہشت گردی اور مذاکرات اکٹھے ساتھ ساتھ نہیں چل سکتے۔انھوں نے کہا کہ امن انتخاب نہیں بلکہ حتمی منزل ہے اور حکومت کسی بھی قیمت پر اس منزل تک پہنچنا چاہتی ہے۔

میاں نواز شریف نے کہا کہ ان کی حکومت اپنی سرزمین پر امریکی ڈرون حملے رکوانے کے لیے ہر ممکن کوششیں کررہی ہے لیکن ان ڈرون حملوں کے ردعمل میں دہشت گردی کی کارروائیوں کو جاری رکھنے کا کوئی جواز نہیں ہے اور بے گناہ لوگوں کے قتل پر کوئی رورعایت نہیں برتی جاسکتی۔انھوں نے حزب اختلاف کے لیڈروں سے بھی کہا کہ وہ طالبان سے مذاکرات کے لیے اپنی تجاویز پیش کریں۔

پاکستانی وزیراعظم کے اس اعلان سے قبل ہی طالبان جنگجوؤں نے ملک کے سب سے بڑے شہر کراچی میں بم حملوں میں پیراملٹری دستوں کو نشانہ بنایا ہے اور ان کے حملوں میں تین رینجرز مارے گئے ہیں۔

کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے ترجمان شاہد اللہ شاہد نے صحافیوں سے کسی نامعلوم مقام سے گفتگو کرتے ہوئے ان بم حملوں کی ذمے داری قبول کر لی ہے۔ترجمان نے کہا کہ طالبان نے وفاقی حکومت کی جانب سے قائم کردہ مذاکراتی کمیٹی کے جائزے کے لیے شوریٰ کونسل کا اجلاس طلب کر لیا ہے۔انھوں نے کہا کہ طالبان فضل اللہ کی قیادت میں متحد ہیں اور ان میں اختلافات کی افواہیں بے بنیاد ہیں۔